مفکر، سیاسی شخصیت، معلم اور چینی فکر کے مکتب ’’Ru‘‘ کا بانی کنفیوشس (571 تا 479 قبل مسیح) چینی تاریخ میں ایک نہایت اہم آدمی ہے۔ ’’گلدستۂ تحریر‘‘ (Analects) کی صورت میں موجود اس کی تعلیمات نے بعد کی صدیوں میں تعلیم اور مثالی انسان کے متعلق چینی افکار کی بنیاد مہیا کی۔ بیسویں صدی کا ایک اہم چینی مؤرخ فنگ یو لان چینی تاریخ پر کنفیوشس کے اثرات کو مغرب میں سقراط کے اثرات جیسا قرار دیتا ہے۔
کنفیوشس کی زندگی کے متعلق دستیاب معلومات میں فسانے کو حقیقت سے الگ کرنا بہت مشکل، بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ چنانچہ زیادہ تر معلومات کو محض افسانہ خیال کرنا ہی بہتر ہوگا۔ دوسری صدی عیسوی کے اختتام پر کنفیوشس کے گرد موجود متعدد حکایات ہان سلطنت کے درباری مؤرخ نے اپنی کتاب’Shiji‘ میں شائع کیں۔ یہ مجموعۂ حکایات کنفیوشس کے اجداد کو شاہی ریاست سونگ کے ارکان بتاتا ہے۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ کیسے کنفیوشس کے والدین نے مقدس پہاڑی Ni پر جا کر اس کی پیدائش کے لیے دعائیں کی تھیں۔
یہ کتاب اردو زبان میں کنفیوشس کے اقوال کا پہلا ترجمہ ہے۔ اس ترجمہ کا آغاز کرتے وقت میرے پاس صرف جیمز لیگی (James Legge) کا کیا ہوا انگریزی ترجمہ موجود تھا جو 1884ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ یہ ترجمہ اپنی جگہ مستند اور تاریخی اہمیت کا حامل سہی، لیکن مجھے Toyo Gakuen یونیورسٹی کے چارلس مولر کا ترجمہ زیادہ بہتر معلوم ہوا جس میں ضروری حواشی اور وضاحتی نوٹ دینے کے ساتھ ساتھ کنفیوشس کی فکر سے غیر متعلقہ اضافی باتوں کو حذف بھی کیا گیا تھا۔ اردو ترجمہ میں بھی چارلس مولر کی پیروی کی گئی۔ مترجم مذکور نے انگریزی کے حوالے سے کچھ اصطلاحات کی وضاحت کی تھی، جبکہ میں نے اردو کی اصطلاحات کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، ترجمہ میں لیگی اور چارلس مولر دونوں کے انگریزی تراجم کو سامنے رکھا گیا۔

