جلد سوم: روم کا عروج اور مسیحیت
جب یونان کی تہذیب اپنی مدت پوری کر چکی یا زوال کا شکار ہوئی تو علم و فضل اور آرٹ کے علاوہ سیاسی غلبے کی مشعل روم کی طرف منتقل ہونا شروع ہوئی۔ منتقلی کا یہ عمل بھی صدیوں پر محیط تھا۔ رومن تہذیب اور ایمپائر بننے کے عمل میں وسیع خِطہ شامل تھا۔ ول ڈیورانٹ نے نہایت متنوع اقوام اور تہذیبی دھاروں کو خوب صورتی سے اِس جلد میں سمویا ہے۔ اِس کے پانچ حصے یا کتب ہیں:
کتاب اوّل: جمہوریہ (508 تا 530 ق م)
کتاب دوم: انقلاب (145 قبل مسیح تا 30 قبل مسیح)
کتاب سوم: فرمانروائی (30 قبل مسیح تا 192 عیسوی)
کتاب چہارم: ایمپائر (146 قبل مسیح تا 192 عیسوی)
کتاب پنجم: مسیحیت کا شباب (4 قبل مسیح تا 325 عیسوی)
پہلا حصہ قدیم رومن جمہوریہ اور رومن بادشاہوں کے بارے میں جنھوں نے بہت آغاز میں ہی آئین، قانون اور انتظامی ادارے تشکیل دے دیے تھے اور جمہوریت کی جانب صدیوں پر محیط سفر کا آغاز کر دیا تھا۔ رومنوں نے اٹلی تسخیر، ہینی بال کے حملوں کا شکار ہوئے اور تہذیبی ترقی کا عمل کچھ عرصے کے لیے رک گیا۔ مصنف نے اِس قدیم دور میں خاندان، روم کے مذہب، دیوتاؤں، پجاریوں اور تہواروں کے علاوہ صنعت و حرفت کو بھی موضوع بنایا۔ یونانی تسخیر نے روم کو نئے دیوتا اور ادبی بیداری عطا کی۔
دوسرا حصہ اُس تہذیبی انقلاب کے بارے میں ہے جو145 قبل مسیح اور 30 قبل مسیح کے درمیان آیا۔ زرعی بغاوت کے بعد – ٹائبیریئس اور کیئس گراکَس، ماریئس اور سُلا مسرور آئے، اشرافیہ بنی۔ سپارٹیکس اور پومپی، سسرو اور کیٹیلائن کا تعلق بھی اِسی دور سے تھا۔ انقلاب کے دور میں ادب نے نئی کروٹ لی جس کی نمائندگی لوکریشئس اور سسرو نے کی۔سیزر نے اخلاقیات اور سیاست کی راہ متعین کی، کلیوپیٹرا اور روم کا معاملہ سامنے آیا۔ یہاں ہم بروٹس، انٹونی اور اوکٹیویئن سے بھی ملتے ہیں۔
تیسرا حصہ 30 قبل مسیح سے 192 عیسوی تک کے دور کا احاطہ کرتا ہے جب آگسٹس کی ریاست کاری نے عہدِ زریں کی بنیاد رکھی، قانونی اصلاحات ہوئیں، وِرجل نے ’اینیڈ‘ لکھی، ہوریس اور لِیوی آئے۔ لیکن اِس بادشاہی نطام کا ایک اور رخ بھی تھا جس کی نمائندگی ٹائبیریئس، گیئس، کلاڈیئس اور نیرو نے کی، اور پھر ویسپاسیئن، ٹِیٹس اور ڈومیشن نے۔ اِن کے ساتھ زریں عہد ڈھل گیا اور نقرئی عہد شروع ہوا۔ ہم کچھ فلسفیوں اور زیادہ تر خطیبوں سے ملتے ہیں: پیٹرونیئس، سینیکا، کوئنٹیلئن، سٹیشئس اور مارشل۔ پینٹنگ سمیت آرٹ بنیادی طور پر یونانی اساتذہ کے کام کی نقالی تک ہی محدود رہا۔ فن تعمیر میں ہم نئی اور عظیم تخلیقات دیکھتے ہیں۔ رومنوں نے افراد، جائیداد، عدالت اور اقوام کے قوانین بنائے۔ فلسفی بادشاہ نیروا اور ٹراجن نے اصلاحات کا عمل تیز کیا۔ دوسری صدی میں ہم ٹیسی ٹَس اور جُووِینل سے بھی ملتے ہیں۔
چوتھے حصے میں رومن ایمپائر وجود میں آتی ہے جو146 قبل مسیح سے 192 عیسوی تک رہی۔ مغرب کے مہذب بننے کا عمل شروع ہوا، افریقہ، سپین، گال، بریٹین کو مطیع کیا گیا۔ رومن یونان میں پلوٹارک اہم لوگوں کی زندگیاں بیان کرتا ہے، ایپک ٹیٹس اور لُوسیئن جسے تشکیک پسند اور فیلو اپنے افکار پیش کرتے ہیں۔ روم اور یہودیہ کا تعلق بنتا ہے، ہیرود اعظم کے بعد یہودی ایک بار پھر دربدر ہوتے ہیں۔
پانچواں حصہ مسیحیت کا شباب بیان کرتا ہے جو 4 قبل مسیح سے 325 عیسوی تک کی کہانی ہے۔ یسوع مسیح کی پیدائش، انجیل اور حواریوں کا حال تفصیل سے درج ہے۔ مسیحی کلیسا بنتا اور ترقی پاتا ہے۔ مسیحی مسالک متصادم ہوتے ہیں اور ایمپائر منہدم ہونے لگتی ہے۔ اقتصادی زوال مسیحیت کی نصرت کی نوید ہے۔ قسطنطین کا ظہور ہوتا اور مسیحیت باقاعدہ مذہب بنتی ہے۔ آخر میں روم کے زوال کے اسباب پر بات کی گئی۔

