جمہوریت کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اِس میں لوگوں کو سپیس ملتی ہے۔ وہ اپنا اظہار کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ انڈیا کا معاشرہ شاید ہم سے زیادہ گلا سڑا ہے، لیکن اُس نے شروع سے ہی جمہوریت والی غلطی کر ڈالی اور اب مشکل میں پڑا ہوا ہے۔ اِس غلطی کے نتیجے میں معاشرہ تھوڑا بہت متحرک ہے۔ شاید سرمایہ دار اور مقتدر طبقات کے مفادات کے خلاف کوئی نتیجہ نہ نکلے، لیکن جمہوریت کی وجہ سے انڈیا کا نقصان بڑھتا رہے گا۔ فہم و فراست اور سیاسی سوجھ بوجھ کی کوئی بھی سرگرمی نقصان دہ ہے۔ انڈیا اپنی کرنی کا نتیجہ بھگت رہا ہے۔

ہم اچھے ہیں کہ تمام پودے ہی اکھیڑ پھینکے ہیں۔ نہ بانس ہے، نہ بانسری، اور نہ بانسری کی لے سننے والے۔ بلکہ ہم تو کسی تھوڑی بہت سرگرمی دکھانے والے گروپ کو گندا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اب تو لگنے لگا ہے کہ آواز اُٹھانے والا کوئی بھی شخص غدار اور شر انگیز عنصر ہے۔ کسی بھی صوبے کا/کی کوئی قوم پرست راہنما، ایک وکیل لڑکی اور ایسے ہی کچھ دیگر لوگوں نے خود کو وطن دشمن ثابت بھی کیا ہے۔ وطن میں یوں کھل کر حقوق کی بات کرنے سے بڑی دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور یہ سب بیرونی طاقتوں کے آلۂ کار بھی تو ہیں! پکی سچی بات ہے۔

اگر کوئی کسی بیرونی طاقت کا آلۂ کار نہیں ہے تو وہ رنگ برنگی پگڑیوں والے مُلّا ہیں۔ اُنھوں نے کبھی نہ حقوق کی بات کی ہے، اور نہ جمہوریت کی۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ خالقِ کائنات کی عبادت کرو۔ بس۔ اِس سے زیادہ اچھے لوگ کیا ہوں گے؟ ریاست نے اُن سب کو 25000 روپے ماہانہ کا وظیفہ جاری کر رکھا ہے۔ آئین اور دین کے محافظ وہی ہیں۔ یقین نہیں تو انصار عباسی سے پوچھ لیں۔ اور مہنگائی کے خلاف جماعتِ اسلامی جدوجہد کر رہی ہے۔ واہ! بادِ مخالف نے تمام عقاب تُن دیے ہیں۔

اب وطنِ عزیز میں سکون ہے۔ کوئی جنتر منتر جیسی بکواس نہیں۔ بغیر دوپٹے کے خواتین نعرے نہیں مارتیں، کوئی سڑک پر ٹانگیں پھیلا کر نہیں لیٹتی۔ ہم چادر کی حرمت کا خیال رکھتے اور سردیوں میں رات کے وقت پانی چھڑکتے ہیں، ہم چار دیواری گرائیں بھی تو نئی بنا دیتے ہیں۔ ملک کا ہر شعبہ ٹھیک چل رہا ہے۔ پی ایچ ڈیز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مساجد آباد ہیں، روزے رکھے جاتے ہیں۔ مقدس کنسرٹ منعقد ہوتے ہیں۔ مفسدہ پرداز تنظیمیں فی الحال خاموش کروائی گئی ہیں۔ ادبی تصانیف کے انبار لگے ہیں،

اور کیا چاہیے آپ کو؟ آئین اور حقوق کو چاٹنا ہے؟ سکون کی اب عادت ڈال لینی چاہیے۔ ذاتی سطح پر ہم جس ’’آئیڈیالوجی‘‘ کا پرچار کرتے ہیں، کیا یہ سب حالات اُسی کا عکس نہیں؟ کیا ہم غزنوی، غوری، ابدالی، حتیٰ کہ طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کے دیوانے نہیں؟ اِس حد تک دیوانے کے لوکل ہیرو بھی اِسی سانچے والے منتخب کیے: راجے اور کھرل وغیرہ! ہم خود ہی تو ایسے ہیرو چاہتے ہیں، اور جب وہ آ جاتے ہیں تو ہم انسانی سلوک مانگتے ہیں۔

اور جمہوریت بھی ہمیں تب تک پسند ہے جب تک ہماری اپنی مرضی کے ’’سیاسی‘‘ راہنما برسرِاقتدار ہوں، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے وہاں پہنچے ہوں۔ ہمارے سائنس دان صحافی طوطے کی طرح ملنے والی لائن کو تجزیے کی شکل دینے کے ماہر ہیں۔ وہ انڈین جاہل صحافیوں جیسے نہیں۔ وہ سلجھے ہوئے ہیں اور ہر بات کا ’’اخلاقی‘‘ اور دینی پہلو بھی مدِنظر رکھتے ہیں۔ چھپنے والے کالم نگار بھی وہی پسند کیے جاتے ہیں جو ذمہ دار بیوروکریٹس ہوں۔ بلکہ اب ہم تو روحانیت میں بھی ڈاکٹر سے کم کسی پر اعتبار نہیں کرتے۔

جس ٹرین پر ہم نے کہیں پہنچنے کا سوچا تھا، وہ کہیں اور پہنچ چکی ہے۔ اب پلیٹ فارم ہی ہمارا گھر ہے۔ اور ہم اِسی پر خوش ہیں۔

پس تحریر: الحمد للہ، اب ہم اتنے سیانے اور محتاط ہو چکے ہیں کہ اپنی ہی تحریر کو کئی بار ایڈٹ کر کے ’’نرم‘‘ کرتے ہیں۔

شیئر کریں