قارئین کے تاثرات
ہمارے قارئین کی آراء اور تبصرے
محمد ساغر
"یاسر جواد کی آپ بیتی"کتاب کہانی" ان لگے بندھے اصولوں کے مطابق نہیں ہے جس میں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں مگر اصل حقائق یا تو چھپا لیے جاتے ہیں یا انہیں گول کر دیا جاتا ہے۔ یاسر جواد نے پبلشرز کے رویوں کے بارے میں آگاہ کرتے..."
مجاہد حسین
"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے شروع میں جب مجھے یقین ہوگیا کہ جمعیت طلبہ اسلام سے یونی ورسٹی کے دنوں میں کشیدہ تعلقات کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی نجی کالج میں بھی اردو ادب پڑھانے کی نوکری نہین مل سکتی تو میں سیدھا روزنامہ خبریں جا پہنچا۔ضیا شاہد نے میری تحریر کو دیکھتے ہوئے یک سطری حکم جاری کیا کہ..."
امجد قمر
"یاسر جواد کی آپ بیتی "کتاب کہانی" کا مطالعہ مکمل کیا۔ یاسر سے میرا تعارف 2013 میں ہوا تھا جب ہمارے ادارے کو کچھ کتابچوں کا اردو میں ترجمہ درکار تھا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ترجمے کے حوالے سے..."
محمد علی رضا
"مجھے ابدیت کا یہ کا تسلسل کتابوں کے ذریعے وصول ہوا اور اسی کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ بڑے لکھاری عام لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہیں اور عام لوگ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں۔ یہ کوشش عام مگر فہیم لوگوں کو..."
سدرا ملک
"(شاید میرے الفاظ جانبدار لگیں مگر درحقیقت میں غیر جانبدار ہوں ۔ مجھے اس کو پڑھتے ہوئے اور پڑھنے کے بعد جیسا محسوس ہوا ، میں بالکل ویسا ہی لکھ رہی ہوں۔ سوچ سمجھ کر لکھنے کے بعد بھی یہ تحریر بہت لمبی ہوگئ ہے اور ابھی تو..."
نوشابہ سید
"یہ کسی جاننے والے اور عزیز کی آپ بیتی پڑھنے کا میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ بھی اِس لیے پڑھی کہ لکھنے والے کے متعلق اُس کے اپنے الفاظ میں جاننے کی خواہش تھی، ورنہ آپ بیتیاں مجھے بورنگ لگتی ہیں۔ مجھے کتاب کہانی کا کور ڈیزائن بہت اچھا..."
محمد ساغر
"یاسر جواد کی آپ بیتی"کتاب کہانی" ان لگے بندھے اصولوں کے مطابق نہیں ہے جس میں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں مگر اصل حقائق یا تو چھپا لیے جاتے ہیں یا انہیں گول کر دیا جاتا ہے۔ یاسر جواد نے پبلشرز کے رویوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ کس طریقے سے وہ مصنف یا مترجم کا استحصال کرتے ہیں، کہیں ان کے نام لیے ہیں اور کہیں اشارہ کر جاتے ہیں کہ قاری خود اپنی محنت سے ان تک رسائی حاصل کرے۔ یاسر جواد نے جہاں اپنے بچپن کی زندگی کو جس انداز سے بیان کیا ہے ۔ وہ عام آدمی کے بچپن سے ملتا جلتا ہے اور جو کھیل اس نے گلیوں میں کھیلے ہیں وہ عام دیہاتوں میں زیادہ تر لوگوں نے کھیلے ہیں۔ خاص طور پر جب تراجم کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے تراجم پر بہت زیادہ محنت کی ۔ اس کے علاوہ اپنی محبت کی داستان میں بیان کی اور اپنے رشتے داروں کے رویوں کو بھی خوب صورتی سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے ملنے والوں کے خاکے بھی اپنے کتاب میں پیش کیے وہیں نظریات بھی ان کے سامنے آتے رہے ۔ سچ بات کو بیان کرنے میں ٹال مٹول سے کام نہیں لیا۔ یاسر جواد تحریکوں میں شامل ہوئے اور ان کی آپسی تضادات کو بھی بیان کیا ۔ یہ کتاب عام لوگوں کو پڑھنی چاہیئے جو اپنے بچپن کو تازہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جنہوں نے اپنے پہلے سے اصول و ضوابط طے کر رکھے ہوں۔ جو لوگ کچھ نیا سیکھنا چاہتے ہیں تو ان کےلئے اس میں بہت کچھ ہے ۔ آخر میں کچھ تصورات کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
’’میرے لیے زندگی کا مفہوم سوائے اس کے کچھ نہیں کہ آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کہانیاں سمجھنے اور بیان کرنے کے قابل ہو سکیں۔‘‘ "
مجاہد حسین
"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے شروع میں جب مجھے یقین ہوگیا کہ جمعیت طلبہ اسلام سے یونی ورسٹی کے دنوں میں کشیدہ تعلقات کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی نجی کالج میں بھی اردو ادب پڑھانے کی نوکری نہین مل سکتی تو میں سیدھا روزنامہ خبریں جا پہنچا۔ضیا شاہد نے میری تحریر کو دیکھتے ہوئے یک سطری حکم جاری کیا کہ ایڈیٹوریل میں بابا نذیر حق کی خدمت میں پیش ہوجاو۔وہاں ہمارے آج کے بے بدل تجزیہ کار حسن نثار بھی پائے جاتے تھے اور یوں میری ناکام ترین صحافتی زندگی کا اگلا سفر شروع ہوگیا،اس سے پہلے میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ سے نکالا جاچکا تھا وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنے پیسٹر اور پروف ریڈر صابر شاکر کو کہیں بے تقلفانہ گفتگو کے دوران یہ کہہ دیا تھا کہ میں ایک سیکولر شخص ہوں اور اردو ڈائجسٹ میں شاید طویل عرصے تک نہیں چل پاوں گا۔روزنامہ خبریں کے نیوزروم میں ایک نمایاں طور پر دوسروں سے مختلف اور غیرمتوقع طور پر منہ پھٹ سب ایڈیٹر سے دوستی ہوگئی تو یقین ہوگیا کہ روزنامہ خبریں میں بھی ملازمت کے دن تھوڑے ہیں۔خیر روزنامہ خبریں کی ملازمت منہ پھٹ یاسر جواد کی وجہ سے ختم ہونے سے پہلے تنخواہ نہ ملنے کے باعث خود ہی ختم ہوگئی لیکن یاسر جواد کے ساتھ تعلق چلتا رہا۔ایک مرتبہ پھر ہم طاہر مجید کے اخبار میں یکجا ہوئے اور اب کی بار میں نے یاسر جواد کے ۲۵۰ روپے اینٹھ لیے اور آج تک واپس نہیں کیے۔یاسر تراجم کو پیارا ہوگیا اور میں دربہ در خاک چھانتا صحافتی ملازمتیں اور بے روزگاری کے طویل دورانیے نبھاتا کبھی لاہور کبھی لندن کبھی نیویارک اور پھر لاہور پھرتا جھک مارتا رہا اور پتہ اس وقت چلا جب کہا جانے لگا کہ تم تیزی کے ساتھ بوڑھے ہورہے ہو۔زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب یاسر جواد کو پہلے سے کہیں زیادہ جوان دیکھا۔اس سے بھی زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب اس کو حسین لڑکیوں اور جازب نظر خواتین میں مقبول دیکھا،آخری تکلیف تو تقریباً جان لیوا تھی جب اس کی خودنوشت کتاب کہانی دیکھی اور اس کی کاٹ دار نثر کے ساتھ ساتھ بلا کی یادداشت نے لاہور میں بسر ہوئی زندگی کے تمام پہلووں کو سامنے لا کھڑا کیا۔وہی بے رحم اور مہلک بے باک پن،مذاق ہی مذاق میں ہلاک کردینے پر تیار،ٹوٹ کر محبت کرنے والا الہڑ پن،بلا کا جملے باز،جو اس کو نہیں جانتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی حاسد قسم کا شخص ہے،اور سب سے بڑھ کر ہنر مند تخیلق کار یاسر جواد اپنی خود نوشت میں لاتعداد کہانیاں،سماجی الجھنیں،نفسیاتی مغالطے،شخصی اوصاف اور لاہور کے ادب اور ادبی اداروں کی چونکادینے والی کہانیاں بیان کرتا ہوا ایک ایسا لااُبالی نوجوان نظر آتا ہے جو ۳۰ برس پہلے کھلے گریبان،گول شیشوں والی گاندھی سٹائل عینک،قمیض سے باہر نکلا ہوا طلائی لاکٹ اور کسی ہوئی جینز کے ساتھ دن بھر کی خبریں ترجمہ کرتا اور ساتھی صحافیوں کا بااوٓاز بلند مذاق اُڑایا کرتا تھا۔ہاں یہ وہی یاسر جواد ہے۔یاسر جواد کی کتاب لاہور کی ۳۰ برس کی تاریخ ہے جس میں وہ تمام کردار پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں جو لاہور کے صحافتی و ادبی حلقوں کی پہچان تھے۔یاسر نے کس کے بارے میں کیا لکھا ہے غلط لکھا ہے یا ٹھیک لکھا ہے،اس کا جواب یاسر دے سکتا ہے میں ایک چشم دید گواہ اور ہم عصر ہونے کے ناطے اس کے لکھے سے لطف لے سکتا ہوں،اپنے ماضی کو زندہ و جاوید دیکھ سکتا ہوں اور اس کی شاندار نثر کا بھرپور لطف اٹھا سکتا ہوں۔ "
امجد قمر
"یاسر جواد کی آپ بیتی "کتاب کہانی" کا مطالعہ مکمل کیا۔ یاسر سے میرا تعارف 2013 میں ہوا تھا جب ہمارے ادارے کو کچھ کتابچوں کا اردو میں ترجمہ درکار تھا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ترجمے کے حوالے سے ان سے رابطہ رہتا۔ کچھ سالوں سے ہمارا پیشہ ورانہ تعلق تو نہیں رہا، لیکن جب بھی اردو کے کسی لفظ کے معنی میں الجھن ہو، میں ہمیشہ ان سے واٹس ایپ پر رابطہ کرتا ہوں، اور وہ مہربانی کرتے ہوئے تصحیح فرما دیتے ہیں۔ البتہ فیس بک کے ذریعے رابطہ مستقل قائم ہے۔
۔میں یاسر کو محض مترجم نہیں مانتا، وہ مترجم سے بڑھ کر اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ لفظ کی اصل روح اور مصنف کی سوچ کو سمجھ سکیں۔ آج کل بے شمار ڈیجیٹل ایپس دستیاب ہیں جو ہر زبان میں ترجمہ کرسکتی ہیں، لیکن ان میں وہ صلاحیت نہیں کہ وہ لفظ کے حقیقی مفہوم کا ترجمہ کرسکیں۔ یاسر کی خاصیت یہی ہے کہ وہ لفظی ترجمے سے آگے بڑھ کر اس کی روح کا ترجمہ کرتے ہیں۔"کتاب کہانی" پڑھنے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ اس قسم کا کام کافی محنت طلب ہوتا ہے، لیکن کتاب کے مطالعے کے بعد یہ ادراک ہوا کہ "کافی" کا لفظ مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ ترجمے کے لیے آپ کو تحقیق کی ایک وسیع دنیا سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے کتابیں تو ترجمہ کی ہیں، مگر ان کا کام محض الفاظ کے ترجمے تک محدود رہا۔ جب انہوں نے یہ کام شروع کیا ، اس وقت کتنے جتن کرنے پڑتے تھے۔ یہ کتاب پڑھ کر معلوم ہوا
یاسر صحافی ہیں،لکھاری ہیں، دانشور ہیں ، فلسفے و تحقیق کی دنیا کے مسافر ہیں۔ انہوں نے 140 کے قریب دنیا کی بہترین کتابوں کا اردو میں ترجمہ کر رکھا ہے۔ جس میں سائینس، فلسفہ ، مذاہبِ اور تاریخ پر مشتمل مشہور ترین لکھاریوں کی کتابیں شامل ہیں۔
"کتاب کہانی" کی خاص بات یہ ہے کہ یاسر نے کہیں بھی مروت کو قریب نہیں آنے دیا، اور جو واقعات ان پر گزرے، انہیں بلا جھجھک قاری کے سامنے رکھ دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ہر ملاقات یا واقعے سے انہوں نے کیا سیکھا، لیکن فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ اپنے متعلق واقعات کو بھی اسی سچائی کے تحت بیان کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود احتسابی کے بھی قائل ہیں
"کتاب کہانی" ایک جانب کڑوے سچ، معاشرتی ناہمواریوں، سماجی ہتھکنڈوں، سمجھوتوں اور منافقت کو بے نقاب کرتی ہے، اور دوسری جانب صحافت، سیاست، انقلاب، نظریات اور ان کے فرد کی زندگی پر اثرات کو محیط ہے۔ یہ کتاب لاہور کے صحافتی و ادبی سفر کی داستان بھی سناتی ہے اور اس سے جڑے حسین و مکروہ چہروں سے بھی پردہ اٹھاتی ہے۔کتاب میں کئی جملے دل کو چھو گئے، لیکن چند خاص جملے یہ ہیں:
"آپ جب روایت سے الگ ہو کر آگے نکل جائیں، تو یونہی اکیلے ہونا پڑتا ہے۔ جو کہ ہرگز بری بات نہیں، لیکن جرات آزمائی ضرور ہے۔"
"جبراً زنجیریں اتروانا اور جبراً زنجیروں میں جکڑنا ایک جیسی چیز نہیں۔ روایت کی تمام خباثتوں کو جوں کا توں قبول کرنا اور روایت سے انحراف کرنا ایک ہی بات نہیں۔"
"کتاب کہانی" سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب لکھنے یا ترجمہ کرنے والا ہمیشہ اپنے حق سے محروم رہتا ہے، کیونکہ پبلشرز کا مافیا اتنا مضبوط ہے کہ عدالت بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ پبلشرز کے نزدیک لکھاری محض ایک گاہک ہے، جس سے سودا طے کر کے کتاب کے تمام حقوق ضبط کر لیے جاتے ہیں، جبکہ وہ خود کماتا رہتا ہے اور لکھاری اپنے اخراجات پورے نہیں کر پاتا
۔یاسر کا کام اتنا اہم ہے کہ انہیں کسی قومی ایوارڈ کی نامزدگی کی ضرورت نہیں۔ ان کا کام ہی ان کی سفارش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسی شناخت کے لیے نہ تو کسی کی خوش آمد کریں گے، نہ کسی سیاست دان یا بیوروکریٹ کے دروازے پر جائیں گے اور نہ ہی کوئی تعریفی کالم لکھیں گے۔
ارباب اختیار کو چاہیے کہ بے شمار جھوٹے ایوارڈز کے درمیان ایک "سچا" ایوارڈ بھی عطا کریں۔ "
محمد علی رضا
"مجھے ابدیت کا یہ کا تسلسل کتابوں کے ذریعے وصول ہوا اور اسی کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ بڑے لکھاری عام لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہیں اور عام لوگ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں۔ یہ کوشش عام مگر فہیم لوگوں کو عام شخص کی کہانی پڑھانے کی ہے تاکہ زیادہ قربت محسوس کر سکیں۔
گوتم بدھ سے منسوب ایک ثمثیل کے مطابق ان کے ایک شاگرد شاید (آنند) نے ان پوچھا کہ سچائی کیا ہے؟ بدھ نے یوں جواب دیا یوں سمجھ لو سچائی ایک بہت بڑا سفید ہاتھی ہے۔ تمہاری آنکھوں پر پٹی بندھی ہو اور تم اس کو ٹٹول کر جاننے کی کوشش کرتے ہو ۔ جس کا ہاتھ اس کی ٹانگ پر پڑتا ہے وہ اُسے ایک ستون یا درخت کے تنے جیسا قرار دیتا ہے۔ جس کا ہاتھ پیٹ پر لگتا ہے ، وہ اسے بڑا سا مٹکا کہتا ہے۔ جس کا ہاتھ اس کان یا انکھ پر لگتا ہے وہ اسے پنکھا یا ملائم پتھر کی گیندیں یا بلوریں کُرہ قرار دیتا ہے۔ کتاب کہانی کا قصہ بھی کچھ یوں ہی ہے جو اسے جیسے پڑھے ویسے ہی پائے گا۔ کتاب کہانی بھی ایک ایسی ہی سچائی ہے۔
میں عموماً آب بیتیاں پڑھنا پسند نہیں کرتا اس کی بہت سی وجوہات ہیں ہمارے اکثر ادیب مرنے سے چند سال قبل یہ بھانپ لیتے کہ اب اگلے پانچ یا دس سال زندہ رہیں گے پھر وہ رنگ برنگی اور جھوٹ سے بھرپو نثر اور ایسے واقعات بھی لکھ دیتے ہیں جو کبھی ان کے فرشتوں کے ساتھ بھی پیش نہیں آئے ہوتے۔ لیکن یاسر جواد صاحب کو میں ان کی تحریروں کی وجہ سے جانتا تھا ان کی قلم میں تلوار کی سی تیزی اور کاٹ ہے۔
جب میں کتاب کہانی کا ٹائٹل دیکھا تو دل میں پڑھنے کی شدید طلب ہوئی۔ کیونکہ میں جاننا چاہتا ایک لکھاری کی معاشرتی و نظریاتی زندگی کیسی ہوتی ہے یہ صرف ایک آب بیتی نہیں بلکہ ایک عہد کی داستان ہے۔ اس کتاب کا اسلوب اسے دوسری اب بیتیوں سے منفرد بناتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے بچپن، لڑکپن، جوانی، تعلیم، صحافت کے تجربات، مشاہدات اور نظریات کا احاطہ ایسے سچے اور کھرے طریقے سے کیا ہے۔ جو صرف سر یاسر جواد ہی کر سکتے ہیں۔
یہ کتاب آپ کو ہنساتی ہے رلاتی ہے خصوصاً یاسر جواد صاحب نے اپنی بہن کا ذکر کیا ہے تو وہ واقعہ رلانے والا تھا۔ بہنوئی کی بے حسی کی ایسی منظر کشی کی گئی ہے کہ رونگھٹے کھڑے ہو جائیں اور مزے کی یہ سب سے واقعات تھے۔
ایک دوست کے بارے میں کہتے کہ وہ اتنی معصومیت سے جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ لگتا یے۔ اس سب کے علاوہ اس عہد کے پبلشرز کی فراڈ بازیوں، یاروں دوستوں کی چٹکلیں، سٹدی سرکل کی کہانیاں، اپنے گھریلو حالات، شادی کا قصہ، بہنوئی کی زیادتیاں، اور ایک زوال پذیر ہوتے ہوئے معاشرے کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ادب، سیاست، تاریخ، فلسفہ، کتابوں کی آگاہی، معاصر ادیبوں کے حالات کا ذکر ایسے انداز کیا گیا ہے کہ کبھی رونے اور کبھی کھل کر ہنسنے کو دل کرتا ہے۔ انیس سو اکہتر کے مارشل لا سے لیکر کرونا تک کے سماجی سیاسی و معاشرتی حالات ایسی باریک بینی اور گہرائی سے لکھا گیا کہ مجھے لگا کہ تاریخ کی کتاب ہے۔ کتاب میں یاروں دوستوں کا ذکر مزے لیکر کرتے نظر آتے خاص طور اختر عثمان صاحب کے بارے جو انہوں نے لکھا بہت مزہ آیا۔ ہنسی مزاح سنجیدہ موضوعات تاریخ، ادب سیاست معاصر ادیوںوں کے کرتوت ناشروں کی زیادتیاں، اپنے بابا کے تبادلے ہجرتوں کی داستانوں اپنے اساتذہ کے ذکر اور کیا کچھ نہیں اس کتاب میں؟؟
میں سمجھتا ہوں یاسر جواد صاحب جیسے انسان سے اسی طرح کی آب بیتی کی توقع کی جاسکتی تھی۔
یہودیوں کے خدا یہوا کے مطابق اقتباس شروع (جیسا بھی میں اپنی ذات میں ہوں) میں سمجھتا ہوں یاسر جواد بھی جیسے ہی ہیں وہ اپنی ہی ذات میں ہیں۔
یاسر جواد صاحب یہ نکتہ سمجھ گئے کہ کہاں جان سے گزرنا ہے اور کہاں جان پہ آنا اور وہ یہ دونوں کام پوری تن دہی سے انجام دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو کبھی کوئی رعائت نہیں دی۔
پُشکن نے اپنے شاعر کے بارے میں جو بات کہی تھی وہی بات میں یاسر صاحب کے بارے میں کہتا ہوں۔ اقتباس شروع (کوئی اجر طلب نہ کر تیرا کہ تیرا اجر تیرے سوا کوئی بھی نہیں دے سکتا تو خود ہی اپنے بارے میں داوری اور فیصلہ دہی کرنے والا ہے کہ تیرے بارے میں تیرے سوا کوئی تجھ سے زیادہ سخت گیر نہیں ہے۔ "
سدرا ملک
"(شاید میرے الفاظ جانبدار لگیں مگر درحقیقت میں غیر جانبدار ہوں ۔ مجھے اس کو پڑھتے ہوئے اور پڑھنے کے بعد جیسا محسوس ہوا ، میں بالکل ویسا ہی لکھ رہی ہوں۔ سوچ سمجھ کر لکھنے کے بعد بھی یہ تحریر بہت لمبی ہوگئ ہے اور ابھی تو مجھے بہت کچھ کہنا تھا۔)
ہمیں ہمیشہ لگتا ہے کہ ہم ہیرو ہیں، ہم اپنی کہانی کے مالک ہیں، ہم جیسا کوئئ اور نہیں ہے اور کوئئ ہمارے برابر کا نہیں ہے، ہمارے اندر ماورائی قوتیں پائی جاتی ہیں، لیکن جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں، جب ہم اس دنیا میں گھومتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت ہم کسی عظیم کہانی کے ناکام ترین کردار جیسے ہیں ۔
یہ بات مجھے کیوں محسوس ہوئی کیوں کہ جب میں نے کتاب کہانی پڑھی اور مختلف کردار میرے سامنے آتے گئے تو مجھے ہر غیر ضروری اور ناقابل غور کردار میں اپنی جھلک دکھائی دی۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیسی میں ہوں ، مجھ جیسے لوگ اور بھی ہیں یا پھر شاید تمام انسان ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہم سب میں کم از کم ایک نہ ایک بات ضرور ملتی جلتی ہوتی ہے ۔
اگر کتاب کہانی لکھنے والے یاسر جواد کے بارے میں بات کی جائے تو یہ 383 صفحات پر مشتمل کتاب ، ہر ہر باب میں یہ بات بتاتی ہے کہ one man army کیا ہوتی ہے۔ یہ کتاب آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کی زندگی کے ہر فیز میں آپ کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور موجود ہوتا ہے مگر ہم نے ان تمام فیزز کو خود دیکھنا ہوتا ہے جینا ہوتا ہے ۔ یہ آپ کو بتاتی ہے کہ اگر محبت میں ناکامی ہو جائے تو دیوداس نہیں بنا کرتے ، وہ تو ایک ناکام کردار تھا۔ اگر پل دونوں طرف سے مضبوط ہو تو ہی اس پر سفر ہو سکتا ہے اگر ایک سرا ٹوٹ جائے تو دوسرے کی جگہ بھی قائم نہیں رہتی۔
مجھے کتاب کہانی سے پتہ چلا کہ ہم سب کی زندگی ہی ایک gaming setup جیسی ہے ہم آگے بھی بڑھنا چاہتے ہیں، ہم خوفزدہ بھی ہوتے ہیں مگر ہر درجہ پار کرنے کے بعد ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہاں ہم کچھ کر سکتے ہیں یا پھر اس نئے لیول کو جو ، پچھلے سے مشکل ہے، پار کرنا ہماری مجبوری ہے ورنہ ہم کسی اور کے لئے نہ سہی مگر اپنے آپ کے لیے ہی ناکارہ بن جائیں گے، ہمارے ساتھ جڑے لوگ ہماری سست رفتاری سے پریشان ہو جائیں گے اسلیے quit کرنے کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے ۔
اس کتاب سے مجھے یقین ہوا کہ عمر کا خاص دور ہم سب کے لیے مشکل ہوتا ہے جس میں ہم اپنے معاشرے میں انقلاب چاہتے ہیں جس میں ہمیں لگتا ہے کہ ہم اگر یہ کام نہ کر پائے تو معاشرہ ڈوب جائے گا، ہم سب میں ایک مخصوص کلبیت پائی جاتی ہے ، اور ہم اس کو کیسے ٹھکانے لگاتے ہیں یہ ہمیں آہستہ آہستہ پتہ چلتا ہے ، وہ کلبیت ، ختم نہیں ہوتی ، اور نہ انقلاب آتا ہے مگر زندگی کا ایک مخصوص حصہ ضائع کرنے کے بعد ہمیں سمجھ آتی ہے کہ ہمیں اس بے سکونی کا حل کیسے ڈھونڈنا ہے۔
میں نے کتاب کہانی پر ہونے والے تبصرے پڑھے، بہت جگہوں پر یہی بات کی گئی کہ یاسر جواد نے خود کو تو بچالیا مگر باقی سب کو رگڑا لگایا ہے۔ کیا ہم سب ایسے نہیں ہیں؟ کیا ہم سب دنیا کو اپنی نظر سے اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی وجہ سے نہیں پرکھتے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ اگر کوئی ہم سے اچھی طرح پیش نہ آئے اور وہ خواہ کسی الف ب ج کے لیے بہت اچھا بھی ہو، وہ ہمارے لیے بھی اچھا ہوگا؟ نہیں وہ ہماری نظر میں اچھا نہیں رہے گا ۔ ہم سب ایسے ہی ہیں ، ہم سب دیوار کے پار نہیں دیکھ سکتے ہم وہی سب دیکھتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ میں یہاں پر اس بات پر بالکل معترض نہیں ہوں کہ انہوں نے دوسروں کے بارے میں سخت لہجہ اپنایا ۔
کچھ جگہوں پر میں معترض ہوئی اور وہ میں نے صاحب کتاب کو بتایا بھی اور انہوں نے وضاحت بھی کی۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے، میں یہ سوچتی رہی کہ یہ جو ون مین آرمی کے سپہ سالار ہیں، جو آج اتنے قابل اور اتنے بہادر ہیں کہ بیس تیس سال پہلے کی ترجمہ شدہ کتابوں کو دوبارہ سے ٹھیک کرنے کے لیے دیکھتے ہیں، انہوں نے اگر پہلی بار ترجمہ کرنے کی ہمت نہ کی ہوتی تو کیا ہمیں آج یاسر جواد جیسے عظیم مترجم مل پاتے؟ میں یہ سوچتی رہی کہ وہ پہلے ترجمے کی پہلی سطر ، ان کے لئے کس قدر اہم رہی ، شاید اس وقت انہیں بھی معلوم نہیں ہوگا جب انہوں نے ارادہ کیا ہوگا۔ ہم سب ان کے پہلے ترجمے کے شکر گزار ہیں۔
جب کوئی مختلف ہو تو اسے زندگی مختلف روپ دکھاتی ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ آج بھی وہ سوچتے ہوں گے اگر اپنی بارات والے دن وہ کسی وجہ سے آگے نہ چلے گئے ہوتے تو شاید اپنی شادی پر وہ اپنی دلہن اور باراتیوں کے ساتھ سفر کرتے۔
جس طرح انہوں نے بتایا کہ ان کی دلہن کے لیے خریدا گیا سونے کا سیٹ ، چوری ہونے کا آج بھی انہیں خیال آتا ہے اسی طرح ہم سب نے اپنا ایک آدھ دکھ سنبھال رکھا ہوتا ہے جسے ہم رہ رہ کر یاد کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر وہ نقصان نہ ہوا ہوتا تو آج ہماری زندگی کیسی ہوتی ؟ آج بھی شاید انہیں خیال آتا ہو کہ اگر شادی پر ان کی دلہن کا جوڑا ، کسی ہمسائے سے ملا ہوا نہ ہوتا تو ہو سکتا ہے کہ یادوں میں کچھ فرق ہوتا ۔
ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں پڑھتے ہوئے بہت سی جگہوں پر میں خاموش ہوئی خاص طور پر جہاں ان کی والدہ یا بہن کی بیماری کا ذکر آیا ۔ میرا دل بے حد بوجھل ہوا۔ جس ماں نے ساری عمر اپنا ذاتی مکان نہ دیکھا تھا ان کو اپنے گھر میں رہ کر کیسا لگا ہوگا۔
یاسر جواد کے بطور انسان سارے روپ اچھے مگر ان کا بطور باپ ، کردار مجھے متاثر کرتا رہا ۔ وہ جب جب اپنی بیٹیوں کا ذکر کرتے ہیں ، ان کے الفاظ کے لہجے میں نرماہٹ پھیل جاتی ہے ۔ جہاں وہ اپنی شریک حیات سعدیہ جواد عرف شازی کا ذکر کرتے ہیں ان کا لہجہ بے حد خوبصورت ہوجاتا ہے ۔ جس طرح انہوں نے اپنی بیوی کا خوبصورتی سے ذکر کیا ہے مجھے بہت کم کسی اور کے قلم سے پڑھنے کو ملا۔
میں نے یہ بات انہیں خاص طور پر کہی کہ آپ کی پوری کتاب ایک طرف، آخری پچاس صفحے ایک طرف ۔ ان کی ہر سطر میں ایک سبق ہے ایک خیال ہے ، ایک نئ سوچ ہے۔ میں نے بار بار ان آخری دو ابواب اور ان کی مختلف موضوعات پر رائے کو پڑھا۔ ہر بار پڑھنے کے بعد کہا کہ یہ واقعی میرے استاد ہیں ۔
میں نے لاہور کے ان علاقوں میں بہت وقت گزارا ہے جہاں پر انہوں نے اپنا جوانی کا دور گزارا ، جہاں پر ان کے گروپ کے احتجاج ہوتے جہاں ان کی میٹنگز ہوتی تھیں، اسلیے مجھے لگتا رہا جیسے سول لائنز کے پاس سے جہاں یاسر جواد کا دور ختم ہو رہا تھا ، وہاں سے ہم لوگوں کا دور شروع ہوا ہے ، ہم جو بیسویں صدی کے آخری سالوں میں پیدا ہونے والے لوگ ہیں۔ اسلیے مجھے یہ منظر ایک دیوار کے گرد بھاگنے جیسا لگا ، وہ اور ان کے ساتھی بھاگ کر دیوار سے لگ کر دروازہ پار کر جاتے ہیں اور ہم جیسے لوگ دوسری سمت کے دروازے سے داخل ہو کر دیوار کے ساتھ بھاگنے لگتے ہیں ۔ میں یہ بھی ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ ان کے لئے پرانے اور نئے لاہور کو دیکھنا کیسا ہے؟ کیا انہیں وہ پرانا لاہور یاد آتا ہے جو انہوں نے اپنے کیرئر کے ابتدائی سالوں میں دیکھا؟ وہ سڑکیں وہ پرانے علاقے ان کی یاداشتوں میں کس طرح رہتے ہیں ؟ وہ تمام لوگ جن کے ساتھ وہ ملے، رہے اور پھر وہ دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے ۔
مجھے پتہ نہیں کیوں اب بھی لگتا ہے کہ ان کو اپنے ابا کے خط میں ملنے والا پچاس، سو پاؤنڈ کا نوٹ آج بھی یاد آتا ہوگا ۔ وہ مور پنکھ رکھنے اور ڈھونڈنے والے نہیں ہیں مگر ابا کا بھیجا ہوا خط ، اور کچھ پیسے ، کسی بھی مور پنکھ سے زیادہ خوبصورت اور قیمتی ہوتے ہیں ۔ "
نوشابہ سید
"یہ کسی جاننے والے اور عزیز کی آپ بیتی پڑھنے کا میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ بھی اِس لیے پڑھی کہ لکھنے والے کے متعلق اُس کے اپنے الفاظ میں جاننے کی خواہش تھی، ورنہ آپ بیتیاں مجھے بورنگ لگتی ہیں۔ مجھے کتاب کہانی کا کور ڈیزائن بہت اچھا لگا تھا جس کا اظہار کتاب شائع ہونے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔ ایک نکمے قاری کی طرح میں نے بھی پہلے وہ صفحات تلاش کیے جہاں مجھ سے وابستہ لوگوں کا تذکرہ تھا۔ اپنی والدہ کے بارے میں صفحات نمکین نمی سے لبریز ہوئے۔ مجھے لگتا ہے کہ اُن کی شخصیت کو اِس سے بہتر انداز میں شاید ہی کوئی بیان کر سکتا ہو۔
پھر مصنف کی بڑی بہن کی وفات کے ذکر نے دہلا دیا جن سے قریبی تعلق نہ ہونے کے باوجود سیلِ اشک روکے نہ رکا۔ میرے خیال میں تحریر کا حق تبھی ادا ہوتا ہے جب وہ قاری کے دل پر اثر کرے۔ مجھے کتاب کہانی ایک عام شخص کی کہانی کی طرح خاص، مشکل اور الجھی ہوئی لگی۔ جیسے فلم/ڈرامے میں عام آدمی کا رول کرنا مشکل ہوتا ہے، اور عرفان خان کو اُس میں کمال حاصل تھا۔ یاسر بھائی نے عام سے واقعات، عام سے لوگوں اور روزمرہ کی باتوں کو اپنے خاص مشاہدے میں بیان کر کے آپ بیتی کو ناول بنا دیا ہے۔ میں چونکہ ادبی تصانیف کے درجوں سے واقف نہیں ہوں، اس لیے اپنی پسندیدگی کی وجہ سے آپ بیتی کو ناول کہا۔
مجھے نہیں معلوم کہ ادب کے درجوں میں کس کا مقام اونچا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کتاب کہانی پڑھ کر بہت سے لوگ اُن سے ناراض بھی ہوئے ہوں گے، لیکن جو اُنھیں جانتے ہیں اُنھیں یہ بھی علم ہے کہ وہ جس بات کو ٹھیک سمجھتے ہیں اُسے دھڑلے سے بیان کرتے ہیں۔ After all its all about perception۔ "