ہم نے بچپن میں پی ٹی وی پر الف لیلہ دیکھا، لیکن اِس کے علاوہ انڈین دُور درشن پر وکرم اور بیتال کے نام سے ڈرامہ سیریز شروع ہوئی اور ہم بہت شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ بعد میں مہابھارت اور رامائن نے بھی ہندوستانی ادب میں شوق پیدا کیا۔

وکرم اور بیتال میں ایک خاص طرح کا تجسس اور دانش کا ملغوبہ پایا جاتا تھا۔ وِکرم اصل میں ایک قدیم ہندوستانی بادشاہت کا حکمران اور علم کا رسیا تھا۔ وہ روزانہ مہمانوں سے ملتا اور تحائف وصول کرتا۔ ایک سادھو بھی اُس سے اکثر ملنے آتا اور ہر بار پھل کا تحفہ لاتا اور بادشاہ پھل کا ٹوکرا اپنے گھریلو منتظم کے حوالے کر دیتا۔ ایک روز بادشاہ کو ٹوکرے میں لعل بھی نظر آیا۔ بادشاہ نے تمام پھلوں کی جانچ پڑتال کا حکم دیا تو کئی لعل مل گئے۔ بادشاہ سادھو سے ملنے کا خواہش مند ہوا جس نے اُسے اماوس کی رات کو ایک برگد تلے بلایا۔ ایسا ہی ہوا۔ سادھو نے بادشاہ سے کہا کہ میدان کے انتہائی سمالی کونے سے درخت کی ایک شاخ سے لٹکی صدیوں پرانی لاش لائے۔ سادھو اُس لاش کی مدد سے کوئی جادو ٹونہ کرنا چاہتا تھا۔

کہانی کے مطابق وکرمادتیہ کو اپنے وعدے کے مطابق بیتال کی لاش لاتے وقت بالکل خاموش رہنا تھا۔ سفر کے دوران بیتال کا بھوت کئی کہانیاں سناتا اور آخر میں ایک سوال پوچھتا۔ بادشاہ جواب دینے پر مجبور ہو جاتا اور سنگین نتائج بھگتنا پڑتے۔ وکرم کے بولتے ہی بیتال واپس شاخ سے جا لٹکتا اور بادشاہ بار بار اُسے کمر پہ لاد کر لاتا۔ یوں بیتال نے پچیس کہانیاں سنائیں جو ’’بیتال پچیسی‘‘ بنیں۔ دراصل سادھو اپنے راجا کو ہلاک کر کے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ بہرحال ایسا نہ ہوا۔ لیکن ہمیں نہایت دلچسپ کہانیوں کا مجموعہ مل گیا جو تجسس، دانش اور نیکی کی کامیابی سے بھرپور ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دریائے جمنا کے کنارے پر کیشو نامی آدمی رہتا تھا۔ کیشو اپنی بیٹی مدھومتی کو بیاہنے کے لیے کوئی رشتہ تلاش کر رہا تھا۔ اِس تلاش کے دوران یوں ہوا کہ مدھومتی کے باپ، بھائی اور مان نے اپنی اپنی پسند کے مختلف لڑکے ڈھونڈ لیے۔ لیکن ابھی فیصلہ نہیں ہو پایا تھا کہ مدھومتی کو ایک سانپ نے ڈس لیا اور وہ مر گئی۔

اِس حادثے کے بعد پہلا مدھومتی کا سامان اور کپڑے وغیرہ بطور یادگار لے کر گھر چلا گیا۔ دوسرے لڑکے نے اُس جگہ رہنا شروع کر دیا جہاں مدھومتی کی موت واقع ہوئی تھی، اور وہ گویا اُس کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ تیسرے لڑکے نے گاؤں چھوڑا، ریاضت کی اور بڑی محنت سے مردے کو زندہ کرنے کا فن سیکھا۔

اِسی تیسرے نے اپنے ہنر کی مدد سے مدھومتی کو زندہ کر دیا۔ اُس نے نئی زندگی ملتے ہیں پہلا سوال یہ پوچھا: ’’مجھے شادی کس سے کرنی چاہیے؟‘‘

بیتال نے سوال کیا: ’’وکرم، کیا تم بتا سکتے ہو کہ مدھومتی کا شوہر بننے کا حق کون رکھتا ہے؟‘‘

وکرم سے رہا نہ گیا اور بول اُٹھا: جو لڑکا مدھومتی کا سامان بطور یادگار لے گیا تھا، وہ اُس کا بیٹا قرار پائے گا۔ مدھومتی کو دوبارہ زندہ کرنے والا لڑکا اُس کا باپ خیال کیا جائے گا۔ مدھومتی کی جائے وفات پر رہائش اختیار کرنے والا نوجوان ہی اُس کا جائز شوہر ہے۔‘‘

ہم سے پہلی نسل کے لوگ گلستان اور بوستان پڑھتے تھے، وکرم اور بیتال سے اخذ کردہ کہانیاں سناتے تھے۔ ایسی کہانیاں ہی روایت بن جاتی ہیں۔ اگر آپ اِن میں سے اپنے ’’روحانی‘‘ مقصد کے تحت نکات اخذ کرنا شروع کر دیں تو بہت کچھ مل جائے گا۔ ایسی صورت میں بار بار معنی کھو جائے گا، اور آپ بار بار اُسے کمر پر لاد کر لائیں گے۔ روایت یقیناً اہم ہے اور ہمیں تناظر عطا کرتی ہے، لیکن صرف تناظر۔ معنی ہمیں اپنے پیدا کرنا ہوں گے۔

غامدی صاحب والی پوسٹ پر دوست بہت نالاں ہیں۔ اُس بارے میں مزید گفتگو پھر سہی۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں