’’تہذیب کی کہانی‘‘ ایک متواتر اضطراب میں مبتلا رکھتی ہے: یہ اضطراب کہ اگلی جلد میں کیا اور کس طرح پیش کیا جائے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ پڑھنے والے بار بار پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگلی جلد کب آئے گی۔ اور کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ چھے خریدی ہیں لیکن ابھی تیسری یا دوسری ہی پڑھ رہے ہیں۔ یہ بالکل نارمل بات ہے اور اِس اضطراب میں مَیں بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں۔

جب پہلی جلد پر کام کر رہا تھا تو یہودیہ اور مصر وغیرہ کے بارے میں صفحات ترجمہ کرتے ہوئے مجھے یہ کھلبلی تھی کہ چین اور جاپان والے صفحات کب آئیں گے، کیونکہ اِن دونوں تہذیبوں کے متعلق ہماری معلومات صرف کنفیوشس اور شنتومت تک ہی محدود ہیں۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کی داستانِ تخلیق کیا ہے، وہاں تہذیب کی ترقی کا پہیہ کیسے آگے چلا اور پیچھے ہٹا، اُن لوگوں کا ادب اور موسیقی کیا ہے، وغیرہ۔

لیکن پہلی جلد مکمل ہونے سے پہلے ہی یونان کو گہرائی میں جاننے کی بے چینی ہونے لگی جہاں فیثاغورث اور بقراط، سولون اور پیریکلیز، یوری پیڈیز اور ارسطو، سقراط اور ڈیماکریٹس، افلاطون اور سکندر ہمارے منتظر ہیں اور ایک گھومتے ہوئے کیمرے کی طرح ہمارے سامنے آتے ہیں۔ انسانی عدمِ اطمینان اور بغاوت، مجبوری اور اطاعت کا کھیل کھل کر کھیلا جاتا ہے۔ وہاں دیوتا اور داستانیں تخلیق ہوتی اور ہماری سوچ کے سانچوں کے لیے چند بنیادی عناصر فراہم کرتی ہیں۔ ہم انسان کو سوچنے کے عمل کی تربیت لیتے اور اُس سوچ کو ریکارڈ میں آتے دیکھتے ہیں۔ جو اقوام ریکارڈ نہ رکھ سکیں، وہ عظیم ہوتے ہوئے بھی ماند پڑ گئیں۔

تیسری جلد سے ایک ایسا دور شروع ہوتا ہے جس کے متعلق ہم بہت خال خال معلومات رکھتے ہیں۔ ہمیں سیزر کا نام پتا ہے، ہمیں مصر کے زوال کی محض کہانیاں معلوم ہیں، لیکن رومن تہذیب کے عروج و زوال کے محرکات سے تقریباً نابلد ہیں۔ ہم اِس جلد میں دیکھتے ہیں کہ کیسے مسیحیت ایک بے شکل مذہب تھا، اور شمشیر کی طاقت اور رومن سلطنت کا سہارا میسر آنے پر ہی اِس کو صورت اور طاقت ملی۔ جو دیوتا اور دیویاں یونان سے ورثے میں ملے تھے، اُنھوں نے رومن لباس اور نام اختیار کیے۔ فارس کی عشتار اگر یونان میں ایفرودیتی بنی تھی تو روم میں وِینس بن گئی۔ تب انتظار رہنے لگا کہ آپ چوتھی جلد میں کب اِسے ڈایانا اور کنواری اور لیڈا بنتے دیکھیں گے۔

یوں سمجھ لیں کہ خیالات اور نظریات کی طرح دیوی دیوتا بھی نام، لباس اور خصوصیات بدل بدل کر ہمارے سامنے کھیل پیش کرتے ہیں جو ہماری ہی امنگوں کا ترجمان ہے۔ سرد علاقوں کے دیوتا کھالیں پہنتے ہیں، پہاڑی علاقوں کے دیوی دیوتا اونچی چوٹیوں پر براجمان ہیں، سمندری ساحلوں پر بسنے والی اقوام اور قبیلوں کے معبود ہوائیں چلاتے اور روکتے ہیں۔ ہماری طرح ان کے درمیان بھی محبتیں، ناراضیاں، حسد، کینہ، انتقام اور شہوت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ انسانی عورت سے جنم لینے والے بچے کو چوری چھپے ہیرا دیوی کا دودھ پینے پر لگا دیا جاتا ہے اور نیند سے بیدار ہونے پر اس اجنبی بچے کو پیچھے ہٹاتی ہے تو دودھ کے چھینٹے ملکی وے کہکشاں کو نام دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے سوچنے کے نظام اور زبان و اصطلاحات بننے کے عمل سے شناسائی ہوتی ہے۔ ہمارے مہینوں اور دنوں کے نام ترتیب پاتے ہیں۔

چوتھی جلد ضخیم ترین ہونے کے علاوہ اپنی جگہ ایک انوکھی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ یورپ میں تاریک دور کا آغاز تھا جو تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اِس دوران عرب میں تمدن اور دولت، فتوحات اور تسخیر کا مرکز بنا، اسلام نے گرتی ہوئی بازنطینی سلطنت میں اپنی شاخیں پھیلائیں۔ اِس کے علاوہ الاستاذ یعنی ارسطو سے یورپ کو متعارف کروایا۔ امویوں اور عباسیوں کے ’’اسلامی‘‘ دور میں ایک نئی شگفتگی آئی اور ابن سینا، الرازی، الکندی اور ابن رشد کے ذریعے یورپی اقوام نے دوبارہ افلاطون اور ارسطو کو اپنایا۔ مسلم فقہا، علما اور شارحین اور سائنس دان علم کی شمع اٹلی اور روم، میلان اور جینوآ، جرمنی اور فرانس کے سپرد کر کے ایک زوال آمادہ تہذیب کی قید میں سو گئے۔

تصوف کے نظام، عقل اور الہام کا مجادلہ، علوم اور یونیورسٹیاں، جنگیں اور نفرتیں اِس تاریخ دور کا خاصہ تھیں جن سے نکلنے کے لیے یورپ کے انسانوں کو تین چار سو سال تک انتظار کرنا اور لڑنا تھا۔ انسان ابھی تک گندے پانی اور تعصب کی نکاسی کے نظام بنانے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ جاگیرداری نے تجارت کی راہ روکی، اور جغرافیہ دانوں کی کاوشوں کی نتیجے میں تجارت نے نئے بحری راستے تلاش کر کے جاگیرداری نظام کو مات دینے کا عمل شروع کیا۔

بحری راستوں اور نئی اقوام کی دریافت، جاگیرداری نظام کے تضادات، مذہبی طبقے کی لُوٹ مار، پوپس کی مطلق العنانیت، نئی یا مختلف سوچ کو بدعت قرار دے کر آگ میں جلانے یا پھانسی دینے والی احتسابی عدالتیں عہدِ اصلاح کا محرک بنیں۔ امریکہ سے آنے والی چاندی اور سونے کی بدولت جدت کو فروغ ملا اور شاہی باورچی خانے کے پکوان تک بدل کر رہ گئے۔ لیکن چھری اور کانٹے کے استعمال میں ابھی دو صدیاں باقی تھیں، جبکہ لیٹرین کا نظام بنانے میں چار صدیوں تک مزید انتظار کرنا تھا۔ البتہ ایسا آرٹ تخلیق ہوا کہ پھر کبھی اس کی ہمسری نہ کی جا سکی۔

پھر ہم ساتویں جلد میں پہنچتے اور دیکھتے ہیں کہ سولھویں اور سترھویں صدی میں اصلاح اور سماجی بے چینی کے باعث توہمات اور مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑنے پر جدید دور کی ابتدا ہوئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی غلامی بھی آئی: گوری قوموں کے ہاتھوں کالی اقوام کی غلامی۔ ساتویں جلد پر کام جاری ہے اور میں آٹھویں جلد کھول کھول کر دیکھ رہا ہوں۔ مجھے وولٹیئر اور نپولین، لاک اور کانٹ، ہوبز اور دیگر کا شدت سے انتظار ہے، کیونکہ اُن صفحات میں ہم دیکھیں گے کہ غلامی کی بدولت امیر ہونے والی تہذیبوں نے کیسے اپنی دولت کو آرٹ اور ادب، فنِ تعمیر اور پینٹنگ میں عزت بخشی۔ بقول وِل ڈیورانٹ، دولت آرٹ اور علم کی سرپرستی کے ذریعے ہی عزت اور لافانیت پاتی ہے۔

اِس انتظار میں ہم یکساں ہیں۔ میں خود کو اضطراب اور بے چینی کی اجازت نہیں دے سکتا۔ کیونکہ مجھے تہذیب کے اِس سفر کے ریکارڈ کو آپ کے لیے قابلِ فہم بنانا اور زبان کے ذریعے ’’اپنانا‘‘ بھی ہے۔ ہم ایک بین الاقوامی اور ہمہ گیر میراث میں حصہ دار ہیں، بشرطیکہ اپنی مہیب اور ڈراؤنی تنگ نظری اور تعصب سے کچھ قدم باہر نکل کر دیکھ سکیں۔

پروجیکٹ کو اگر حکومت کی طرف سے کچھ جلدوں کا آرڈر مل جائے تو مستقبل کچھ مستحکم ہو جائے گا۔ ورنہ اپنی اور دوستوں کی مدد سے تو چل ہی رہے ہیں۔ سرکاری افسران باہم ساز باز کر کے ’’عشق خطبے میں پڑھایا جائے‘‘ کئی ڈویژنوں کی لائبریریوں میں بھجوا چکے ہیں۔ ہمارا خطبہ الگ سہی، لیکن متحرک ذہنوں کے لیے زیادہ ضروری ہے۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں