مجھے ابدیت کا یہ کا تسلسل کتابوں کے ذریعے وصول ہوا اور اسی کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ بڑے لکھاری عام لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہیں اور عام لوگ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں۔ یہ کوشش عام مگر فہیم لوگوں کو عام شخص کی کہانی پڑھانے کی ہے تاکہ زیادہ قربت محسوس کر سکیں۔ 

گوتم بدھ سے منسوب ایک ثمثیل کے مطابق ان کے ایک شاگرد شاید (آنند) نے ان پوچھا کہ سچائی کیا ہے؟ بدھ نے یوں جواب دیا یوں سمجھ لو سچائی ایک بہت بڑا سفید ہاتھی ہے۔ تمہاری آنکھوں پر پٹی بندھی ہو اور تم اس کو ٹٹول کر جاننے کی کوشش کرتے ہو ۔ جس کا ہاتھ اس کی ٹانگ پر پڑتا ہے وہ اُسے ایک ستون یا درخت کے تنے جیسا قرار دیتا ہے۔ جس کا ہاتھ پیٹ پر لگتا ہے ، وہ اسے بڑا سا مٹکا کہتا ہے۔ جس کا ہاتھ اس کان یا انکھ پر لگتا ہے وہ اسے پنکھا یا ملائم پتھر کی گیندیں یا بلوریں کُرہ قرار دیتا ہے۔ کتاب کہانی کا قصہ بھی کچھ یوں ہی ہے جو اسے جیسے پڑھے ویسے ہی پائے گا۔ کتاب کہانی بھی ایک ایسی ہی سچائی ہے۔ 

میں عموماً آب بیتیاں پڑھنا پسند نہیں کرتا اس کی بہت سی وجوہات ہیں ہمارے اکثر ادیب مرنے سے چند سال قبل یہ بھانپ لیتے کہ اب اگلے پانچ یا دس سال زندہ رہیں گے پھر وہ رنگ برنگی اور جھوٹ سے بھرپو نثر اور ایسے واقعات بھی لکھ دیتے ہیں جو کبھی ان کے فرشتوں کے ساتھ بھی پیش نہیں آئے ہوتے۔ لیکن یاسر جواد صاحب کو میں ان کی تحریروں کی وجہ سے جانتا تھا ان کی قلم میں تلوار کی سی تیزی اور کاٹ ہے۔ 

جب میں کتاب کہانی کا ٹائٹل دیکھا تو دل میں پڑھنے کی شدید طلب ہوئی۔ کیونکہ میں جاننا چاہتا ایک لکھاری کی معاشرتی و نظریاتی زندگی کیسی ہوتی ہے یہ صرف ایک آب بیتی نہیں بلکہ ایک عہد کی داستان ہے۔ اس کتاب کا اسلوب اسے دوسری اب بیتیوں سے منفرد بناتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے بچپن، لڑکپن، جوانی، تعلیم، صحافت کے تجربات، مشاہدات اور نظریات کا احاطہ ایسے سچے اور کھرے طریقے سے کیا ہے۔ جو صرف سر یاسر جواد ہی کر سکتے ہیں۔ 

یہ کتاب آپ کو ہنساتی ہے رلاتی ہے خصوصاً یاسر جواد صاحب نے اپنی بہن کا ذکر کیا ہے تو وہ واقعہ رلانے والا تھا۔ بہنوئی کی بے حسی کی ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ رونگھٹے کھڑے ہو جائیں اور مزے کی یہ سب سے واقعات تھے۔  

ایک دوست کے بارے میں کہتے کہ وہ اتنی معصومیت سے جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ لگتا یے۔ اس سب کے علاوہ اس عہد کے پبلشرز کی فراڈ بازیوں، یاروں دوستوں کی چٹکلیں، سٹدی سرکل کی کہانیاں، اپنے گھریلو حالات، شادی کا قصہ، بہنوئی کی زیادتیاں، اور ایک زوال پذیر ہوتے ہوئے معاشرے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ادب، سیاست، تاریخ، فلسفہ، کتابوں کی آگاہی، معاصر ادیبوں کے حالات کا ذکر ایسے انداز کیا گیا ہے کہ کبھی رونے اور کبھی کھل کر ہنسنے کو دل کرتا ہے۔ انیس سو اکہتر کے مارشل لا سے لیکر کرونا تک کے سماجی سیاسی و معاشرتی حالات ایسی باریک بینی اور گہرائی سے لکھا گیا کہ مجھے لگا کہ تاریخ کی کتاب ہے۔ کتاب میں یاروں دوستوں کا ذکر مزے لیکر کرتے نظر آتے خاص طور اختر عثمان صاحب کے بارے جو انہوں نے لکھا بہت مزہ آیا۔ ہنسی مزاح سنجیدہ موضوعات تاریخ، ادب سیاست معاصر ادیوںوں کے کرتوت ناشروں کی زیادتیاں، اپنے بابا کے تبادلے ہجرتوں کی داستانوں اپنے اساتذہ کے ذکر اور کیا کچھ نہیں اس کتاب میں؟؟  

میں سمجھتا ہوں یاسر جواد صاحب جیسے انسان سے اسی طرح کی آب بیتی کی توقع کی جاسکتی تھی۔  

یہودیوں کے خدا یہوا کے مطابق اقتباس شروع (جیسا بھی میں اپنی ذات میں ہوں) میں سمجھتا ہوں یاسر جواد بھی جیسے ہی ہیں وہ اپنی ہی ذات میں ہیں۔  

یاسر جواد صاحب یہ نکتہ سمجھ گئے کہ کہاں جان سے گزرنا ہے اور کہاں جان پہ آنا اور وہ یہ دونوں کام پوری تن دہی سے انجام دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو کبھی کوئی رعائت نہیں دی۔ 

پُشکن نے اپنے شاعر کے بارے میں جو بات کہی تھی وہی بات میں یاسر صاحب کے بارے میں کہتا ہوں۔  اقتباس شروع (کوئی اجر طلب نہ کر تیرا کہ تیرا  اجر تیرے سوا کوئی بھی نہیں دے سکتا تو خود ہی اپنے بارے میں داوری اور فیصلہ دہی کرنے والا ہے کہ تیرے بارے میں تیرے سوا کوئی تجھ سے زیادہ سخت گیر نہیں ہے۔