جلد چہارم: عصرِ ایمان

تہذیب کی کہانی کی یہ چوتھی جلد سب سے ضخیم ہے۔ اِس میں رومن سلطنت کے زوال کے بعد یورپ، عرب اور دنیا کے دیگر مہذب علاقوں میں تہذیبی وراثت اور ترکے کا دلچسپ کھیل پیش کیا گیا ہے۔ یہ پانچ حصوں میں ترتیب دی گئی ہے:

  • کتاب اوّل: بازنطینی اَوج (325ء تا 565ء)
  • کتاب دوم: اسلامی تہذیب (569ء تا 1258ء)
  • کتاب سوم: یہودیہ کی تہذیب (135ء تا 1300ء)
  • کتاب چہارم: تاریک دور (566ء تا 1095ء)
  • کتاب پنجم: مسیحیت کی اَوج (1095ء تا 1300ء)

پہلا حصہ: چوتھی صدی عیسوی یورپ میں تاریخ عہد کا آغاز تھا جو تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا اور جس کے بعد نشاۃ ثانیہ یعنی یونان اور روم کی دوبارہ پیدائش ہوئی۔ لیکن اجتماعی انسانی تہذیبی ورثہ ضمنی علاقوں میں منتقل ہو گیا اور پنپتا رہا۔ جولیئن اور قسطنطین نے چوتھی صدی میں ہی بازنطینی سلطنت کی بنیاد رکھ دی، لیکن سلطنت کو تقویت دینے والا مذہب بدعتوں اور فرقوں میں بٹا ہوا تھا۔ سینٹ آگسٹین نے مذہب کو منظم بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ مسیحیت نے یورپ کی صورت گری کی، بریٹین، آئرلینڈ، فرانس اور سپین کی اقوام تاریخ میں نمودار ہوئیں۔ جسٹینئن نے بازنطینی سلطنت کو مضبوط بنایا۔ یہاں ہم ایک بار پھر اہلِ فارس اور ساسانی معاشرے سے روشناس ہوتے ہیں۔

دوسرا حصہ اسلامی تہذیب کی سات صدیوں کا بیان ہے۔ مصنف نے پیغمبر اسلامﷺ اور اُن کے بعد عرب فتوحات، ثقافت اور تہذیب، کامیابیوں اور علوم کو احسن اور متوازن انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ خلفائے راشدین، اموی اور عباسی خلافت کو بیان کرنے کے بعد مشرقی اسلام میں عِلم وفضل، سائنس، طِب اور فلسفہ پر بات کرتا ہے۔ مغربی اسلام میں افریقہ، سپین کا تذکرہ ہے۔ اسلامی تہذیب کو ماند پڑنے میں دو سو سال لگے اور اسی دور سعدی، عمرخیام، الغزالی، ابن رشد آئے۔

تیسرا حصہ یہودیہ کی تہذیب یہودیہ کی تہذیب (135ء تا 1300ء) کا احاطہ کرتا ہے۔ ہم تالمود اور یہودوی شریعت بنتے ہوئے دیکھتے ہیں، قرونِ وسطیٰ کے یہودیوں کی کامیابیوں اور رجحانات سے روشناس ہوتے ہیں، ہمیں سامیت مخالفت کے اسباب اور یہودیوں کے ساتھ سلوک کا پتا چلتا ہے۔

چوتھا حصہ یورپ کے تاریک دورتاریک دور (566ء تا 1095ء) کا ایک جائزہ پیش کرتا ہے۔ ہیراکلیئس (ہرقل) بت شکنی کی تحریک شروع کرتا ہے، بازنطینی سلطنت زوال کا شکار ہوتی ہے، اب بلقان، روس، اٹلی، وِینس، فرانس میں جاگیرداری اور مذہبی نظام موضوع بحث بنتا ہے۔ انگلینڈ میں اینگلو ساکسن اور آئرش تہذیب کا جنم ہوتا ہے، سکاٹ لینڈ، وائیکنگ اور جرمنی تہذیب سے آشنا ہوتے ہیں۔ یورپ کی مسیحی تسخیر کا عمل خوب صورتی سے بیان کیا گیا۔ جاگیرداری اور سُورمائیت کے ضابطے ہمارے ادب اور آداب کی تشکیل کرتے ہیں۔

پانچواں حصہ مسیحیت کی اَوج (1095ء تا 1300ء) کا بیان ہے۔ بارھویں صدی میں آٹھ ناکام صلیبی جنگوں کے بعد اُن کا تجزیہ کیا گیا۔ پھر معاشی انقلاب کا تذکرہ ہے جس نے صنعت و تجارت، زر، سود اور پیشہ ورانہ انجمنوں کی نئی روش قائم کی۔ زرعی انقلاب طبقاتی کشمکش کو نئی صورت دیتا ہے۔ اور یورپ کی بحالی شروع ہوتی ہے: بازنطینی، آرمینیائی، روسی اور منگول، بلقان، جرمنی، سکینڈے نیویا، انگلینڈ، سپین، پرتگال، آئرلینڈ تاریخی دھارے کا حصہ بنتے ہیں۔ میگنا کارٹا اور قانون کی نشوونما شروع ہوتی ہے، جبکہ رومن کیتھولک کلیسا اپنی جڑیں مزید مضبوط بناتا ہے۔ خانقاہی زندگی پنپتی ہے اور مختلف راہبانیت پسند فرقے قائم ہوتے ہیں: سینٹ برنارڈ، سینٹ فرانسس، سینٹ ڈومینیک۔ گوتھک طرزِ تعمیر کا آغاز، مقامی بولیوں کا عروج، کتب کی دنیا، مترجمین، یونیورسٹیوں کا تذکرہ۔ علم الکلام کی پیش رفت، ٹامس اکوائینَس، مسیحی سائنس، البرٹَس میگنَس، ڈراما کا دوبارہ جنم، داستانیں اور قصے، ٹروباڈوز، عشقیہ شاعر، دانتے اور بِیٹریس، دی ڈیوائن کامیڈی، اور قرونِ وسطیٰ کی میراث۔

صفحات 1500 قیمت: 6000 روپے