(William James Durant and Ariel Durant)

(1885-1981 & 1898-1981)

امریکی فلسفی، تاریخ دان اور مؤرخ وِل ڈیورانٹ اپنی بیوی ایریئل کے ساتھ مل کر لکھی ہوئی گیارہ جلدوں پر محیط ”دی سٹوری آف سویلائزیشن“ (تہذیب کی کہانی) کی وجہ سے جانے جاتے ہیں جس کی چھے جلدوں کا مکمل ترجمہ شائع ہو چکا ہے: پہلی جلد ’ہمارا مشرقی ورثہ، ‘ دوسری جلد ’قدیم یونان،‘تیسری جلد ’روم کا عروج اور مسیحیت،‘ چوتھی جلد ’عصرِ ایمان،‘ پانچویں جلد ’حیاتِ نو،‘ چھٹی جلد ’عہدِ اصلاح۔‘

وِل ڈیورانٹ میساچوسٹس میں جوزف ڈیورانٹ اور مَیری ایلارڈ کے ہاں پیدا ہوئے جو کیوبیک سے نقل مکانی کر کے یو-ایس آئے تھے۔ وِل ڈیورانٹ نے تاریخ، فلسفہ، سماجیات اور سیاسیات کے موضوع پر ہمارے نقطہ ہائے نظر میں توسیع لانے اور تفہیم کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔

1900ء میں اُنھوں نے سینٹ پیٹرزبرگ کے یسوعی مدرسے سے تعلیم مکمل کی اور پھر جرسی سٹی کے سینٹ پیٹرز کالج میں داخل ہوئے۔ 1905ء میں وہ سوشلسٹ بن گئے اور دو سال بعد گریجوایشن کی۔ اُنھوں نے ایک جریدے میں دو ڈالر فی ہفتہ تنخواہ پر نوکری کی اور بعد ازاں کئی جرائد میں جنسی مجرموں پر مضامین لکھے۔ 1907ء میں اُنھوں نے سٹین ہارل یونیورسٹی نیوجرسی میں لاطینی، فرانسیسی، انگلش اور جیومیٹری پڑھانا شروع کی۔ ڈیورانٹ کالج میں لائبریریئن بھی بنے۔

1911ء میں اُنھوں نے Ferrer ماڈرن سکول میں پڑھانے کی ملازمت اختیار کی۔ وہیں پر اُنھیں اپنے سے عمر میں تیرہ برس چھوٹی خاتون Chaya Kofman عرف ایریئل کے ساتھ محبت ہوئی اور شادی کر لی۔ اُن کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی اور اُنھوں نے ایک بیٹا بھی گود لیا۔ ایریئل نے ”تہذیب کی کہانی“ لکھنے میں وِل ڈیورانٹ کی متواتر مدد کی۔ 1913ء میں اُنھوں نے پڑھانے کی ملازمت چھوڑ دی اور پریسبی ٹیریئن چرچ میں پانچ دس ڈالر فیس پر لیکچر دینے لگے۔ اِن لیکچرز کے نوٹس ”تہذیب کی کہانی“ کا نقطۂ آغاز بنے۔

1917ء میں فلسفہ میں ڈاکٹریٹ ڈگری پر کام کرتے ہوئے وِل ڈیورانٹ نے اپنی پہلی کتاب ”Philosophy and the Social Problem“ لکھی۔ ”داستانِ فلسفہ“ کا آغاز مزدوروں کے لیے لکھے ہوئے مختصر پمفلٹوں کی صورت میں ہوا۔ 1926ء میں ایک بڑے امریکی پبلشر نے ان پمفلٹوں کو کتاب کی شکل دی۔ کتاب کو ملنے والی پذیرائی نے وِل ڈیورانٹ اور ایریئل ڈیورانٹ کو مالی فراغت دی اور دنیا بھر میں سفر کرنے کے قابل بھی بنایا۔ اُنھوں نے پڑھانا چھوڑا اور گیارہ جلدوں پر مشتمل ”تہذیب کی کہانی“ لکھنے میں لگ گئے۔

وِل اور ایریئل ڈیورانٹ نے نسل انسانی کی ’متحدہ تاریخ‘ پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ محققانہ نقطۂ نظر سے تاریخ لکھنے کے خلاف تھے۔ اُن کا مقصد تہذیب کی سوانح لکھنا تھا جس میں جنگوں، سیاست اور فاتحین کی زندگیوں کے علاوہ ثقافت، آرٹ، فلسفہ، مذہب وغیرہ بھی شامل ہوں۔

وِل ڈیورانٹ کی موت کے بعد اُن کی دو کتابیں ”The Greatest Minds and Ideas of All Time“ (2002ء) اور ”Heroes of History“ (2001ء) شائع ہوئی ہیں۔ دونوں میاں بیوی 1981ء میں چند دن کے وقفے سے یعنی 25 اکتوبر اور 7 نومبر کو فوت ہوئے۔ اُن کا ایک مشہور جملہ ”کوئی بھی عظیم تہذیب اُس وقت تک باہر سے فتح نہیں ہوتی جب تک وہ اندر سے خود کو تباہ نہ کر چکی ہو“ مَیل گبسن کی فلم ’Apocalypto‘ کے آغاز میں بولا گیا۔

وِل اور ایریئل ڈیورانٹ کی دیگر تصانیف درج ذیل ہیں:

  • The Story of Philosophy (1926)
  • Transition (1927)
  • The Mansions of Philosophy (1929)
  • The Case for India (1930)
  • Adventures in Genius (1931)
  • The Pleasures of Philosophy (1953)
  • The Lessons of History (1968)
  • Interpretations of Life (1970)
  • A Dual Autobiography (1977)
  • Heroes of History (2001)

’تہذیب کی کہانی‘ کی تمام گیارہ جلدوں کے عنوان یہ ہیں:

  1. Our Oriental Heritage
  2. Life of Greece
  3. Caesar and Christ
  4. The Age of Faith
  5. The Renaissance
  6. The Reformation
  7. The Age of Reason Begins
  8. The Age of Louis XIV
  9. The Age of Voltaire
  10. Rousseau and Revolution
  11. The Age of Napoleon