تہذیب کی کہانی کی چھٹی جلد پانچ حصوں پر مشتمل ہے:
- کتابِ اوّل: وِیکلف سے لُوتھر تک (1300ء تا 1517ء)
- کتابِ دوم: مذہبی انقلاب (1517ء تا 1564ء)
- کتابِ سوم: اجنبیوں کا داخلہ (1300ء تا 1566ء)
- کتاب چہارم: پردے کے پیچھے
- کتاب پنجم: ردِ اصلاح (1517ء تا 1565ء)
اِس جلد میں زیرِبحث صدی پانچ چھے قسم کے انقلابات سے عبارت تھی۔ اِس کتاب سے پہلے اُردو قارئین نے شاید ہی کبھی تصور کیا ہو کہ تاریخ کی یہ صدی اتنی اہم ہے اور اِس میں اقوام، ممالک، قبیلوں، عقائد اور تہذیبوں کے درمیان ایسا ڈراما رچا ہوا ہے۔ یہ ڈراما مکمل نہیں، بلکہ تاریخ کے مجموعی ڈرامے کا ایک نہایت جان دار ایکٹ ہے۔ پہلی پانچ جلدوں میں ہم دیگر ایکٹ دیکھ چکے ہیں۔
اِس صدی کے آغاز پر امریکہ دریافت ہو چکا تھا۔ نتیجتاً یورپ اور باقی کی ’’پرانی‘‘ دنیا نئی دنیا سے آنے والی چیزوں، اور لوگوں سے متعارف ہوئی اور نئی دنیا کے عسکری ٹیکنالوجی سے عاری باشندے صدیوں بعد ریت کی دیوار کی طرح مسمار ہو گئے۔ 1492ء کے بعد دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور انقلابات کا آغاز ہوا جن کی بنیادیں گزشتہ ’’عصرِ ایمان‘‘ (جلد چہارم) سے منسلک تھیں۔ امریکہ کی دریافت کے انقلاب نے ایسی اقوام کو سرفراز کیا جو پہلے نسبتاً غیر اہم تھیں۔ پرتگالی، ہسپانوی اور ڈچ جہاز رانوں نے ہندوستان تک جانے کے راستے دریافت کیے جس کے نتیجے میں زمینی تجارتی راستے پر واقع علاقے نسبتاً غیر اہم ہو گئے۔ مغربی ممالک میں مشرق کے مصالحے وافر انداز میں دستیاب ہوئے اور مشرق کے مختلف ممالک (بشمول ہندوستان) ابتدائی نوآبادیوں کی صورت اختیار کرنے لگے۔ راہبوں اور مرتاضوں کے ذریعے مسیحیت بھی ہندوستان میں متعارف ہوئی۔
دوسرا بڑا انقلاب تجارت اور مالیات کے شعبے میں تھا۔ اِسی عہد میں کاغذی زَر متعارف ہوا، کرنسی کے نظام بنے، بینکاری کی بنیاد پڑی، کیونکہ یہ مذکورہ بالا دریافت کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تجارت کے لیے ناگزیر تھے۔ کمپنیاں، بینک، مالیاتی ادارے، سودی کاروبار کے اصول، وغیرہ ہمارے سامنے بنتے اور ترمیم و تغیر سے گزرتے ہیں۔
تیسرا انقلاب، یعنی پرنٹنگ پریس کی ایجاد شاید پہیے اور لوہے کے بعد انسانی تاریخ کے نہایت نمایاں انقلابات میں سے ایک ہے۔ اِس نے کلیسا کی جڑیں ہلا کر رکھ دِیں۔ کیونکہ اب مذہبی تعلیم اور عقیدے کی تشریح پر پوپ یا دیگر اسقفوں (بشپس، کارڈینلز، پادریوں) کا اجارہ نہ رہا۔ فرد اپنی مرضی سے بائبل کی تشریح کرنے کو آزاد ہو گیا۔ ٹھپوں کے ذریعے تصاویر کتابوں کا حصہ بنیں جس نے آرٹ کا ایک نیا شعبہ پیدا کیا، ٹائپ سیٹ کے اصول، فونٹ اور اصلاحات بنیں۔ اشاعتوں پر پابندیوں کی فہرستیں بھی اِسی دور میں سامنے آئیں، کیونکہ حکام صحائف کی تعبیروں پر اجارہ رکھنا چاہتے تھے۔
یہ عدالتِ احتساب کے منفی ’’انقلاب‘‘ کا دور بھی تھا۔ زندگی کے ہر پہلو پر توہم پرستی کا راج تھا۔ نظرِ بد، بدشگون، وباؤں سے متعلقہ توہمات وغیرہ عام تھیں۔ عدالتِ احتساب بھی اِنہی ناقابلِ توجیہہ توہمات کی بنیاد پر اور مذہبی بدعت کو کچلنے کے لیے قائم ہوئی۔ مذہبی احتساب ایک بیماری کی طرح یورپ کے مختلف معاشروں میں پھیلا اور سپین میں اپنی بدترین صورت کو پہنچا۔ چڑیلوں اور بدعتیوں کا جلایا جانا، تاریخ کا ایک گھناؤنا باب ہے۔
پانچواں انقلاب طب اور سائنس میں آیا۔ انسانی جسم کو پہلی مرتبہ چیر پھاڑ کر دیکھا گیا۔ اناٹومی اور ہڈیوں، خون کی گردش اور بیماریوں کے اسباب پر تحقیق ہوئی، الکیمیا سے کیمیا کی طرف سفر تیز ہوا۔ ہمیں کوپرنِیکس ملا جس نے علم نجوم سے فلکیات کی طرف چھلانگ میں ایک اہم مرحلہ سر کیا۔
چھٹا اور مرکزی انقلاب کیتھولک کلیسا کی بدعنوانیوں، بے راہ روی، مغفرت فروشی، عیاشی، عوامی استحصال کے خلاف پروٹسٹنٹ تحریک کی شکل میں تھا جو دو سو سال تک انگلینڈ، جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک میں جاری رہا اور خود بھی کسانوں کی حالتِ زار کا نتیجہ تھا۔ مارٹن لُوتھر اور اِیرازمَس اِس تحریک کے مرکزی کردار تھے جو ساری جِلد میں جابجا ملتے ہیں۔

