ہمارے کئی ادبی اداروں نے مقامی زبانوں اور صوبوں کے ادب کی تواریخ شائع کی ہیں، لیکن شاید ہی آپ کو کوئی ہسپانوی، روسی، امریکی، اطالوی ادب وغیرہ کی تاریخ ملے گی۔ بلکہ انگلش ادب کی بھی تاریخ ملنا محال ہو گا۔ تاریخ ادیب کو تناظر مہیا کرتی ہے، لیکن شاید ہمارے معاشرے کے لیے اِس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ ہم نے تاریخ میں بھی کوٹہ سسٹم بنا رکھا ہے۔ اگر براہوی ادب کے کسی بندے کو انعام یا اہمیت دی ہے تو پھر بلوچ ادب کو بھی دینی ہے، پنجابی ادب پر کسی کو انعام دیا ہے تو سرائیکی پر بھی دینا ہی پڑے گا۔
البتہ اگر ہم صرف انگلش کے ہی صرف ایک دور کے متعلق بات کریں تو حیران رہ جائیں گے۔ ہمارا نقاد خود تو گندم بھی اپنی زمین سے منگواتا ہے، مگر ماڈرن کے بعد پوسٹ ماڈرن دور میں بھی پہنچا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں ٹیکنالوجیکل آلات اور بھونڈے تجربات سے قطع نظر، ابھی تک ادبی جدیدیت بھی نہیں پنپ سکی۔ ہم مابعدالطبیعیاتی اور رومانوی دور میں ہی ہیں۔ بطور مثال ذرا انگلش ادب کے جدید دور پر نظر ڈالیں تو پتا چلے گا کہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں کن عوامل نے ’’جدید‘‘ ادب کو پیدا کیا۔
جدید ادب کی جڑیں انیسویں صدی کے آخر میں ہیں۔ ’’آرٹ برائے آرٹ‘‘ پر زور دینے والی جمالیاتی تحریک نے فطرت اور آرٹ کے متعلق متوسط طبقے کے مفروضات کو نشانہ بنایا۔ جمالیات پسندی نے آرٹسٹ کے اخلاقی اور تعلیمی فرائض کے وکٹوریائی تصورات کو رد کرتے ہوئے اہلِ قلم اور عام لوگوں کے درمیان خلیج کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں جدید آرٹسٹ معاشرے سے بیگانہ ہو گیا۔ یہ بیگانگی فرانسیسی علامتیت پسندوں اور انیسویں صدی کے آخر کے دیگر بوہیمیاؤں کی زندگیوں اور کام میں عیاں ہے جنھوں نے محترم ہونے کی اہلیت کے روایتی تصورات کو رد کیا، اور یہ جدید ادب کے اہم کاموں کی تہہ میں موجود ہے، جیسے جیمز جوائس کا ’’پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین‘‘ اور ٹی ایس ایلیٹ کی ’’دی ویسٹ لینڈ۔‘‘
1870ء کے ایجوکیشن ایکٹ (جس نے بنیادی تعلیم کو لازمی اور ہمہ گیر بنایا) کے نتیجے میں انگلینڈ میں عوامی تعلیم کو فروغ ملنے سے عوامی خواندگی کی تیزی سے نشوونما ہوئی۔ بڑے پیمانے پر عوامی ادب اور نئی سستی صحافت (زرد صحافت) اِنھی لوگوں کے لیے تھے۔ ادب کے ناظرین highbrows، middlebrows اور lowbrows میں بٹ گئے، اور قارئین کی اِس پھوٹ نے عوامی آرٹ اور صرف باذوق لوگوں کے آرٹ میں فاصلہ بہت تیزی سے بڑھایا۔ بیسویں صدی میں ادب، موسیقی اور بصری ؤرٹس میں کیے جانے والے تجربات نے خلیج کو مزید بڑھا دیا۔
1887ء میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی اور 1897ء میں ڈائمنڈ جوبلی ایک عہد کے خاتمے کا اعلان تھی۔ متوسط طبقے کے وکٹوریائی رویوں کے خلاف ردعمل جدیدیت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور 1901ء میں ملکہ کی موت سے دو عشرے پہلے سے جاری تھا۔ سیموئل بٹلر نے خاندان، تعلیم اور مذہب کے وکٹوریائی تصورات پر اپنے ناول ’’The Way of All Flesh‘‘ میں حملہ کیا۔ وکٹوریئن ازم اور جدیدت کے درمیان ایک مرکزی شخصیت ٹامس ہارڈی تھا جو ’’The Darkling Thrush‘‘ نظم میں وکٹوریائی عہدے کے خاتمے اور نئے دور کے طلوع کی نوید بنا۔ 31 دسمبر 1900ء کو لکھی گئی یہ نظم ایک صدی کی موت کا نشان ہے۔ یقین اور رجائیت کی صدی کا خاتمہ اور تشکیک بھری نئی صدی کا آغاز۔ اِس میں جدید دنیا کو ’’hard and dry‘‘ کہا گیا جو ایزرا پاؤنڈ اور ٹی ای Hulme کے پسندیدہ الفاظ بن گئے۔ رابرٹ لوئس سٹیونسن اور رڈیارڈ کپلنگ بھی اِسی رو میں آئے۔
بیسویں صدی کے آغاز پر معاشرے، مذہب اور ثقافت کے روایتی سہارے کمزور ہوئے لگتے تھے، تبدیلی کی رفتار مسلسل بڑھ رہی تھی۔ جدیدیت کی پریشان کن قوت نے انسانی تجربے کو پیش کرنے اور بامعنی بنانے کے روایتی طریقوں کو گہرائی میں چیلنج کیا۔ سماجی اور ٹیکنالوجیکل تبدیلی؛ جنگ، ایمپائر اور اقتصادی نقل مکانی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی؛ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں ثقافتوں اور طبقات کا آپس میں میل جول پرانے سلسلے میں اکھاڑ پچھاڑ کا باعث بنا، اخلاقی اور سماجی ضابطے ٹوٹے، ذات، کمیونٹی، دنیا اور معبود کے متعلق سابق مستحکم مفروضات شک کی زد میں آئے۔ بشریات، نفسیات، فلسفہ اور بصری آرٹس میں زور دار نئے تصورات اور ذخیرۂ الفاظ نے انسانی شناخت کو نئے انداز میں تصور کرنے کے قابل بنایا۔ ہم اِن سب شعبوں میں جدیدیت کے اثرات اور اِن کی وجہ سے ادبی جدیدیت پر پڑنے والے اثرات پر درجہ بہ درجہ بات کریں گے۔
بحوالہ: The Norton Anthology of English Literature۔