بہت سے نوجوان سوال کرتے پائے جاتے ہیں کہ انڈیا، یورپ اور دیگر ممالک میں اتنا کچھ ہو رہا ہے، لوگ حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، مظاہرے ہو رہے ہیں، غصہ نکال رہے ہیں، لیکن ہمارے عظیم وطن میں سب کچھ بالکل خاموش کیوں ہے؟ یہاں تو لوگ بہت سخت حالات سے دوچار ہیں، تو پھر یہاں کوئی کیوں نہیں بول رہا؟ یہاں ایسی مردنی کیوں چھائی ہوئی ہے۔

میری بیٹی نے بھی ایسے ہی سوالات کیے۔ میں اُسے سمجھا رہا تھا اور شرمندہ ہو رہا تھا، حالانکہ میرا کوئی قصور نہیں۔ میں نے بتایا کہ یہاں احتجاج نہ ہونے یا تحریک نہ چلنے کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہم لوگ پراسیس پر یقین نہیں رکھتے جو کئی عشروں پر محیط ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں وہ پروسیس کبھی شروع ہی نہیں ہوا، اور اگر ہوا بھی تو برے طریقے سے کچل دیا گیا۔ پھر ہم بھی پروسیس کے بغیر نتائج کے حصول کی بات کرنے لگے۔ خلافت کا سسٹم، ون یونٹ، ہم ایک ہیں کا رونا دھونا، صدارتی نظام، پنچایتی اور یونین کونسل کا نظام، اور سب سے بڑھ کر ایک لیڈر کا تصور۔

ہمیں بہت عرصے تک ایک خمینی، ایک مسولینی یا لینن کی اُمید رہی۔ ایک فلم ’’گڈبائے لینن‘‘ بیمار خاتون کوما میں ہوتی ہے تو سوویت یونین ٹوٹ جاتا ہے۔ طویل عرصے بعد کوما سے نکلنے پر اُسے دھچکے سے بچانا ہوتا ہے، اس لیے پرانے خبرنامے ہی وی سی آر کے ذریعے دکھائے جاتے ہیں اور باہر گلیوں میں نہیں نکلنے دیا جاتا۔ ہمیں بھی پرانے ہیروز کی کامیابیوں کے خبرنامے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں: غزنوی، ابدالی، تیمور، بابر، اور محمد بن قاسم، طارق بن زیاد وغیرہ۔ ہم تو کبھی گلیوں میں چلے بھی جائیں تو دھچکا نہیں پہنچتا۔ بہت سے اسامہ، قاسم، محمود جیتے جاگتے مل جائیں گے۔ حتیٰ کہ شاعروں میں بھی غزنوی پائے جاتے ہیں۔ اور میزائلوں کے نام بھی یہی ہیں۔ ہمارا اپنا کوئی ہیرو نہیں۔ یہاں جو بھی سر اوپر اُٹھا، اُسے مسترد اور ذلیل کر دیا گیا۔

پھر نوجوان معدنیات کا ذکر کرتے ہیں، کیونکہ تین سال پہلے اینٹی اسٹیبشلمنٹ بننے والے سورما بہت پرچار کر رہے ہیں۔ یہاں معدنیات کی موجودگی کا علم اُنھیں مطالعہ پاکستان سے ہی ہوا۔ انیسویں صدی میں لوگ کہوٹہ کی پہاڑیوں میں ریت چھان کر سونا نکالا کرتے تھے، لیکن اُس پر لگنے والی محنت سونے کی قیمت کے برابر ہو جاتی تھی۔ ہمارے پیروں تلے اگر تیل کے سمندر بھی ہوں تو اُسے نکالنے کے لیے نہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے نہ عقل۔ ہیرے اور قیمتی پتھر کوئی درخت پر لگے پھل تو نہیں کہ توڑیں اور کھا لیں۔ اس غلط فہمی نے آدھے ملک کو باولا کر رکھا ہے۔

نوجوان نے میری طرف دیکھ کر ہچکچاتے ہوئے پوچھا: اور مہ رنگ بلوچ وغیرہ؟ میں نے کہا کہ وہ تو غیر ملکی ایجنٹ ہیں، اور اتفاق سے یہاں ہر کوئی ایجنٹ ہے۔ کوئی کسی ملک کا اور کوئی کسی ملک کا۔ محب وطن بس وہی ہے جسے سرکاری نوکری مل گئی۔ اس لیے ان کی بات نہ ہی کرو۔ یہ چیزیں صدیوں میں ایسی بنی ہیں، اور عشروں تک ایسے ہی رہیں گی۔ اپنے ذہن میں ایسے سوال آئیں بھی تو اُنھیں جھٹک دینا چاہیے۔

تو کوئی آئیڈیالوجی نہیں یہاں؟ میں نے کہا کہ آئیڈیالوجیز تو بہت سی آزمائی گئی ہیں۔ یہاں سوشلزم کی باتیں بھی ہوئیں، لیکن اسلامی سوشلزم کی۔ یہاں جمہوریت کو بھی فروغ دینے کا سوچا گیا، لیکن اسلامی جمہوریت۔ یہاں اسلام لانے کا غلغلہ مچا، لیکن سعودی اسلام۔ منہ کا ذائقہ بدلنے کی خاطر کبھی کبھی عقل اور استدلال کی باتیں کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں، لیکن طے شدہ حدود کے اندر رہ کر۔ ہمارا ملک دنیا کے تمام اچھے اور کارگر بیانیوں کا قبرستان ہے۔ یہاں بادشاہت میں اسلام ملا ہے، اسلام میں جمہوریت کا تڑکا ہے، اور استبدادیت اِن سب میں سرایت پذیر ہے۔ تازہ ترین ناکامی فیمنزم کی ہوئی ہے، حالانکہ یہ شاید جدید دنیا کی سب سے بڑی تحریک تھی۔ مگر ہم ایسی گرد اُڑاتے ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں آتا۔

تو پھر یہاں کوئی تبدیلی یا بہتری کیسے آئے گی؟ یہاں کوئی تحریک نہیں چل سکتی؟ میں نے کہا: نالے کھیہہ تے نالے سواہ۔ میرا نقطۂ نظر بہت سنکی اور مایوسی پر مبنی ہے، میں مانتا ہوں۔ تبدیلی یقیناً آئے گی، تحریک یقیناً چلے گی، حالات یقیناً تبدیل ہوں گے، لیکن ہمارے حق میں نہیں۔ ہماری تو سرمایہ داری بھی دوغلی ہے، اور جاگیرداری بھی دوغلی۔ جاگیردار پیر اور متولی ہیں، سرمایہ داروں نے فیکٹریاں بھی بنا رکھی ہیں۔

تو پھر عدالتوں سے کوئی توقع کی جا سکتی ہے؟ اب بات بالکل فضول ہوتی جا رہی تھی۔ عدالتوں کو کچھ قوتیں ٹھیک نہیں ہونے دیتیں، اور یہ عدالتیں اُن قوتوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ دنیا میں کون سی عدالت پیپسی کے خلاف فیصلہ دے گی؟ سرمایہ داری کے فوائد پوری دنیا میں عوام تک بھی پہنچے، لیکن یہاں تو خراب چیز بھی واپس یا تبدیل نہیں ہوتی۔ عدالتیں اِس تمام زیادتی اور بدکاری کی ضامن ہیں۔ وہ اِس نظام کا حصہ ہیں، اور ہمارے ہاں عدل کا تصور قیامت سے منسلک ہے، جب ترازو میں حساب ہو گا، اور وہ ترازو بھی کوئی الیکٹرانک سکیل نہیں بلکہ کھل اور ونڈا تولنے والے ترازو جیسا ہو گا۔

تو پھر ہم اتنی دیر تک کیا کریں؟ میں نے کہا: جو بھی چاہے کرو، لیکن دنیا کے کسی بھی ملک کے عوام کی کوئی بھی حرکت یہاں شروع ہونے کی اُمید نہ رکھنا۔ ہم تمام اقوام سے مختلف اور افضل ہیں۔ ہم ہوموپاکیئن ہیں جو ہوموسیپئن سے بہت شروع میں ہی الگ ہو گئے تھے۔ ہاں، تفہیم کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اپنے آس پاس کے دو چار قریبی دوستوں کے ساتھ گفتگو کرتے رہنا چاہیے تاکہ یہ غصہ اور مایوسی زیادہ تنگ نہ کرے۔ شاید تب تک دنیا میں کوئی نیا نظریہ، کوئی نیا نظام متعارف ہو جائے تو ہم بھی اُسے آزمائیں اور برباد کر ڈالیں۔

کیا خیال ہے آپ کا، اگر میں اتنی مایوسی کی باتیں نہ کرتا تو کتنے جھوٹ بولنا پڑتے؟ آئندہ میں یہی کروں گا۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں