پچھلے دنوں پاکستان ادبی حلقوں کا سب سے زیادہ مشہور انگلش مصنف جیمز جوائس تھا۔ جیسے اردو زبان کے زیادہ تر اہم نام پنجابی ہیں، ویسے ہی انگلش ادب کے متعدد بڑے نام آئرش اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ جیمز جوائس بھی ڈبلن میں پیدا ہوا (1882ء)۔ اُس کا باپ باصلاحیت مگر غیر ذمہ دار شخص تھا جس کا کردار جیمز نے ’’A Portrait of the Artist as a Young Man‘‘ ناول میں پیش کیا۔ مالی اور سماجی اتار چڑھاؤ اُس کی زندگی میں بار بار آئے۔ کنبہ ایک سے دوسرے گھر میں منتقل ہوتا رہا، اور ہر اگلے مکان پہلے سے زیادہ خستہ حال ہوتا تھا۔
جیمز جوائس کی ابتدائی تعلیم بطور کیتھولک ہوئی۔ پہلے وہ Clongowes ووڈ کالج اور پھر بیلویدیرے کالج میں گیا۔ یہ دونوں ہی یسوعی کالج تھے۔ [یاد رکھنا چاہیے کہ یسوعی (Jesuits) کو پہلے سوسائٹی آف جیزز بھی کہا جاتا تھا۔ یہ کیتھولک چرچ میں مردوں کا سب سے بڑا مذہبی سلسلہ ہیں۔ اِس فرقے یا سلسلے کی بنیاد اگناشیئس لویولا نامی راہب نے رکھی تھی۔] بعد ازاں اُس نے ڈبلن کے یونیورسٹی کالج میں جدید زبانوں کا مطالعہ کیا۔
اُسے بچپن سے ہی ڈبلن کی بے ذوقی اور خستہ حالی شدید ناپسند تھی۔ وہ کیتھولک عقیدے سے بیزار ہو کر ادبی مشن میں لگ گیا۔ اُسے ساتھی طلبہ کی طرح قوم پرستانہ یا دیگر مقبول سرگرمیوں میں حصہ لینے کا شوق نہ تھا۔ نارویجئن ڈراما نگار ہنرک ابسن پر ایک بے باک آرٹیکل لکھنے کے وقت وہ اٹھارہ سال کا تھا۔ اُس نے ابسن کو پڑھنے کے لیے نارویجئن زبان سیکھی۔ 1902ء میں وہ اپنا ادبی کیریئر شروع کر چکا تھا۔ اُسے ایک آرٹسٹ والی زندگی گزارنے کی خواہش تھی، لہٰذا گریجوایشن کے بعد پیرس چلا گیا۔ ماں کے مہلک مرض کی وجہ سے واپس آیا، کچھ عرصے ایک سکول میں پڑھایا اور پھر واپس یورپ جا کر زیورخ اور ٹریئسٹ میں انگلش پڑھائی۔ (متعدد ادیبوں کا سکول ٹیچر ہونا قابل غور چیز ہے!)
ایک خاتون نورا اُس کے ساتھ رہنے لگی جسے ادب میں کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن اُس کی زندہ دلی نے جوائس کو مسحور کر لیا۔ اُن کی شادی کافی عرصے بعد (1931ء) ہوئی اور تاحیات ساتھ رہے۔ دوسری عالمی جنگ کے ڈر سے اُنھوں نے سوئٹزرلینڈ میں پناہ لے لی تھی۔ مغرور، ہٹ دھرم، اپنے جینئس کے متعلق پُریقین جوائس کو اچانک خوش دلی اور اچانک خاموشی کے دورے پڑتے تھے۔ پھر بھی اُسے دوستوں کی کمی نہ ہوئی اور یورپ میں اپنے 36 سالوں کے دوران وہ ہمیشہ کسی نہ کسی ادبی حلقے کا مرکز رہا۔ رقم کی قلت رہی، اور وہ شراب نوشی بھی کرنے لگا۔ بھائی اُس کا خیال رکھنے آ گیا۔ جوائس کو آنکھ کے امراض بھی تھے، اور وہ تھوڑا تھوڑا عرصہ اندھے پن کا شکار ہوا۔ اُس کے پچیس آپریشن ہوئے۔ ایزرا پاؤنڈ کے کہنے پر دو لوگوں نے اُس کی مالی مدد کی۔ انگلش فیمنسٹ اور ایڈیٹر ہیریئٹ شا نے بھی 1917ء کے بعد اُس کا خیال رکھا اور تحریریں شائع کرنے میں مدد دی۔
ڈبلن سے گریز کرنے کے باوجود جوائس نے صرف اور صرف ڈبلن کے متعلق ہی لکھا۔ وہ اِسے ایک کائناتِ صغیر بنا دیتا ہے۔ اُس کی ابتدائی کہانیاں ڈبلن کی زندگی کے مختلف پہلو پیش کرتی ہیں۔ وہ تفصیلات ایسے منتخب کرتا اور ترتیب دیتا ہے کہ اُن کے علامتی معنی واقعات کو مزید اجاگر کر دیتے ہیں۔ ایک کہانی ’’Araby‘‘ خصوصاً قابلِ ذکر ہے۔ اُس نے کہانیوں میں اُسی زندگی سے سمجھوتا کیا جسے مسترد کر آیا تھا۔
جوائس نے اپنی آپ بیتی کو ایسے صیقل شدہ فکشن کا روپ دیا کہ ہر لفظ موضوع کے معنی میں اضافہ کرتا ہے: یہ پہلی بار Stephen Hero کے نام سے چھپا۔ اُسے اپنی تحریریں چھپوانے میں متعدد مشکلات کا سامنا ہوا۔ A Portrait of the Artist کو دو یورپی پبلشروں نے مسترد کیا تو ایک امریکی فرم چھاپنے پر تیار ہو گئی۔ اُس کا ناول یولیسز 1922ء میں شائع ہوا جس پر برطانیہ اور امریکہ میں پابندی لگ گئی۔ یہ قبل ازیں ایک امریکی جریدے میں قسط وار شائع ہونا شروع ہوا، لیکن فحش نگاری کی بنیاد پر اشاعت ایک دم روک دی گئی۔ 1933ء میں پابندی اٹھی۔
یولیسز اہل ڈبلن کی زندگیوں کا ایک دن کا حال ہے۔ جوائس کو اِسے لکھنے میں سات سال لگے تاکہ محدود واقعات کو معنی کی گہرائی دے سکے۔ اِس کی اقساط ہومر کی قدیم رزمیہ داستان اوڈیسی کے واقعات کے مطابق ہیں۔ جوائس کی نظر میں یولیسز (اوڈیسئس) ادب کا ’’کامل‘‘ ترین انسان تھا۔ اُسے تمام پہلوؤں سے دکھایا گیا: بزدل اور سورما، محتاط اور عاقبت نا اندیش، کمزور اور طاقت ور، شوہر اور عیاش، باپ اور بیٹا، معزز اور مضحکہ خیز۔ ہیرو لیوپولڈ بلوم بھی ایسا ہی ہے۔ یہ مشابہت اِس کے معنی کی تعبیر میں زبردست پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔
جوائس کی آخری تصنیف Finnegans Wake (1939ء) کی تکمیل میں چودہ سال لگ گئے، اور جوائس نے اِسے اپنا شاہکار خیال کیا، البتہ قارئین کے لیے یہ ثقیل، متعدد پرتوں والی زبان کا حامل اور ناقابلِ نفوذ ہے۔ اِس میں جوائس نے ایک خوابی سی زبان ایجاد کی۔ یولیسزز میں ناولکے علامتی پہلو کو بھی حقیقت پسندانہ پہلو جتنا اہم بنایا گیا تھا، لیکن آخری ناول میں حقیقت پسندی کو بالکل ہی ترک کر دیا۔