تقریباً ہر بڑی یونیورسٹی کے لیے آرٹس کا بروشر شاید موزوں طور پر فوٹوگرافس کا ایک مونتاج پیش کرتا ہے۔ اس مونتاج میں دنیا بھر سے پیش کیے جا رہے ثقافتی نذرانے دکھائے جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مونتاج میں پیش کردہ رقاصہ کا سر ایسٹ انڈین، بائیں ٹانگ دیسی امریکی باشندے کی، دائیں ٹانگ ایک افریقی امریکی جدید ڈانسر کی، دھڑ ایک سوٹ اور ٹائی میں ملفوف ہو اور بقیہ نصف حصے میں شاہین کے پروں کی طرح پھیلے ہوئے بازو ہوں جن میں سے ایک بازو مقدس تبتی انداز کا حامل ہو، دوسرا طاقت ور بازو جاپانی ڈھول پیٹ رہا ہو، اور مزید دو نسوانی بازو ہندوستان کے غنائی رقص کا انداز لیے ہوئے ہوں۔ 

اس ثقافتی مرکب کو ان زیادہ تر لوگوں کی زندگیوں کے مقابل رکھ کر دیکھیں جو اس سیارے کی زیادہ تر تاریخ کے دوران یہاں زندگی گزارتے رہے ہیں۔ قرون وسطیٰ کے شہری اور قبل از جدید دور کے قبائلی معاشروں کے ارکان کسی اور دیوتا، کسی متضاد نظریۂ دنیا، مختلف لوک کہانیوں، رقصوں یا اساطیر سے رابطے میں آئے بغیر ہی اپنی زندگی کے تمام برس گزار سکتے تھے۔ اگر ان اپنے سے مختلف کسی فرد یا معاشرے سے سابقہ پڑ بھی جاتا تو حکمت عملی یہ تھی کہ اسے عسکری، معاشی یا جنسی اعتبار سے تسخیر کر لیا جائے؛ اسے اپنا ہم مذہب بنا لیا جائے؛ یا ہلاک کر ڈالا جائے۔ اپنے سے مختلف دوجے کا وجود، دوجے کی موجودگی ہی آپ کے اپنے اعتقادات کی مفروضاتی ہمہ گیریت کے لیے خطرہ تھی۔ 

تاہم، مابعد جدیدیت (پوسٹ ماڈرن ازم) میں شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب ہمیں متعدد مختلف حقیقتوں سے واسطہ نہ پڑے۔ ذرا ٹیلی وژن آن کریں اور آپ کو شاید کوئی بین الاقوامی میوزک گروپ آئرش محبت کے گیت، ہندوستانی راگ، گونج دار ترانے، منگولیائی بودھی منتر کا ایک ملغوبہ گنگناتا ہوا ملے گا — اور peyote ڈرم، گیمی لان، ڈیجری ڈو، پین پائپس، نفیریاں، نقارے، ستار اور طنبورے سنگت پر ہوں گے۔ اور ہو سکتا ہے کہ یہ تمام آوازیں اصل آلات کے بجائے الیکٹرانک طریقے سے پیدا کی جا رہی ہوں۔ رقص پر مائل کرنے والی جمیکائی لوک موسیقی یا ہِپ ہاپ کی تال سیٹیلائٹ کے ذریعے دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں ناظرین تک پہنچائی جا رہی ہو گی — اور اس کا منافع شاید برازیلی برساتی جنگلات کو بچانے کے لیے استعمال ہونا ہو۔ درحقیقت اگر آپ مصر کے کسی گاؤں میں ہونے والی بنیاد پرستانہ شادی کی تقریب میں جائیں تو سخت گیر بزرگوں میں گھری ہوئی دلہن نقاب میں نظر آئے گی تاکہ کسی مرد کی درانداز نگاہ اسے داغ دار نہ کر دے — لیکن وہ نقاب کے پیچھے چوری چھپے اِیئرفون لگائے اپنے چھوٹے سے ریڈیو پر کوئی کنسرٹ سن رہی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنی روایتی عبا کے نیچے جینز پہن رکھی ہو اور پیٹ کوکا کولا سے بھرا ہوا ہو۔ 

”نئے عہد“ کا کوئی بھی میگزین اٹھائیں، اور آپ کو ”پراسرار اور نامعلوم“ ہزاروں شکلوں میں بِکتا ہوا ملے گا — بدن سے محروم روحوں کی نفسیاتی بازیافت، ریاضت کی بودھی، تاؤاسٹ اور ہندو تکنیکیں، دیسی امریکیوں کے پسینہ لانے والے غسل خانے، کرسٹل اور جڑی بوٹیاں، مراقبے کی الیکٹرانک مشینیں اور نادر نسخے۔ آپ کے ہم عصر کو صبح کے وقت ایک کوئیکر میٹنگ میں جانے، متوازن زَین غذا کا ناشتہ کھانے، چینی تاؤاسٹ مراقبے میں بیٹھنے، ایک انڈین آیورویدک لنچ نوش کرنے، تائی چی سے پہلے ایک چیروکی ورزش کرنے، شام کو ایک سوئے برگر کھانے اور پورے چاند کی رات میں اپنے نو پاگان گروپ کے ساتھ witching تقریب میں شرکت کرنے، اور پھر گھر آ کر اپنے ”نئے عہد“ کے دوست کے ساتھ ہندو تانترک اصولوں کے تحت مجامعت کرنے میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔ 

دنیا کی تمام ثقافتیں، رسوم، نسلیں، ڈیٹا بینک، اساطیر، موسیقی کے جانے پہچانے سُر ایسے باہم مدغم ہو رہے ہیں جیسے کسی زلزلے کا شکار ہو گئے ہوں۔ اور مخلوط امیجز کا یہ بے ہنگم ملغوبہ عالمی ہے، یہ روایتی عوامی میڈیا میں اور سائبر سپیس میں بھی در آیا ہے۔ اور سائبر سپیس ایسی جگہ ہے جہاں نئی کائناتوں اور حقیقتوں کے شگوفے پھوٹ رہے ہیں، اور جسے سائبر مخلوق اور سائبر پیشواؤں کی ہر لحظہ بڑھتی ہوئی آبادی کھوج رہی ہے۔ یہ مخلوق الیکٹرانک چوہوں کی طرح الیکٹرانک نکاسی کے پائپوں، کوٹھڑیوں، پگڈنڈیوں، غاروں، گٹروں اور سرنگوں کے وسیع باہم مربوط سلسلے میں سے بِل کھودتی رہتی ہے۔ وہ کوڈز کے تقریباً لامحدود باہم منسلک کیٹالاگ کے ذریعے ایک سائبر مقام سے دوسرے سائبر مقام تک پہنچنے کے قابل ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، ہماری دنیا باہم مربوط تضادات کی دنیا بنتی جا رہی ہے۔ تضادات بجلی کی رفتار سے سائز اور تعداد میں بڑھ رہے ہیں۔ اب اخلاقیات یا اسطورہ یا رسم یا رقص یا خواب یا فلسفہ یا ذات، دیوتا، ثقافت کا تصور یا آرٹ کا کوئی واحد ایسا انداز نہیں رہا جو غالب ہو۔ مواصلات کی نئی ٹیکنالوجیز اور ثقافتوں کے ہزاروں چھوٹی چھوٹی ثقافتوں میں بٹنے کا متواتر عمل ہمیں مجبور کر رہا ہے کہ اب دنیا کو بیک وقت پھیلتے اور سکڑتے ہوئے بھی دیکھیں۔ اور جس طرح سابقہ صدیوں کی اَن جانی نئی دنیا کے کھوجی موجود تھے جو دریافت کے سفروں پر روانہ ہوئے، نئے نقشے ساتھ لے کر واپس آئے (جنہیں نئے خطے دریافت ہونے پر بار بار نئے سرے سے بنایا گیا) اسی طرح نئی ورائے جدیدیت دنیا — ورائے جدیدیت حقیقت — کے اپنے نقشہ نویس اور کھوجی ہیں۔ 

گزشتہ صدیوں کے نقشہ سازوں نے گلوب پر ایک جعلی خطوط کا ایک جال بنایا تھا — میریڈین — عرض البلد اور طول البلد کی لائنیں۔ انہوں نے تنگ آبناؤں، اَن دیکھے مجموعہ ہائے جزائر، تاریک براعظموں، تیز ہواؤں، لہروں اور طوفانوں کے نقشے بنائے۔ اسی طرح، ورائے جدیدیت کے دانشوروں — فلسفیوں اور نظریہ دانوں — نے ہماری تیزی سے بدلتی ہوئی ورائے جدیدیت دنیا کے خدوخال کی نقشہ گری کرنا چاہی — اس کا شناختوں، حقیقتوں، ثقافتوں، نسلوں، صنفی کرداروں، ٹیکنالوجیز، معیشتوں، سائبر سپیسز، بصری ثقافتوں (میڈیا سکیپس) کا ملغوبہ۔ 

لیکن ان وقوع پذیر تبدیلیوں کے بارے میں ہر شخص دانشورانہ انداز میں نہیں سوچتا۔ 

یہ پوسٹ ماڈرن آرٹسٹ یا معمار محض پیغامات، علامات، ثقافتوں اور میڈیا کے نئے ملغوبے پر غور کرتے اور پھر ایک ویڈیو، گیت، پینٹنگ یا عمارت بناتے ہیں جو پوسٹ ماڈرن صورت حال کو منعکس کرتی ہے۔ 

ہم پوسٹ ماڈرن آرٹسٹ کی ایک مثال کے طور پر میڈونا کو لے سکتے ہیں۔ یقیناً کوئی سوال پوچھے گا: ”میڈونا میں ایسی پوسٹ ماڈرن والی کیا بات ہے؟“ 

پہلی بات تو یہ کہ وہ قطعی شعوری طور پر طشت از بام ہے، سر تا پا صناعی، ساری کی ساری بنی سنوری، مکمل کاریگری، قطعی طور پر جعلی اور شبیہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ہم سراب، سرابی حقیقت کے ایک دور میں رہتے ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ سوانگ رچانا اور ظاہریت کا مطلب جوہر اور حقیقت سے بڑھ کر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اصل کو اپنے مطابق استعمال کرنا اور اس کی نقل پیش کرنا اصل سے زیادہ حقیقی ہیں۔ چنانچہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے بے وقعت، کھوکھلی، غیر اچھوتی ہے۔ اور وہ صرف اپنی ویڈیوز میں ہی ایسی نہیں۔ وہ جانتی ہے کہ ”حقیقی“ زندگی محض شوبز بھی ہے۔ چنانچہ وہ تنخواہ کا چیک تو وصول کرتی ہے لیکن حقیقت میں کام پر نہیں جاتی۔ جب وہ مارلن منرو جیسا لباس پہنتی ہے تو اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مارلن منرو خود بھی محض ایک صناعی تھی، ایک تعمیر، ایک شبیہ، چیتھڑے میں یا فیشن ایبل لباس میں ملبوس ہونے کی ہی طرح۔ چنانچہ اس کا مارلن منرو کی طرح ملبوس ہونا بالکل اسی طرح دُہرا مرموز (Double coded) ہے جیسے ”بلیڈ رنر“ اور پوسٹ ماڈرن فن تعمیر دوہرے مرموز ہیں۔ 

میڈونا پر تنقید کرنے والوں میں سے کچھ لوگ (جیسے نسوانیت پسند، اساتذہ، بیرونی جنگوں کے تجربہ کار فوجی، وغیرہ) اسے ایک لاپروا فاحشہ ہی سمجھتے ہیں جس نے گھٹیا قسم کی جیولری پہن رکھی ہے، جو اپنی ناف کے سوراخ کو نمایاں کرتی ہے اور جس کی چھاتیاں چھونے کی دعوت دیتی ہیں۔ دوسری طرف میڈونا پر تحقیق کے کچھ ماہرین اسے مذکر/ مؤنث، اعلیٰ آرٹ/ پاپ آرٹ، سیاہ/ سفید، کنواری/فاحشہ وغیرہ کے اساسی تصورات کی تحلیل کرنے والی سمجھتے ہیں۔ 

کس چیز کے اساسی تصورات کی تحلیل کرتی ہوئی؟ 

صنفوں یعنی مرد عورت کے روایتی کردار، مردانگی اور زنانہ پن کے تصورات، متعین مقابل مدوں کے ذریعے قائم رکھے جاتے ہیں — جنسی فرق کے مشابہ متضاد (binary opposites)۔ مثلاً کالی لیس والا برا پہننا جس کا تھوڑا سا سٹریپ کندھے پر دکھائی دے رہا ہو، مردانہ نہیں بلکہ نسوانی کھیل خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن میڈونا کی ویڈیوز میں مردوں کی چھاتیاں ہیں اور انہوں نے برا پہن رکھے ہیں؛ اس کا مطلب ہوا کہ وہ چھاتیوں پر رشک کرتے ہیں (بجائے اس کے کہ عورتیں لِنگ پر رشک کریں)۔ نیز ویڈیوز میں عورتیں شہوانی ایستادگی رکھتی ہیں، کنواریاں فاحشائیں ہیں اور رنڈیاں باکرہ دوشیزائیں۔ 

مردانہ اور زنانہ، مرد اور عورت، ہم جنس پرست اور صرف جنس مخالف میں دلچسپی رکھنے والے کے درمیان سخت گیر سرحدوں کی تحلیل کرنے کے ذریعے میڈونا کی ویڈیو ”Justify My Love“ ہم جنس پرستوں کے لیے ایک طرح کا ترانہ بن گئی ۔ یہ جنسی رجحانات، صنف اور جنس کے درمیان فرق کو محو کرتی اور ایسی دراڑ زدہ امیجز کا ایک شہوت خیز بہاؤ  پیش کرتی ہے کہ جو صرف ہم جنسی یا دگر جنسی، سیاہ یا سفید کھیل، مذکر یا مؤنث کھیل کھیلنے سے انکار کرتے ہیں، لیکن تھوڑی سی تخیل بازی اور لباس کی ادلا بدلی کے ذریعے ان سب کا امتزاج پیش کرتی ہے: لیزبیئن- دگر جنسی کھیل، دگر جنسی- لیزبیئن کھیل، سیاہ فام- مذکر-لیزبیئن کھیل وغیرہ۔ لیکن اگر میڈونا کی ویڈیوز صنف، جنسیت اور نسل کی تحلیل کرتی ہیں تو کیا یہی ویڈیوز اور میڈونا کا پورا مظہر طاقت (پاور) کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا؟ 

ہاں رکھتا ہے۔ اور طاقت کے تخیلات سے بھی۔ فطری بات ہے کہ بے طاقت شخص طاقت پسند کرتا ہے۔ اور میڈونا کی طاقت کا ایک بڑا حصہ جانی مانی طاقتوں کے خلاف بغاوت کے امیجز پیدا کرنے سے ماخوذ ہے۔ لیکن اکثر میڈونا واحد طاقت یہ رکھتی ہے کہ اپنے پرستاروں کو اپنی پروڈکٹس خریدنے پر مائل کرے: ملٹی نیشنل تفریحاتی کارپوریشنز کی دولت بڑھانا جو انہیں مسحور کیے ہوئے ہیں۔ میڈیا امیجز کا بہاؤ ہمیں مسحور و مشروط کرتا ہے۔ میڈونا کے امیجز کی ورائی حقیقت (Hyperreaility) میڈونا جیسی بننے کی خواہش مندوں سے زیادہ حقیقی بن جاتی ہے۔ 

ایم ٹی وی ایک اور پوسٹ ماڈرن مصنوع ہے۔ ایم ٹی وی کیوں؟ ٹیلی وژن کو مجموعی طور پر پوسٹ ماڈرن خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ امیجز کے ایک تارنیڈو جیسا ہے جو اس قدر تیز رفتار سے گھومتے ہیں کہ بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ناظرین امیجز کی بے معنی روشنی اور جھپکاہٹ دیکھتے دیکھتے مکمل جذب ہو جاتے ہیں اور ان کے ذہن بھی ایک سکرین سی بن جاتے ہیں۔ 

لیکن کچھ ایک امیجز بامعنی ہیں۔ زیادہ تر sit-coms اور soaps میں کہانیاں ہوتی ہیں۔ اور اسی لیے ایم ٹی وی خاص طور پر پوسٹ ماڈرن سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ زیادہ تر ٹی وی کے لیے کہانی بتانا معمول کی بات رہی ہے۔ لیکن ایم ٹی وی کی بنیاد کہانیاں سنانا نہیں بلکہ امیجز کا غیر مربوط بہاؤ ہے۔ چنانچہ منحرفانہ ایڈورٹائزنگ کی جاتی ہے — بڑی بڑی کارپوریشنز کی ایڈورٹائزنگ مہموں کو بگاڑ کر پیش کرنا، جیسے ’’American Excess: Don’t Leave Home Without It۔‘‘ اس کا باربی آرٹ کے ساتھ قریبی تعلق ہے جس میں باربی ازم کی جگہ باربی ڈالز کو اطاعت گزار انداز، لڑکوں والے ملبوسات وغیرہ میں دکھایا جاتا ہے۔ 

تو کیا چیز کسی ناول یا فلم کو پوسٹ ماڈرن بناتی ہے؟ جدیدیت کے ناولوں کا مرکزی موضوع انفرادی شعور کی حدود ہیں — یعنی فرد دنیا کو کیسے جانتا ہے۔ جیمز جوائس کے ”پورٹریٹ آف دی آرٹسٹ ایز اے ینگ مین“ جیسے ناولوں میں قاری ایک نوجوان (جو ارد گرد کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش میں ہے) کے احساسات و خیالات کی رو میں بہتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن ناول یا فلم میں سوال ”میں دنیا کو کیسے جانتا ہوں؟“ سے زیادہ ”دنیا کیا ہے؟“ بنتا ہے۔ 

عموماً ”پوسٹ ماڈرن“ قرار دی جانے والی ایک فلم Wim Wenders کی ”Wings of Desire“ ہے۔ اس میں دو قطعی مختلف دنیاؤں کو ساتھ ساتھ دکھایا گیا ہے۔ کردار برلن شہر میں گھومتے پھرتے ہیں — ایک بین الاقوامی کاسمو پولیٹن جو مختلف زبانوں اور ثقافتوں اور شناختوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہر ایک باقیوں سے بالکل الگ اور کٹی ہوئی۔ ہر انسان اپنی نجی دنیا میں زندہ ہے۔ پوسٹ ماڈرن برلن کے ساتھ ساتھ دکھائی گئی فرشتوں کی دنیا ازلی زماں کی دنیا ہے۔ فرشتے لوگوں کی آواز سنتے اور سپیس میں فوراً عمل کرتے ہیں۔ لیکن عموماً ان کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ البتہ کچھ انسان اور فرشتے دونوں ایک دوسرے کی موجودگی سے آگاہ ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی ہستی کے اساسی (ریڈیکل) دوجے پن کا شعور ہے۔ 

یہ آرٹیکل چند سال پہلے جِم پاول کی Postmodernism for Beginners کی بنیاد پر ایک جریدے کے لیے لکھا تھا۔)