جلد دوم: قدیم یونان

دوسری جلد، ’’قدیم یونان‘‘ میں تہذیب کی ابتدا سے لے کر چوتھی صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کی موت اور یونانی تہذیب کے زوال تک کے عرصے پر محیط یہ جلد پانچ حصوں یا کتب پر مشتمل ہے۔

پہلے حصے میں مصنف نے جغرافیائی بیان اور کریٹ میں تہذیب کی ابتدا سے آغاز کیا۔ وہ آگامیمنن سے پہلے کے دور، ٹرائے، سورمائی عہد کے قدیم ہیروز، اور ہومری تہذیب کے متعلق بتاتا ہے اور اٹھارھویں صدی میں اِس کی دریافت کا دلچسپ عمل بھی بیان کرتا ہے۔

دوسرا حصہ یونان کا ظہور (1000 تا 480 ق-م) سامنے لاتا ہے: سپارٹا، لائیکرگس، کورِنتھ، میگارا، ایجینا اور ایپی ڈورس۔ پھر ہم ایتھنز میں ہسیاڈ، ڈیلفی، ایٹیکا سے متعارف ہوتے ہوئے سولون کے یونان تک پہنچتے ہیں جہاں ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت کے تصورات نے جنم لیا۔ آیونیا اور مائی لیٹس میں یونانی فلسفے کا جنم ہوتا ہے: سیموس کا پولی کریٹیز، ایفی سس کا ہیراکلیٹس، ٹیوس کا اَیناکریون، لسبوس کی ساپفا (سیفو)۔ پھر یونان کی شمالی بادشاہت میں کروٹونا کا فیثاغورث، ایلیا کا زینوفنیز آتے ہیں۔ مصنف نے یونانی دیوتاؤں، رمزیہ ناٹکوں، توہمات، عبادات، استخارہ گاہوں، تہواروں اور مذہب کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ قدیم یونان کے علم و فضل، کھیلوں، فنون، فنِ تعمیر، موسیقی اور رقص، ادب اور ڈراما پر روشنی ڈالتا ہے۔ پھر میراتھن میں آزادی کی جنگ لڑی جاتی ہے فارسی بادشاہ کے ساتھ لڑائی کا ذکر ہے۔

تیسرا حصہ یونان کے عہدِ زریں (480 تا 399 ق-م) پر مشتمل ہے: پیریکلیز اور جمہوری تجربہ، ایتھنز کا ظہور، پیریکلیز، ایتھنی جمہوریت میں قانون اور انصاف، صنعت و تجارت، آزاد اور غلام، طبقات کی جنگ۔ تب یونانی مجسمہ گری اور پینٹنگ کے ذریعے زندگی کی آرائش شروع کرتے ہیں، فیڈیاس کے فن پارے اور پارتھینون جیسے معبد وجود میں آتے ہیں۔ اِسی عہدِ زریں میں علم و فضل کی ترقی ہوئی اور اناکساگورس، بقراط جیسے نام سامنے آئے۔ فلسفہ اور مذہب کے تصادم نے مثالیت پسندوں اور مادیت پسندوں کے ہاں عقلی بیداری پیدا کی: اَیمپی ڈوکلیز، سوفسطائی، سقراط۔ اِس عہدِ زریں کا لاجواب ادب بھی معرض ِ وجود میں آیا: پِنڈار، اَیسکائی لس، سوفوکلیز، یوری پیڈیز، ارسٹوفنیز، اور تاریخ نگار ہیروڈوٹس اور تُھوسیڈڈیز۔ سقراط کی موت کے ساتھ ہی یونان سیاسی خود کشی کرتا ہے۔

چوتھا حصہ یونانی آزادی کے انحطاط اور انہدام (399 تا 322 ق-م) کے متعلق ہے۔ اہل سپارٹا اپنی فتح کے بعد ایمپائر بناتے ہیں اور سیراکیوز کو عروج ملتا ہے۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں علم و فن کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور ہم ڈیموستھنیز، آئسوکریٹیز، زینوفون، ایپلیز، پراکسِتلیز سے ملتے ہیں۔ سیاسی انحطاط کے باوجود سائنس دان اور فلسفی آتے رہتے ہیں: سقراطی مکاتب، ارِسٹی پَس، ڈایوجنیز، افلاطون اور ارسطو کا عہد۔ فلپ کا بیٹا سکندر فتوحات شروع کرتا اور ہندوستان اور فارس تک پہنچنے کے بعد وفات پاتا ہے جس کے ساتھ ہی ایک عہد اختتام پذیر ہوتا ہے۔

VI- ایک عہد کا خاتمہ

پانچواں حصہ ہیلینی تہذیب کا پھیلاؤ (322 تا 146 ق-م) بیان کرتا ہے جب یونان کی مرتی ہوئی تہذیب بھی اجتماعی انسانی عقلی ورثے میں حصہ داری کر رہی تھی۔ یونان اور مقدونیا میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی، اخلاقیات کو زوال آیا، اور تہذیب دیگر خطوں میں منتقل ہونے لگی۔ سکندریہ کو عروج ملتا ہے، اور سسلی میں سورج غروب ہوتا ہے۔ مینانڈر، تھیوکریٹس اور پولی بیئس آتے ہیں۔ عہد انتشار میں مصوری اور سنگ تراشی جاری رہتے ہیں۔ یونانی سائنس یوکلیڈ اور اپالونیئس، ارشمیدس اور ارِسٹارکس، ہِپارکس، ایراتوستھنیز، تھِیوفراسٹس، ہِیروفیلس سے فیض یاب ہوتی ہے۔ فلسفہ اپنا دامن سمیٹ لیتا اور تشکیک پسندی خصوصی ہدف بنتی ہے۔ بے نیازی اور لذت پرستی کے فلسفے عام ہوتے ہیں اور مذہب کی طرف واپسی کی راہ لی جاتی ہے۔ تب روم ظہور پانے لگتا اور فتح مند ہوتا ہے۔ یوں ہم تیسری جلد کی طرف بڑھتے ہیں۔

صفحات 900 قیمت: 4000 روپے