قارئین کے تاثرات

ہمارے قارئین کی آراء اور تبصرے

محمد ساغر 
"یاسر جواد کی آپ بیتی"کتاب کہانی" ان لگے بندھے اصولوں کے مطابق نہیں ہے جس میں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں مگر اصل حقائق یا تو چھپا لیے جاتے ہیں یا انہیں گول کر دیا جاتا ہے۔ یاسر جواد نے پبلشرز کے رویوں کے بارے میں آگاہ کرتے..."
مجاہد حسین 
"مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نوے کی دہائی کے شروع میں جب مجھے یقین ہوگیا کہ جمعیت طلبہ اسلام سے یونی ورسٹی کے دنوں میں کشیدہ تعلقات کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی نجی کالج میں بھی اردو ادب پڑھانے کی نوکری نہین مل سکتی تو میں سیدھا روزنامہ خبریں جا پہنچا۔ضیا شاہد نے میری تحریر کو دیکھتے ہوئے یک سطری حکم جاری کیا کہ..."
امجد قمر 
"یاسر جواد کی آپ بیتی "کتاب کہانی" کا مطالعہ مکمل کیا۔ یاسر سے میرا تعارف 2013 میں ہوا تھا جب ہمارے ادارے کو کچھ کتابچوں کا اردو میں ترجمہ درکار تھا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ترجمے کے حوالے سے..."
محمد علی رضا 
"مجھے ابدیت کا یہ کا تسلسل کتابوں کے ذریعے وصول ہوا اور اسی کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ بڑے لکھاری عام لوگوں کی کہانیاں لکھتے ہیں اور عام لوگ بڑے لوگوں کی کہانیاں پڑھتے ہیں۔ یہ کوشش عام مگر فہیم لوگوں کو..."
سدرا ملک
"(شاید میرے الفاظ جانبدار لگیں مگر درحقیقت میں غیر جانبدار ہوں ۔ مجھے اس کو پڑھتے ہوئے اور پڑھنے کے بعد جیسا محسوس ہوا ، میں بالکل ویسا ہی لکھ رہی ہوں۔ سوچ سمجھ کر لکھنے کے بعد بھی یہ تحریر بہت لمبی ہوگئ ہے اور ابھی تو..."
نوشابہ سید
"یہ کسی جاننے والے اور عزیز کی آپ بیتی پڑھنے کا میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ بھی اِس لیے پڑھی کہ لکھنے والے کے متعلق اُس کے اپنے الفاظ میں جاننے کی خواہش تھی، ورنہ آپ بیتیاں مجھے بورنگ لگتی ہیں۔ مجھے کتاب کہانی کا کور ڈیزائن بہت اچھا..."