فرض کریں کہ آپ سلطان گولڈن جیسا کوئی کیریکٹر ہیں یا سی ایس ایس کا امتحان دینے جا رہے ہیں، یا پہلی بار گاڑی لے کر مین روڈ پر جا رہے ہیں۔ آپ کی دادی یا ماں یا کوئی اور خیرخواہ آگے بڑھ کر آپ پر کچھ پڑھ کر پھونکتی ہے، یا دعا دیتی ہے، یا حوصلہ افزا بات کہتی ہے، تو اِس سے کیا نقصان ہے؟ یقیناً اِس سے آپ کی ڈرائیونگ کی مہارت بہتر نہیں ہو جائے گی یا سی ایس ایس کے لیے لگایا ہوا رٹا پختہ نہیں ہو جائے گا۔ چاہے آپ ملحد یا عقلیت پسند یا منطق کے حامی ہوں، اِس میں کوئی نقصان نہیں۔

میں نے ایک ریٹائرڈ ڈی آئی جی جیل خانہ جات محمد اصغر کے پاس بطور اکاؤنٹنٹ چند سال کام کیا۔ وہ کچھ بھی لکھنے سے پہلے کاغذ کے سب سے اوپر درمیان میں 786 لکھ کرتا تھا۔ حتیٰ کہ اپنے نام میں آنے والے نام محمد پر ؐ کی علامت بھی ضرور ڈالتا تھا۔ البتہ چیک پر نام لکھتے وقت نہ 786 لکھتا اور نہ ہی ؐ کی علامت ڈالتا۔ بلکہ انگلش میں لکھے گئے لیٹرز کے نیچے نام میں بھی یہ حرکت نہیں کرتا تھا۔ ویسے وہ گالیاں بہت دیتا تھا۔ شدید ری ایکشنری ہونے کے دنوں میں بھی مجھے یہ بات بُری نہیں بلکہ دلچسپ لگتی تھی۔

البتہ خواہ مخواہ کی دعائیں آپ کے اعتماد کو گھٹاتی بھی ہیں۔ آپ ان پر بہت زیادہ فوکس یا انحصار کریں تو نقصان ہونا یقینی ہے۔ اور ان کی وجہ سے ذمہ داری بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ڈائیوو بس چلنے سے پہلے دعا پڑھی جاتی ہے تو اس کی وجہ سے بس کے ٹائر مضبوط نہیں ہو جاتے، لیکن ڈرائیور اُن دعاؤں کو اپنے گرد ایک سیفٹی نیٹ جیسا خیال کرنے لگے اور خطرناک موڑ مڑتے وقت بے احتیاطی کرے تو مسافر بھی فوت ہو سکتے ہیں۔

ایک الیکٹریشن سید ہونے کی وجہ سے میری بہت عزت کرتا ہے۔ میں سید ہونے کو اعزاز نہیں سمجھتا، یہ محض ذاتی سی چیز ہے، اِس کا دم چھلا لگانا بھی غیر ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی اور لگاتا ہے تو مجھے تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ اب میں الیکٹریشن سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ عزت نہ کرے۔ ویسے بھی ذاتوں پر تنقید کمتر ذاتوں کے لیے چھوڑ دینی چاہیے۔ ہاں، کوئی ذات کی بنیاد پر ہمیں اپنی عظمت کا یقین دلانے کی کوشش کرے تو یہ مکروہ بات ہے۔ زندگی کے توہمات کو ہومیوپیتھک ڈاکٹر دوست کے مشوروں کی طرح لینا چاہیے۔ وہ دوائی دے تو استعمال کر لیں۔ لیکن اگر وہ ایک ہفتے بعد پوچھے کہ ’’اب کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کوئی بہتری آئی؟‘‘ تو تب اُسے کہا جا سکتا ہے کہ تم دوست ہو، تم نے دوائی دی تو تمھاری خوشی کی خاطر لے لی۔ ہمارا معاہدہ اتنا ہی تھا۔ یہ تاثرات دینا ہمارے معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔

بات یہ ہے کہ توہمات اور دعائیں اور گُڈ وِشز ایک طویل عرصے سے ہمارے لاشعور کا حصہ ہیں۔ یہ ہمارے ناموں اور خواہشات تک میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ جب سے سڑکیں اچھی اور ٹریفک تیز ہوئی ہے کالی بلیوں کو دیکھ کر کوئی بھی سفر نہیں روکتا۔ ہمارا لاشعور بھی بیرونی حالات کے مطابق ترقی کرتا رہتا ہے۔ لیکن بیرونی دنیا یا حالات غیر یقینی رہیں تو لاشعور بھی حرامی ہو جاتا ہے۔ پاکستانیوں کا لاشعور اسی لیے اُن کے شعور پر حکومت کرتا بلکہ اُسے کھا چکا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ خلا بازوں کے کوئی توہمات نہیں ہوتے؟ 1961ء میں یوری گاگارین نے ایک روایت کی طرح ڈالی: لانچ پیڈ کی طرف جاتے ہوئے بس رکوانا اور اُس کے پچھلے ٹائر پر پیشاب کرنا۔ خلاباز خواتین ایسا نہیں کر سکتیں تو ایک چھوٹی سی شیشی میں پیشاب ڈال کر لے جاتی اور اظہارِ یکجہتی کے لیے ٹائر پر انڈیل دیتی ہیں۔ خلاباز اپنے پیاروں کو ’’گڈبائے‘‘ بھی نہیں کہتے اور اپنے سفر کو ’’آخری‘‘ نہیں بلکہ ’’فائنل‘‘ کہتے ہیں۔ پہلی سپیس فلائٹ پر جانے والے خلاباز آٹوگراف بھی نہیں دیتے۔ لانچ پیڈ کے انجینئر لانچ کے دن سے ایک دن پہلے راکٹ دیکھنا منحوس سمجھتے ہیں۔

ہوموپاکیئن اپنے توہمات کو اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے استعمال کرتے اور ناقص انتظامات کا متبادل سمجھتے ہیں۔ مثلاً ایک رشتے دار بیرونِ ملک جانے لگا تو میں نے کہا، ’’اب پہنچ جانا، واپس نہ آنا۔‘‘ صبح سو کر اُٹھا تو پتا چلا کہ اُس کو ایف آئی اے نے روک دیا ہے اور وہ واپس گاؤں پہنچ چکا ہے۔ دوسری ٹرائی کرتے وقت اُس نے براہ راست ایئرپورٹ کا رخ کیا اور منزل پر پہنچ بھی گیا۔ اُس کے خیال میں میرا ’’واپس نہ آنا‘‘ کہنا منحوس تھا۔ خیر دس سال بعد اُس نے ایک یورپی ملک کا ویزا بڑی مشکل سے اپلائی کیا اور مجھے بتایا بھی نہیں۔ مگر ویزا نہ مل سکا اور پوری فیملی کو دوبئی سے واپس آنا پڑا۔ میرے خیال ہے کہ کوئی شخص توہم پرستی کرتا نظر آئے تو اُسے مزید اُشکل دینی چاہیے۔ روکنا نہیں چاہیے۔ نیا کوئی گھر بنائے بغیر پرانے گھر کو آگ لگانا بے وقوفی ہے۔ شعور کا نیا گھر محنت اور کوشش سے بنتا ہے، اِس کے لیے سیکھی ہوئی اور ورثے میں ملنے والی جہالتیں ترک کرنا پڑتی ہیں، نیا سوچ کا نظام متعین کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ سب بہت مشکل کام ہیں۔

شیئر کریں