جلد اول: ہمارا مشرقی ورثہ
ول ڈیورانٹ پہلی جلد کا آغاز یہ بتانے سے کرتا ہے کہ کون سے عناصر تہذیب کا آغاز کرنے میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ اقتصادی (شکار، زراعت اور صنعت)، سیاسی (حکومت، ریاست، قانون، خاندان)، اخلاقی (شادی، جنسی و سماجی اخلاقیات) اور مذہب کے عناصر پر روشنی ڈالتا ہے۔ پھر اُس نے مذہب، جادو، تہواروں، رسوم، سائنس کے آغاز پر بات کرتا ہے۔ مذہب اور حکومت کے تعلق کا موضوع بھی زیرِ بحث آیا۔ یہ حصہ نہایت دلچسپ ہے اور ایک طرح سے قاری کے ذہن کو طے شدہ تصورات اور محدوو متعصب سوچ ایک طرف رکھنے کے قابل بناتا ہے۔
تہذیب کے ذہنی عناصر: وہ تہذیب کے ذہنی عناصر کو زیرِ بحث لاتا ہے: علم و فضل (زبان، تحریر، شاعری)، سائنس (فلکیات، طب، سرجری)، آرٹ (حسن اور زیبائس، مصوری، مجسمہ سازی، رقص اور موسیقی)۔ اِن بنیادی عناصر کی وضاحت کرنے اور بحث کی بنیادیں رکھنے کے بعد وہ انسانی تاریخ کے ادوار اور فنون، ثقافت، جانوروں کو سدھانے، کپڑا بننے اور زراعت کی ترقی کے متعلق بیان کرتا ہے۔ تب تاریخی دور شروع ہوتا ہے: یعنی دھاتوں کے استعمال کا آغاز، تحریر، اور تہذیب کی آماجگاہیں۔
سومیریہ اور مصر: تب تاریخی و تہذیبی بیان کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ کتاب اول مشرقِ قریب کے بارے میں، یعنی سومیریہ اور ایلام جہاں کمہار کا چاک اور پہیہ ایجاد ہوئے۔ ہم اکاد کے پہلے تاریخی بادشاہ سارگون اول کا عہدِ زریں دیکھتے ہیں۔ تہذیب کے اِس گہوارے میں حکومت، مذہب، فنون، اور سیاسی نظام کے متعلق بتایا گیا ہے، اور یہی روش باقی ہر تہذیب کے متعلق بھی روا رکھی گئی۔ پھر ہم مصر کی قدیم تہذیب میں پہنچتے ہیں۔ سکندریہ، دریائے نیل، اہرام، ابوالہول، مصری ملکائیں، مصری تہذیب کی دریافت کا عمل، قدیم بادشاہتیں، فراعین، طور طریقے، شادی اور جنسی چال چلن، آداب، کھیلیں، لباس اور زیور، اور سب سے بڑھ کر مصری ادب اور سائنس۔ دیوتاؤں کا باضابطہ آغاز بھی مصر میں ہوتا ہوا ملتا ہے: آسمان کے دیوتا، سورج دیوتا، حیوانی دیوتا، جنسی دیوتا – انسانی دیوتا…..۔
بابلیہ اور اشوریہ: لیکن بابلیہ میں حمورابی کا ضابطۂ قانون اِنسان تہذیب کو حقیقی معنوں میں تہذیب بناتا ہے۔ مصف نے بابلی دیوتاؤں، اخلاقیات، ادب، آرٹس، سائنس کو تفصیل سے بیان کیا، کیونکہ بعد میں اِنہی کا دیگر علاقوں میں ظہور ہونا تھا۔ ہم گِل گامش کی داستان سے روشناس ہوتے اور اشوریہ کی تہذیب کی طرف بڑھ جاتے ہیں جہاں اشور بنی کا کتب خانہ ملتا ہے۔ مخلوط اقوام بھی تاریخ کے منظر پر اُبھرتی ہیں: مِتانی، حِتی، آرمینیائی، سیئتھی، فریجیائی، اہلِ لیڈیا اور سامی۔
یہودیہ اور فارس: اگلے مرحلے میں یہودیہ کی تہذیب میں آتے ہیں۔ فلسطین، آل ابراہیم، عبرانی پیغمبر اور اسرائیل، بائبل اور عبرانی مذہب کی تشکیل۔ اب قدیم مشرقی دیوتا اپنا روپ بدلنا شروع کرتے ہیں۔ فارس میں ساردیس اور داریوش جیسے عظیم بادشاہ آتے اور ایمپائرز بنتی ہیں۔ زرتشت خیر اور شر کی قوتوں کی تشریح کرتا ہے۔ سکندر کی آمد تک کا فارس ہمارے سامنے جیتا جاگتا ہے۔
ہندوستان اور اُس کے پڑوسی: مصنف قدیم ہندوستانی تہذیب پر روشنی ڈالتا ہے۔ موہنجودڑو، اور ہند-آریائی معاشرہ، ویدک مذہب اور اُپنشد؛ گوتم بدھ اور ناستک مذاہب، مہاویر اور جین مت کی تحریک؛ سکندر سے اورنگ زیب تک، چندر گُپت موریہ، ٹیکسلا اور کوٹلیہ چانکیہ، اشوک اور گپت راج، فاہیان اور ہوان تسانگ کا بیان۔ مصنف نے مسلم تسخیر پر بھی تفصیل سے بات کی: محمود غزنوی اور سلطنتِ دہلی، تیمور لنگ، بابر، اکبر، مغلوں کا زوال، جہانگیر سے اورنگ زیب تک۔ ول ڈیورانٹ نے ہندوستان کی عقلی حیات، فلسفوں اور علوم کے علاوہ ادب پر بھی روشنی ڈالی۔ مہابھارت اور گیتا، رامائن اور شکنتلا، تلسی داس اور کبیر۔ وہ انگریزوں کی آمد اور گاندھی تک آتا ہے۔
مشرقِ بعید: چین اور جاپان: یہ حصہ ایسی دو تہذیبوں کے متعلق ہے جن کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ وہ چینیوں کی بادشاہتوں سے آغاز کرتا اور کنفیوشس، لاؤزے، تاؤ مت اور مو-تی سے ہوتے ہوئے مینسئس، سن تزو اور دیگر شعرا پر بات کرتا ہے۔ چینی آرٹ، ظروف اور ادب پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مارکو پولو، چنگیز خان، بارود کی ایجاد بھی موضوع بنے۔ اہم ترین دور چین میں انقلاب اور تجدید کا ہے جو یورپی اقوام کی آمد سے شروع ہوا اور پھر ایک نئے عہد کی بنیاد رکھی گئی۔ جاپان کے باب میں وہاں کی داستانِ تخلیق اور افسانوی کرداروں کا بیان ہے۔ پھر شنتو مت، بدھ مت، مختلف شہنشاہوں کے دور، سمورائی، شوگن، اور مفکرین زیرِ بحث آتے ہیں۔ زبان، تحریر، تعلیم، فکشن، ’گینجی کی کہانی،‘ تھیٹر، موسیقی اور رقص، مجسمے اور تلواریں بنانے کے فنون مذکور ہیں۔ چین اور ہندوستان کی طرح جاپان کی تاریخ بھی بیسویں صدی تک آتی ہے: سیاسی، صنعتی، ثقافتی انقلاب اور نئی سلطنت، جاپان کا جنگ کی طرف جانا۔

