ول ڈیورانٹ کے نزدیک علم مقصود بالذات نہیں بلکہ ایک آلۂ کار یا ٹول ہے جسے سائنس منظم کرتی ہے، خواہش اِس کو راہنمائی دیتی ہے اور فلسفہ اِسے دانش کے درجے تک پہنچاتا ہے۔ اُس کے خیال میں سائنس منظم علم ہے اور دانش منظم زندگی۔ علم طاقت ہے مگر دانش ہی لبرٹی ہے۔ (نوٹ: فریڈم کے معنی اپنی مرضی سے سوچنا، کہنا اور کچھ کرنا ہے، اور یہ صرف ذاتی سطح پر ہوتی ہے۔ لبرٹی معاشرے کے اندر جابرانہ پابندی سے آزاد ہونے کی حالت ہے)۔ کہ آزادی اور مساوات ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔

اُس نے ہمیں بتایا ہے کہ مذہبی لوگوں کو کبھی روشن خیال یا آزاد خیال یا غیر مذہبی لوگوں نے نہیں مارا۔ بیشتر عبادت گاہیں اہلِ ایمان نے ہی پامال کیں۔ یورپ میں تین چار صدیوں تک مذاہب اور فرقوں کی جنگیں اِس کی گواہ ہیں۔ اِس منافرت سے نجات پانے کے بعد ہی انسان ترقی اور آزادیوں کی طرف آگے بڑھ سکا۔

وہ بتاتا ہے کہ تہذیبیں اور علوم خانہ بدوش ہیں۔ اور کوئی بھی تہذیب مکمل طور پر اپنی پیداوار نہیں۔ جب کوئی تہذیب خود کو انحطاط کے لیے اندر سے منہدم کر لیتی ہے تو ادب، فلسفہ، علم اور سائنس زیادہ سازگار معاشروں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔

اُس کے مطابق کہ انقلابات معاشرے کو زیادہ تباہ کرتے ہیں۔ کسی انقلاب کے نتیجے میں انقلابیوں کو اپنے خواہش کردہ نتائج حاصل نہ ہوئے۔ البتہ معاشرتی ہلچل، بے ترتیبی اور طوائف الملوکی نے لوگوں کی زندگیوں کو پہلے سے بھی خراب حالات سے دوچار کیا۔ معیشت اور سیاست ایک دوسرے کی معاون ہیں اور یہ مل کر انقلاب یا بڑی تبدیلی کے حالات تیار کرتے ہیں۔ اصل انقلاب ذہن میں بپا ہوتا ہے۔

اُس کا کہنا ہے کہ برابری غیر فطری ہے، اِسی لیے اِس کی خاطر اتنی تیاری اور سمجھ داری کی ضرورت ہے۔ تہذیب کا عمل متواتر فطرت اور فطری امنگوں کے خلاف جدوجہد سے عبارت ہے۔ معاشرے لاپروائی اختیار کریں تو فطرت اپنی راہ نکال لیتی اور تہذیب کی عمارت کو تہہ و بالا کر دیتی ہے۔

ہم محض جنم لینے، زندگی گزارنے اور بچے پیدا کرنے کے عمل میں زیادہ ذہین یا بہتر نہیں بن جاتے۔ اِس کے لیے سائنس، خیالات اور اوزار درکار ہیں۔ ہمیں جینئس لوگوں سے اکتسابِ فیض کرنا ہو گا جو اپنے دور کی پیداوار مگر آفاقی بھی بننے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کسی ایک قطعیت پر اَڑ جانا جینئس کو قتل کر دیتا ہے۔ قطعیت قتل و غارت کا ہتھیار ہے۔

دولت کی پیداوار تسخیر اور فتح کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔ علم اور عقل دولت میں پروان چڑھتے اور فلسفے کی شکل میں انحطاط زدہ معاشرے کو قبر تک چھوڑنے جاتے ہیں۔ دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہو جانا فطری ہے، اسی لیے سمجھ دار معاشرے دولت کی تقسیمِ نو کا انتظام کرتے ہیں، ورنہ جنگیں اور تباہیاں طبقات کو موت کی برابری دیتی ہیں۔ جنگ نغمۂ تاریخ کا مستقل سُر ہے۔

اُس نے سمجھایا کہ کہ مذہب کو زبان، روایات، تہواروں اور فنون سے الگ کر کے دیکھنا ایک غلطی ہے۔ اخلاقی اصول عارضی، زمان و مکان کی ضروریات کے مطابق ہوتے ہیں، نہ کہ آفاقی۔ ترقی ثقافتی عمل ہے، نہ کہ حیاتیاتی۔

اُس کے مطابق، ہمارا علم لاعلمی کے وسعت پذیر صحرا میں ایک پیچھے ہٹتا ہوا سراب ہے۔ ہم جتنا زیادہ جانتے ہیں، اُتنا ہی زیادہ پتا چلتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ جاننے کو باقی ہے۔ یوں کہہ لیں کہ علم کا مطلب یہ جاننا ہے کہ ہم کتنا کچھ نہیں جانتے۔ یہ عمل انکساری اور غیر قطعی پن پیدا کرتا ہے جس کے بغیر ذہن منظم اور سائنسی ترقی نہیں کر سکتا۔

اس میں ہر لائن اور ہر پوائنٹ پر ایک تحریر پیش کی جا سکتی ہے۔ لیکن مجھے فی الحال ساتویں جلد کا باقی کام مکمل کرنا ہے تاکہ وہ اکتوبر کے آخر تک چھپ کر آپ تک پہنچ سکے۔ یہ پوسٹ ایک سو پیشگی آرڈرز مکمل ہونے کی خوشی میں لگائی ہے۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں