سولھویں صدی کے یورپ میں میں بہت ابتدا کے ’’لبرٹائن‘‘ عرف لبرل لوگوں کا بنیادی نظریہ مذاہب کی مخالفت نہیں، بلکہ مختلف مذاہب (کیلون ازم، پروٹسٹنٹ ازم، کیتھولیسزم) وغیرہ کی پریکٹس کی اجازت یا گنجائش پیدا کرنا تھا۔ یہ کوئی ایک دم سے نہیں ہو گیا، بلکہ نشیب و فراز کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سو سال کا عرصہ لگا۔ فرانسیسی اور ڈچ پیش پیش تھے، اور اُن کے پیچھے بھی سیاسی اور عقلی سے زیادہ تجارتی محرکات موجود تھے۔

ہوموپاکیئن لبرل دوستوں نے مذہبی آزادی کو دبانا لبرل ازم سمجھ لیا۔ وہ اپنے لیے آزادیاں مانگتے ہیں، جس میں سیکس اور شراب بنیادی عناصر ہیں۔ اس پر شور مچانے والے زیادہ تر تو ویسے ہی دونوں چیزوں کے بھرپور صارف بننے کے لائق نہیں ہوں گے، یا ہوں بھی تو اِس کے لیے کون سی آزادی چاہیے؟ جس کے پاس دولت ہے، (یعنی کم ازکم اگلے مہینے کے بلوں اور فیسوں کی فکر نہیں) اُسے کوئی قلت نہیں۔ تو پھر یہ آزادی مانگنا ہی فضول عمل ہے۔ اور ان دونوں میں بے مہار آزادی نہ ہونا بہرحال تخیل، گُردوں اور جگر کے لیے اچھا ہے۔

ہمارے لبرل اور آزاد خیال دوست اگر شاعر بن جائیں تو اکثر اپنا مجموعہ حمد، نعت اور منقبت سے ہی مجموعہ شروع کرتے ہیں۔ وہ کئی نئی ’’بدعتوں‘‘ اور مذہب کے ’’نام‘‘ پر جشن یا دکھ منانے کی نئی روشوں پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ وہ کسی جلوس یا محفل یا نعت میں ویلیں پیش کیے جانے یا کسی بدفعلی کی ویڈیو یا تصویر پوسٹ کر کے ساتھ میں سوال پوچھتے ہیں کہ باریش مسلمان یا عالم ہونے کے باوجود ایسا کیوں ہے؟

گویا اُن کے ذہن میں مذہبی طبقے اور پریکٹیشنرز کا ایک ارفع و اعلیٰ اور کامل نمونہ موجود ہے، جس سے انحراف ہونے پر اُنھیں عجیب لگتا ہے۔ اُن کا اعتراض یا تمسخر دلیل ہے کہ وہ دین کو ایسا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اِس بدعت شناسی کے بعد وہ دین کو کیسے دیکھنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ کبھی نہیں بتائیں گے۔ اور یہی لبرل دوستوں کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ وہ موجود سے مطمئن نہیں، اور متبادل بتانے کی اہلیت یا دلچسپی نہیں رکھتے۔

(اگرچہ میں انسانی معاملات کے لیے ایپلائیڈ علوم سے مثالیں نہیں دیتا، لیکن یہاں بات کو کُند کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہوں) میرے خیال میں مذاہب کے دریا مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے وہاں کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔ کہیں اُن کا پانی صاف اور تیز ہو گا، کہیں مٹیالا اور کہیں کائی زدہ، یا گندھک والا یا سرکنڈوں کے جزیروں والا۔ اب آپ کیا کہیں گے کہ خشک مٹیالے میدانوں سے آتا ہوا گدلا دریا دریا نہیں رہتا؟ یا وہ تب تک دریا کہلانے کے لائق نہیں جب تک چشموں اور جھرنوں کی صورت میں نہ بہے؟ زبان کی طرح مذہب کے لہجے بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ اساسی عناصر کو چھوڑ کر برصغیر کے ہر ضلعے کا اسلام اپنا رنگ رکھتا ہے۔ اب تو لاہور کے اندر ہی مختلف علاقوں کے مختلف رنگ ہیں۔ اعوان ٹاؤن، امامیہ کالونی، رائیونڈ…..۔

یہ سبھی خالص ہیں۔ اور اگر کوئی لبرل کہتا ہے کہ نہیں ’’اصل‘‘ یہ ہے، اور یہ نہیں، تو وہ اپنے ذہن میں کوئی تصور رکھتا ہو گا۔ لیکن اُس پر عمل بھی نہیں کرنا چاہتا۔ اُس کو بس آزادیاں چاہئیں جو اُسے پہلے سے حاصل ہیں۔ لیکن وہ دوسروں کو یہ آزادیاں دینے پر آمادہ نہیں۔ وہ محرم اور رمضان کے دنوں میں خصوصی اعتراضات کرتے، بلکہ تقابلِ ادیان اور اسرائیلیات کے ماہر بھی بن جاتے ہیں۔ جب وہ تکلیف پہنچانا، تنگ کرنا اور چھیڑنا اپنا شغل بنا لیں گے تو پھر اُن کے ساتھ ساتھ کوئی بھی متوازن بات کرنے والا شخص بھی لپیٹ میں آئے گا۔

یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے بہت سے سرکردہ مصلحین مذہب کے اپنے اندر سے پیدا ہوئے نہ کہ باہر سے۔ اب چونکہ ہمارے ہاں، ہر قسم کی اصلاح کا امکان مسدود ہو کر رہ گیا ہے تو اِنھیں chill کرنے دیں۔ اپنے آپ کو ان لوگوں کی خاطر گھلانا اور تڑپانا نہیں چاہیے جو ایک ہزار سال سے کچھ نہیں سوچ پائے، اور اگلے دو سو سال کچھ نہیں سوچ سکیں گے۔

لبرل ازم کی افادیت کا دور بیت چکا ہے، ساری دنیا نے سیکولر ازم (یعنی سب مذاہب کی آزادیاں ماننا، مگر اُنھیں سماجی زندگی میں مداخلت نہ کرنے دینا) کے ذریعے اپنے حالات بہتر کیے ہیں۔ ہم نے نہیں کرنے، بلکہ یہاں تو کرنے کے امکان کا خیال تک موجود نہیں۔ لہٰذا اگر آپ تاریخ و فلسفہ کی دلدل میں نہیں پڑنا چاہتے تو لبرل بننے کی بجائے دینی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کریں اور غامدی صاحب سے بھی محبت کرتے رہیں۔ وہ اچھے آدمی ہیں۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں