تہذیبیں اور عقائد مرتے نہیں بلکہ زیادہ سازگار جگہوں پر ہجرت کر جاتے ہیں، اور اُن کا رنگ روپ، انداز اور اظہار گردوپیش، فتح و شکست، موسم اور علاقے کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔

رواج سے قانون کی جانب سفر وحشت سے تہذیب کی جانب سفر ہے۔ رواج کے تحت ’’انصاف‘‘ میں بدلہ لیا جاتا ہے اور قانون کے تحت انصاف میں سزائیں دی جاتی ہیں جن میں مرحلہ بہ مرحلہ ترقی ہوتی رہتی ہے۔

شائستگی اور انسانیت کو وحشت کے نیوکلیئس کے گرد بہت باریک سی جھلی جیسا سمجھنا چاہیے جو ہلکی سی ضرب یا رگڑ سے پھٹ جاتی ہے اور اصل وحشی یا غیر مہذب انسان باہر نکل آتا ہے۔

شائستگی، آرٹ، انسانیت پسندی کے ننھے سے شعلے کو بہت بچا کر رکھنا اور اُس کی حفاظت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ کے قدیم حصے ہر دم اُسے مٹانے اور بجھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

فطرت کے خلاف متواتر جنگ نے انسانی معاشروں میں بقائے باہمی کو ممکن بنایا۔ فطرت جارحانہ پن، چھیننے، جھپٹے، ہلاک کرنے اور غلبہ پانے کا مطالبہ کرتی ہے، جبکہ مہذب رویہ آپ کو حلیم، بُردبار اور غیر جارحانہ بناتا ہے۔

تاریخی عمل میں کوئی ایک یا چند عناصر فیصلہ کن نہیں ہوتے۔ کبھی جغرافیہ، کبھی کوئی اچانک دریافت، کبھی موسمی تبدیلی، کبھی آفت یا بڑی جنگ تاریخ کا دھارا موڑ دیتی اور کامیاب معاشرے کو ناکام بنا دیتی ہے۔

تہذیب کی کہانی علم کی بہت سی شاخوں سے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ اُن کے باہمی تعلق کو بھی اجاگر کرتی اور جینئس کی شکل میں بطور مثال پیش کرتی ہے۔ یہ پروجیکٹ اُردو زبان میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے۔ ارد گرد جارحیت پسندی، غیر بردبار رویوں، تعصب، جنگی نعروں اور قومی حماقتوں کے ماحول میں اگر ہمیں بدستور انسان رہنا ہے تو اِس قسم کی کتب کی زندگی سے آشنا ہونا ضروری ہے۔ لافانیت لکھے ہوئے لفظ کے سوا کہیں نہیں، حتیٰ کہ بڑے سے بڑے سورما بھی الفاظ میں رہتے ہیں۔

شیئر کریں