جدید دور کے انگلش ادب کا ذکر ہی ٹامس ہارڈی سے شروع ہوتا ہے۔ وہ 1840ء میں ڈارسیٹ میں پیدا ہوا جو جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع تھا اور اِس علاقے (ویسیکس) کو اُس کی فکشن اور شاعری میں آنا تھا۔ اُس کا باپ پتھر کا مستری تھا۔ نوجوان ہارڈی زیادہ وقت گھر پر ہی رہتا جہاں ارد گرد کے دیہی علاقے کا مشاہدہ کیا اور اُس کی محبت میں گرفتار ہوا۔ موسموں اور گانوں، کہانیوں اور عام لوگوں کے عقائد سے متعارف ہوا جو ابھی تک زیادہ تر زبانی کلچر کا حصہ تھے۔ 

وہ سولہ سال کی عمر تک مقامی سکولوں میں پڑھا اور پھر ڈارچیسٹر کے ایک معمار کا شاگرد بن گیا۔ 1862ء میں وہ لندن گیا اور ایک ممتاز معمار کے پاس نقشہ نویسی کی ملازمت کر لی۔ مطالعے کے ذریعے اپنی غیر رسمی تعلیم مکمل کرنے کے دوران ہارڈی شاعری پڑھنے اور لکھنے لگا۔ اُس کا پہلا ناول بالائی طبقے کی ظاہر پرستی پر ایک تنقید تھا جسے پبلشروں نے مسترد کر دیا۔ البتہ ایک سینئر لکھاری نے اُسے کچھ اور لکھنے کا کہا جس کا پلاٹ زیادہ پیچیدہ ہو۔ چنانچہ ہارڈی نے 1871ء میں Desperate Remedies لکھا اور اگلے سال دیہی زندگی کی ایک کہانی Under the Greenwood Tree لکھی۔ 

اگلے تین سال میں دو ناولوں یعنی A Pair of Blue Eyes اور Far from the Madding Crowd نے اُسے اتنی آمدنی مہیا کر دی کہ تعمیراتی کام چھوڑ کر ادب کو پیشہ بنا لیا۔ اُس نے ناول لکھنا جاری رکھے، لیکن آخری ناول Jude the Obscure کی جنسی بے باکی اور غیر مذہبی پن پر شدید تنقید ہوئی اور اُسے انحطاط زدہ جیسے القابات ملے۔  

مالی استحکام نے اُسے شاعری کی طرف واپس آنے کے قابل بنایا۔ وہ وکٹوریائی اور جدید دور کے درمیان تھا۔ اُس نے ناول انیسویں صدی میں شائع کیے تھے، لیکن شاعری کا پہلا مجموعی بیسویں صدی میں آیا۔ وہ 87 سال کی عمر میں وفات تک شاعری لکھتا رہا۔ 

ہارڈی کے ناول مشاہدے اور تفصیلات سے بھرپور ہیں، فطرت داخلی اور خارجی کی قوتیں مل کر انسانی تقدیر بناتی ہیں۔ وہ کرداروں کو بے مہار حالات اور عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے: اُن کے جذبات یا جنسی تحریکات، اور سماجی طبقے کی رکاوٹیں اور سماجی پابندیاں۔ ہارڈی کے فکشن میں مردوخواتین شاذ ہی اپنے مقدر کے مختار ہیں: وہ زمینی منظر میں چلتے چلتے بونے بن جاتے ہیں، بے نیاز قوتیں اُن کا رویہ اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کی صورت گری کرتی ہیں۔ البتہ وہ برداشت، ہیرو ازم یا کردار کی سادہ طاقت کے ذریعے وقار حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ انسانیت کو ایک لاتعلقی اور ہمدردی کے ملغوبے کے ساتھ دیکھتا اور زندگی کی ترش مضحکہ خیزیوں کو کھوجتا ہے۔ Tess of the d’Urbervilles (1891ء) اُس کے اداس ترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ 

ہمیں شاید ہی اردو میں اس طرح کی تعارفی تحریریں میسر آتی ہوں۔ اگر میں ویب سائیٹ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو وہاں یہ سلسلہ شروع کروں گا کہ بڑے بین الاقوامی ادیبوں کا تعارف کروایا جائے۔