جدیدیت کی نمائندہ مصنفہ اور حقوقِ نسواں کی حامی ورجینیا وولف لندن میں پیدا ہوئی (1881ء)۔ اُس کی ماں جولیا ایک پبلشر کی بیٹی تھی، جبکہ باپ لیزلی وکٹوریئن نقاد، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھا۔ باپ کی عالی شان لائبریری میں ابتدائی تعلیم پائی اور نقاد والٹر کی بہن سے یونانی سیکھی۔ (یہ بات دلچسپ ہے کہ نشاۃ ثانیہ کی طرح جدیدیت کے بانیوں نے بھی یونانی زبان اور اساطیر سے رجوع کیا)۔ لیکن اُس کی نوجوانی کے سال تکلیف زدہ تھے: بڑے سوتیلے بھائی نے اُسے جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا، 1895ء میں ماں فوت ہوئی اور اُس میں ذہنی بریک ڈاؤن کے ابتدائی علامات ظاہر ہوئیں۔ ایک عزیز سوتیلی بہن دو سال بعد زچگی میں فوت ہو گئی، 1904ء میں باپ کینسر کا شکار ہوا، اور 1906ء میں ایک بھائی ٹائیفائیڈ سے مر گیا۔
وہ اپنی بہن اور دوبھائیوں کے ہمراہ بلومز بَری میں رہنے لگی جہاں کے مشہور ادبی گروپ میں وہ بھی شامل ہوئی۔ یہ علاقہ مڈل کلاس لندن کے اہل فکر کا مرکز تھا۔ گروپ کے ارکان نے جنسی موضوعات پر کھل کر بات کی اور ورجینیا مرد عورت کے تعلقات کے متعلق آزادی سے سوچنے لگی۔ مصور ڈنکن گرانٹ مختلف موقعوں پر کینز، ورجینیا کے بھائی، اُس کی بہن کا عاشق رہا اور مؤخرالذکر سے ایک بیٹی بھی پیدا کی۔ ورجینیا بھی بائی سیکسوئل (دونوں جنسوں کی طرف راغب) تھی۔ وہ اپنے صحافی شوہر لیونارڈ وولف سے شادی کے تیرہ سال بعد شاعرہ ویٹا سیکویل کے عشق میں گرفتار ہو گئی جس کا شوہر بائی سیکسوئل سفیر اور مصنف ہیرلڈ نکلسن تھا۔ اِس ارسٹوکریٹک لیزبیئن کے ساتھ تعلق اُس کے خوشگوار ناول ’’اورلانڈو‘‘ کا محرک بنا۔
ورجینیا اپنی تحریروں کو خود سخت تنقیدی نظر سے دیکھتی تھی۔ اُس کی موت تک لوگوں کو علم تھا کہ وہ شدید ڈپریشن کے دوروں سے گزرتی رہی۔ خصوصاً کوئی کتاب مکمل کرنے پر ڈپریشن بہت بڑھ جاتا۔ مارچ 1941ء میں اُس نے ایک دریا میں کود کر خود کشی کر لی، جس میں دوسری عالمی جنگ کا خوف بہت مؤثر محرک تھا۔ اِس کے علاوہ اُسے ڈر رہتا کہ کہیں وہ پاگل نہ ہو جائے اور اپنے شوہر پر بوجھ نہ بن جائے۔ (1917ء میں دونوں نے مل کر Hogarth پریس کی بنیاد رکھی تھی، جس نے ٹی ایس ایلیئٹ، میکسم گورکی، کیتھرین مینزفیلڈ اور فارسٹر کی تحریروں کے علاوہ فرائیڈ کے انگلش تراجم اور ورجینیا کے ناول شائع کیے)۔
ایک فکشن نگار کے طور پر ورجینیا نے ناول نگاروں کی ’’مادیت پسندی‘‘ کے خلاف بغاوت کی جنھوں نے دکھ اور سماجی ناانصافی کو کھردری حقیقت پسندی کے ساتھ دکھایا۔ ورجینیا نے شعور کے اُن پہلوؤں کو زیادہ پیچیدہ انداز میں پیش کرنا چاہا جن میں وہ انسانی تجربے کی صداقت کو مضمر سمجھتی تھی۔ وہ اپنے مضمون ’’ماڈرن فکشن‘‘ میں ناول نگار کا کام اپنے اندر جھانکنا بتاتی ہے۔ اُس نے اپنے ناولوں میں ترتیب وار کہانی کی بجائے اندرونی ہم کلامیوں اور شعوری رو سے کام لیا۔ اُس کے ناولوں نے جسم کی طبیعی حقیقتوں اور لندن کی مصروف گلیوں سے بھی تحریک پائی۔ ابتدائی فکشن میں تکنیکی تجربات نے بعد کا مخصوص طریقہ وضع کرنے میں مدد دی جو جیکبز روم، مسز ڈالووے اور ٹو دی لائٹ ہاؤس میں ملتا ہے۔
ورجینیا اپنے کیریئر کے دوران عورتوں کی حیثیت کے متعلق زیادہ سے زیادہ غور کرنے لگی۔ پیشہ ور خواتین کی حالت اور اُن پر عائد پابندیوں نے اُسے بہت متاثر کیا۔ In A Room of One’s Own اور ایک مضمون میں وہ مردانہ رواجوں پر بحث کرتی ہے جنھوں نے عورتوں کو دبایا۔
جدیدیت پسند ادب روایت سے ہٹے بغیر ممکن نہیں تھا۔ روایت پسندی رجعت پسندی کا ہی دوسرا نام ہے۔ بدلتے ہوئے معاشی، تاریخی اور معاشرتی حالات ادیب کو اِس روایت پسندی کے خلاف لڑنے کی ہمت دلاتے ہیں۔ لیکن جن معاشروں میں تاریخ کسی گڑھے میں گر گئی ہو، وہاں کھیل آگے نہیں بڑھ سکتا، اور وہ جدیدیت کی بات کرنے والوں کی تحریروں کے تعارف تک سے محروم رہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم۔
Uncategorized
ورجینیا وولف کی جدید سوچ