اِس فلسفے کو مظہریت (phenomenology) کہتے ہیں۔ یہ زور دیتا ہے کہ مظاہر کے اسباب کے بارے میں تھیوریز کو بیچ میں لائے بغیر اور پہلے سے قائم تصورات اور مفروضات سے آزاد رہتے ہوئے شعوری طور پر تجربہ کردہ مظاہر کی براہ راست جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔
یہ اصطلاح اٹھارھویں صدی میں سوئس جرمن ریاضی دان اور فلسفی یوہان ہائنرخ لیمبرٹ نے اپنے نظریۂ علم کو پر لاگو کی تھی جو سچائی کو التباس اور خطا سے تمیز کرتی ہے۔ چنانچہ علمیات (epistemology) کی طرح یہ فلسفیانہ نظریہ بھی ایسے لوگوں کو پسند آتا ہے جو صداقت کو مان کر چلتے ہیں، اور اُس صداقت کو شک میں ڈالنے والے کسی بھی نظریے یا چیز کو غیر معتبر یا التباس قرار دیتے ہیں۔ ایک ہزار تجربات کے بعد بھی اُن کا ’’سچ‘‘ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ علمیات اور علم الکلام مل کر اُس نام نہاد سچائی کو سہارا دیتے ہیں، اور اِس مقصد کی خاطر تمام تجربے کو مشتبہ بناتے ہیں۔
انیسویں صدی میں یہ لفظ ’’ذہن کی مظہریت‘‘ سے منسلک ہو گیا جو ہیگل نے لکھی تھی اور اِس کتاب میں انسانی روح کی حسیاتی تجربے سے ’’مطلق علم‘‘ کی جانب ترقی کو بیان کیا۔ تاہم، مظہریت کی تحریک بیسویں صدی کے آغاز تک چل نہ پائی۔ بلکہ اِس نئی مظہریت میں اتنی زیادہ اقسام شامل تھیں کہ موضوع کو جامع طور پر دیکھنا کچھ گہرے غوروفکر کا تقاضا کرتا ہے۔
سادہ ترین الفاظ میں بات کی جائے تو مظہریت آپ کے جیے ہوئے یا زندگی گزارنے کے دوران کیے ہوئے تجربے کا مطالعہ ہے۔ اِس میں یہ سوال نہیں کیا جاتا ہے کہ چیزوں کا سبب کیا ہے یا وہ طبیعی طور پر کیسے بنتی ہیں۔ اِس میں صرف محسوسات اور براہ راست نقطۂ نظر کے ’’احساسات‘‘ پر بات کی جاتی ہے۔ مثلاً مارٹن ہائیڈیگر کی دی ہوئی مثال میں، جب آپ ہتھوڑا استعمال کرتے ہیں تو وہ آپ کے جسم کی توسیع (ایکسٹنشن) بن جاتا ہے، آپ اُس کی طبیعی خصوصیات کے متعلق سوچنے میں نہیں لگے رہتے۔ لیکن اگر ہتھوڑے کا اگلا حصہ ٹوٹ جائے تو وہ اوزار نہیں رہتا؛ یہ ایک اشتعال انگیز چیز بن جاتا ہے۔ آپ کے شعور میں آنے والی یہی تبدیلی مظہریت کا موضوع ہے۔
کلینکل ریسرچ میں کیفیتی (Qualitative) تحقیق کرنے والے لوگ مظہریت کی مدد سے موضوعی حالات کا گہرائی میں مطالعہ کرتے ہیں۔ مثلاً کسی خاص نفسیاتی حالت میں مبتلا ہائی سکول کے طلبہ کی زندگی کے تجربے کا مطالعہ یا یہ کہ مرتے ہوئے مریضوں کا خیال رکھنے والی نرسیں کیا محسوس کرتی ہیں۔ اُن کا مقصد محض ڈیٹا ہی نہیں بلکہ تجربے کا بالکل درست جذباتی یا نفسیاتی معنی سمجھنا ہوتا ہے۔
فلسفی ڈینیئل ڈینیٹ نے نکتہ اٹھایا کہ مظہریت براہ راست تجربے کے بیان پر انحصار کرتی ہے جو تعصب پر مبنی اور اُس معروضیت سے عاری ہو سکتا ہے جس کی ضرورت سائنسی تحقیق کے لیے لازمی ہے۔ اِس کے علاوہ بیان کرنے کی ’’صلاحیت‘‘ بھی ایک خامی ہے۔ ایک شخص جو گفتگو کا دھنی ہے، یا صرف بولنے کا فن جانتا ہے، وہ اپنی ’’حالت‘‘ کو زیادہ اچھے طریقے سے بیان کر سکے گا، بہ نسبت ایسے شخص کے جو کم گو ہے۔ یہ تصور کر لینا درست نہیں کہ افراد آزادانہ طور پر اپنے ’’جوہر‘‘ کو بیان کر سکتے ہیں۔ ثقافتی مداخلت، ذاتی خبط، عادات، طبقاتی فرق، اختیارات کے امتیاز وغیرہ کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔
مجھے یہ اعتراض بالکل درست لگتا ہے کہ ہم سبھی اپنے گزشتہ تجربات کو ٹھیک ٹھیک یا مؤثر انداز میں بیان نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید ہر کوئی لکھنے کے فن میں بھی ماہر ہوتا۔ اگر ہر کوئی لکھ نہیں سکتا، یا لکھاری نہیں بن سکتا تو پھر ہر کوئی اپنے ’’براہ راست‘‘ بھگتے ہوئے تجربے کو کیسے بیان کر سکتا ہے؟ یہاں مظہریت جواب دے جاتی ہے۔ لیکن صرف ’’محسوسات‘‘ اور اپنی ذات کے تجربے اور اپنی خیالی سچائی کو تمام فلسفے کا محور بنانے والوں کے لیے یہ بہت مفید اندازِ فکر بن سکتا ہے۔