دہشت گردی اور نازی ازم یا تعصب یا بُردباری یا انصاف ایک مظہر (phenomenon) ہے، نہ کہ ’’چیز‘‘ جسے استعمال کے لیے خریدا اور استعمال نہ رہنے پر اُٹھا کر پھینک دیا۔ کیونکہ اِس میں انسان استعمال ہوتے ہیں اور اُن کی ذہن سازی کی جا سکتی ہے، اِس لیے اُنھیں کسی ’’چیز‘‘ کی طرح مسترد یا بے کار بنا دینا بہت سی حماقت کا تقاضا کرتا ہے۔
ٹھیک ہے، ایک طبقے کو عمران خان اور اُس کی جماعت پسند نہیں، جیسے اُنھیں وہ طبقہ (آج کل) پسند نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمارے انقلابی دوست آج کل کھل کر پاکستان کی اچانک اور ہمہ گیر تباہی کی دعائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ ایک نے تو خدا کو مختلف آفات تجویز بھی کی ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اُن کا قائد آزاد ہو، اور ملک کی قیادت سنبھالے، وغیرہ۔
ضیا الحق نے ایک ذہنیت پیدا کی تھی جو راسخ ہو گئی، اور آج ہمیں یاد بھی نہیں کہ یہ ضیا الحق کی پیداوار تھی۔ بے حیائی کے اخلاقی معیار اُسی کے دور میں تناور درخت بنے اور جمعیت، جماعتِ اسلامی اور تعلیمی نصاب پر تاریک سایہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی بھی ایک باقاعدہ اور منظم منصوبے کے تحت بنائی اور پروان چڑھائی گئی۔
تب محسوس ہوا کہ، اوہو، کچھ غلط ہو گیا، یہ تو ہمیں نہیں چاہیے تھا، پھوٹ اور منافرت کے کیل تو ایسی جگہوں پر اُگنے لگ گئے جہاں نہیں اُگنے چاہیے تھے، عوام کے لیے سوچی گئی بربادی اور مصیبت اپنے گلے بھی پڑنے لگی۔ لیکن آپ سیاسی جماعتوں کا کورٹ مارشل نہیں کر سکتے۔ لوگ اپنے تعصبات میں زندہ رہتے ہیں جنھیں بدلنا پابندیوں اور قانونی اقدامات کے ذریعے ممکن نہیں۔
گزشتہ دس بارہ سال میں ہم نے جس قسم کی سیاسی جدوجہد اور ’’تحریکیں‘‘ دیکھی ہیں وہ متشدد اور غیظ و غضب سے بھرپور ہوتی جا رہی ہیں۔ اب کوئی احتجاج نہیں بلکہ دھرنا ہوتا ہے، جس میں بنیادی مقصد عوام کی زندگی کو معطل اور مفلوج کرنا ہے۔ جواب میں حکومت بھی بد سے بدتر ہتھکنڈے اپنانے پر مائل ہے، کیونکہ براہ راست گولیاں نہیں ماری جا سکتیں۔
کچھ لوگ پی ٹی آئی کی ناکامی اور اُن کے خلاف سخت ترین اقدامات پر خوش ہو رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اب ریاستی مشینری کا عفریت ہر بار پہلے سے زیادہ بہیمیت دکھائے گا، کیونکہ اب مسلح جتھے بازی کا دور ہے، اور جواب میں بھی مسلح جتھے ہی عمل کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بارہ پندرہ کا اجتماع کرنے والے روشن خیال گروپ بھی چپکے بیٹھ گئے ہیں۔
بنانے والوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اب پی ٹی آئی کو کس طرح اُدھیڑ کر نیا پاجامہ سیئیں۔ وہ عجلت میں جو بھی کریں گے ان کے گلے پڑ جائے گا اور جلد یا بدیر اُنہی کے خلاف استعمال ہو گا۔پی ٹی آئی کے سپورٹرز عوام ہیں۔ اگر وہ گمراہ اور متشدد یا دیوانے ہیں تو اُنھیں ایسا بنایا کس نے؟ سادہ سے انداز میں اُنھیں undo نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کے لیے طویل اور منظم حکمتِ عملی کی ضرورت ہو گی۔ لیکن وطنِ عزیز میں ہر طویل حکمتِ عملی صرف بربادی کے لیے ہی بنائی گئی ہے۔ موجودہ صورت حال میں دونوں فریق ایک دوسرے کو انسان نہیں سمجھتے۔
ہمارے ادیب کا تو کوئی نظریہ ہی نہیں۔ وہ ریاست، حکومت، اور پالیسیوں کے متعلق کوئی رائے دینا بے وقوفی سمجھتا ہے۔ جبکہ صحافی کو صرف اپنے یوٹیوب چینل کے ویوز سے سروکار ہے۔
Yasir Jawad/یاسر جواد