نفسیاتی علاج شاید بہت آگے کی چیز ہے۔ اِس سے بہت پہلے اور آسان چیز کوئی ایسا غیر رشتے دار شخص ہونا ہے جس کے ساتھ آپ ججمنٹ کے خوف اور تضحیک کے امکان کے بغیر بات کر سکیں۔ آپ کو پتا چل سکے کہ آپ کو درپیش حالات کوئی غیر معمولی نہیں، اور اُن سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اِس کے لیے بس اپنا اظہار کرنا بنیادی شرط ہے۔
متواتر داخلی اور خارجی جبر، مواقع کے فقدان اور ’’شرم‘‘ یا ’’ذلت‘‘ کے احساس کی وجہ سے اکثر لوگ اظہار کرنا بھول جاتے ہیں، یا وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، یعنی اگر کسی اُستاد، پڑوسی یا رشتے دار کی غلط حرکات کے متعلق نشان دہی بھی کی تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔ اِس کے علاوہ پرائیویسی کا ڈر بھی موجود رہتا ہے۔ یعنی سننے والا شخص معلومات کو غلط استعمال نہ کرے۔
اکثر ماہرینِ نفسیات مہنگے، دُور، اور ادبی و فلسفیانہ سمجھ بوجھ سے عاری بھی ہوتے ہیں۔ ادبی پس منظر کے بغیر، اخلاقی ضابطے کے گورکھ دھندے سے نکلے بغیر کسی کی بات سننا اور اُسے اظہار سکھانا ممکن نہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے اخراجات ادا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ نیز، آپ کو کوئی ’’ٹھوس‘‘ چیز بھی حاصل نہیں ہوتی۔ تفہیم کو خریدنے کا تصور یہاں موجود نہیں ہے۔ ہر بندہ تو ہر چیز پر مشورے دیتا اور تعویذ گنڈے تجویز کرنے لگ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ وظائف اور روحانی ہتھکنڈے مسائل کو شدید بنانے میں زیادہ عمل کرتے ہیں۔ نفسیاتی امداد اور اظہار کی تربیت یا اظہار کی جگہ کے بغیر عبادت کے ذریعے سکون حاصل کرنے کی کوشش بے کار ہے۔
شادی اور جنس سے جُڑے ہوئے مسائل یقیناً سب سے بڑھ کر ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ چیزیں ٹیبو ہیں، اور نکاسی کی کوئی بھی جائز یا قابلِ قبول یا محفوظ صورت موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل بڑھتے جاتے ہیں۔
میرے خیال میں ایک آدھ بندہ ایسا ضرور ڈھونڈنا یا آزمانا چاہیے جو سرزنش یا ’’اخلاقی‘‘ راہنمائی کیے بغیر آپ کی بات سن سکے۔ اگرچہ چیٹ جی پی ٹی سے لے کر اور بھی بہت سے وسائل اب موجود ہیں، لیکن یہ عموماً آپ کی ذہنیت کے مطابق ہی ’’مشورے‘‘ دیتے ہیں اور صورت حال کی ٹھیک سے تفہیم نہیں کر سکتے۔ ضروری نہیں کہ ہر مسئلے کا حل بھی ہو۔ ممکن ہے کہ صرف اظہار اور بے اخلاقی کی تصدیق بھی کافی ہو۔
یاد رکھنا چاہیے کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کتاب ہے، چاہے سرورق خاکی کاغذ سے چھپایا گیا ہو، لیکن وہ پڑھے جانے کی حق دار ہے۔ میں نے سیکھا ہے کہ کوئی بھی زندگی بور یا بے کیف نہیں ہوتی۔ بس اظہار شرط ہے۔ اگر لوگوں اور حالات کو اُن کی متعلقہ حقیقت میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ چیز کافی مددگار ہو سکتی ہے۔
برسوں پہلے ایک خاتون نے فرضی نام سے چیٹ شروع کی جو دوسری تیسری کلاس سے جنسی بدسلوکی کا شکار ہوتی آ رہی تھی۔ اُس کی صورت حال کا کوئی حل نہیں تھا۔ ظاہر ہے آپ ماضی کو undo یا منسوخ نہیں کر سکتے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’وہ خیالات ذہن سے نکال دو۔‘‘ یہ عمل متواتر اظہار کی کوشش اور آئندہ احتیاط کرنے کی بجائے تفہیم کا طالب ہے۔ اُس کے ساتھ بات چیت کے عمل میں میں نے بھی بہت کچھ سیکھا اور معاشرے کے قالین کے نیچے دبی ہوئی چیزوں کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔
اگر اظہار کی کوئی ’’محفوظ‘‘ اور بااعتماد جگہ موجود نہیں تو کوئی سگمنڈ فرائیڈ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ خود میرے لیے لکھنا ایک زبردست تھراپی ہے۔ لیکن آپ بھی اپنی پسند کے لوگوں کو لکھ کر بتانے کے ذریعے اپنی تھراپی کر سکتے ہیں۔ اِس طرح آپ کو دیگر کے حالات جاننے اور اپنے سیکھے ہوئے رویوں کو unlearn کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ عمل کرید کرنے اور اپنی ’’کہانی‘‘ سنانے کا نہیں، بلکہ دوسرے کی کہانی سننے کا بھی ہے۔
اپنی مرضی کے لوگوں کو اپنی کہانی ضرور سناتے رہنا چاہیے۔ شاید وہ بھی آپ کے اتنے ہی منتظر ہوں۔
Yasir Jawad/یاسر جواد