جلد پنجم: حیاتِ نو

گزشتہ جلد میں ہم نے دیکھا کہ عقل اور عقیدے کی لڑائی میں کوئی ایک فیصلہ کن صورت نکلنے کی بجائے نئی سمتوں میں تبدیلیاں شروع ہوئیں۔ سابق رومن سلطنت کے علاقوں اور سپین، فرانس، جرمنی، اٹلی وغیرہ میں مسلم اور مسیحی فلسفے کے مختصر عہد نے ایک فکری خلا پیدا کیا۔ چودھویں اور پندرھویں صدی میں ہمیں یورپ میں کوئی قابلِ ذکر فلسفی، عظیم ادیب، ریاست کار، قانون ساز، یا فاتح نہیں ملتا۔ میکیاویلی نے اِس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی، مگر وہ کسی وسیع تر انسانی فکری استدلال کی بجائے اپنے عہد کے سیاسی جوڑ توڑ، گِراوٹ، مذہبی ریاکاری اور سماجی استحصال کا ہی آئینہ تھا۔

’’تہذیب کی کہانی‘‘ کی یہ جلد آپ کو آرٹ کی دنیا سے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ آرٹ کو دیکھنے اور سراہنے کا طریقہ بھی سکھاتی ہے۔ یہ ہمارے ذوق کی حیاتِ نو ہو گی۔ تفہیم حاصل ہونے پر آپ کو لگے گا کہ یہ سب مفاہیم تو بس ہمیشہ سے یہاں موجود تھے، بس آپ نے ادراک کر کے اُنھیں نئی زندگی دی ہے۔ آرٹ خود کو دیکھنے والی عمیق اور باذوق نظر سے اِس کے سوا کچھ بھی تقاضا نہیں کرتا۔

تہذیب کی کہانی کی یہ جلد پانچ حصوں یا ’’کتب‘‘ پر مشتمل ہے:

کتابِ اوّل: تمہید (1300ء تا 1377ء): ول ڈیورانٹ نے آغاز انسانیت پسند شاعر پیٹرارک سے کیا جس نے پہلی بار اطالوی کو ذریعۂ اظہار بنایا۔ وہ نشاۃ ثانیہ کا بانی اور ملک الشعرا تھا۔ اِسی دور میں جوتتو جیسے مصور اور ’ڈیکیمرون‘ جیسی کہانیوں کا ظہور ہوا۔ سیئینا، مِیلان، وِینس اور جینوآ چودھویں صدی کی شفق میں نمودار ہوئے۔ پاپائیت کی دنیا داری نے پوپس کو آپس میں لڑانا شروع کر دیا۔

کتاب دوم: فلورنس کی نشاۃ ثانیہ (1378ء تا 1534ء): مشہور میڈی خاندان کو عروج ملا جس کے حکمرانوں نے فنِ تعمیر، سنگ تراشی اور مصوری کی حوصلہ افزائی کی۔ سنگ تراش گِبرٹی، ڈوناٹیلو اور لُوقادیلا روبیا جبکہ پینٹنگ میں ماساچو، فرا آنجیلیکو اور فرا فِلیپو لِیپی نے کام کیا۔ یہ سارا آرٹ لورینزو کے عہد میں اپنے عروج پر پہنچا اور ہمیں گیرلاندایو اور بوتی چیلی جیسے مصور دیکھنے کو ملے۔ لیکن ساتھ ساتھ عقائد کی کشمکش نے ساوونارولا کو ابھارا۔

کتاب سوم: اطالوی شان و شوکت (1378ء تا 1534ء): میلان میں سفورتزا سلطنت قائم ہوئی اور لیونارڈو دا وِنچی نے کام شروع کیا جو موجد، سائنس دان، سنگ تراش اور مصور بھی تھا۔ فیرارا، وِینس اور پیڈوآ میں بھی نشاۃ ثانیہ نے آرٹ اور فنِ تعمیر کے ذریعے سے فروغ پایا۔ بیلینی سے جورجونے، ٹِیشن اور بیمبو تک آرٹسٹوں کا ایک پورا سلسلہ کام میں مشغول ہوا۔ نیپلز کی سلطنت (1378ء تا 1534ء) نے بلند نظر الفونسو پیدا کیا۔

کتاب چہارم: رومن نشاۃ ثانیہ (1378ء تا 1521ء): کلیسا میں بحران (1378ء تا 1447ء) کی ابتدا ہوئی اور پاپائیت پھوٹ کا شکار ہوئی۔ کلیسائی مجالس نے چپقلش کو مزید بڑھایا۔ روم پر نشاۃ ثانیہ کا غلبہ ہوا اور پوپس بھی اِس کے رنگ میں رنگے گئے۔ بورجا حکمرانوں (1492ء تا 1503ء) کی طاقت منہدم ہوئی۔ پوپ جولیئس نے رافیل اور مائیکل اینجلو سے کام لیا۔ کلاسیکی آرٹ کی بازیابی شروع ہوئی۔

کتاب پنجم: انہدام: عقلی بغاوت (1300ء تا 1534ء) میں باطنی مسالک، سائنس، طب، فلسفہ اور سیاست کی صورت حال کا جائزہ۔ میکیاویلی اپنے عہد کے علاوہ تاریخ کے سیاسی اصول وضع کرتا اور اپنی کتاب ’’پرنس‘‘ لکھتا ہے۔ اِس حصے میں عدم اخلاقیات کے منبعے اور صورتیں، مذہبی طبقے کی اخلاقیات، جنسی اخلاقیات، VII- عوامی اخلاقیات، آداب اور تفریحات، ڈراما اور موسیقی کا بیان ہے۔ اِس کے سیاسی انہدام (1494ء تا 1534ء) واقع ہوتا اور فرانس اِٹلی کو دریافت کرتا ہے۔

کتاب ششم: اختتام (1534ء تا 1576ء): وِینس میں سورج غروب ہونے لگتا ہے۔ آریتینو، ٹِیشن، تِنتورَیتو اور وَیرونیسے اِسے نئی آب و تاب دیتے ہیں، لیکن نشاۃ ثانیہ کا زوال پذیر ہے۔ اٹلی اور فلورنس میں شام کے سائے ڈھلنے لگتے ہیں۔ تب ہم مائیکل اَینجلو کا آخری دور دیکھتے ہیں۔

صفحات 900 قیمت 4000