یہ مہاجرین یا تارکینِ وطن ہیں جو آنکھوں میں عزم، استحکام، امید اور خوف لیے کسی منزل کی جانب رواں ہیں۔ پیچھے متلاطم سمندر ہے۔ جوں جوں آپ دیکھتے ہیں جاتے، نئی تفصیلات کھل کر سامنے آتی جاتی ہیں۔ عورت کی چادر کے رخنے میں سے نظر آتے ہوئے بائیں ہاتھ نے ایک ننھا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔ تب آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ عورت کی بائیں طرف چادر کا ابھار کہنی نہیں بلکہ بچے کا سر ہے۔ عورت کا دایاں ہاتھ اپنے شوہر کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔ اُس کے سکارف کی سرخ یا قرمزی پٹیاں تیز ہوا میں پھڑپھڑا رہی ہیں۔ کشتی بے قرار سمندر کو پیچھے چھوڑ کر نئی بے قراریوں کی طرف بڑھ رہی ہو گی۔ کشتی کے اگلے حصے پر رسی اور جال کے ساتھ بند گوبھی لٹکی ہوئی ہے۔ عورت کی جھانکتی ہوئی قمیض کا رنگ اور ایک گوبھی کا رنگ ایک جیسا ہے۔ عورت کے اوپر چھتری بھی ہوا کی وجہ سے اپنی اصل شکل میں نہیں رہ سکی۔

یہ کنبہ انگلینڈ کو چھوڑ کر جا رہا ہے کیونکہ پس منظر میں Dover کی سفید چٹانیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ انیسویں صدی میں برطانیہ کے تارکینِ وطنکی شرح تمام یورپی ممالک سے زیادہ تھی۔ نقل مکانی کرنے والے بہت سے لوگ مزدور، کسان اور ہنرمند تھے۔ وہ خوراک اور سکون کے اُسی طرح متلاشی تھے جیسے آج ہم ہیں اور یورپ امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک فیملی سے مل کر آیا ہوں جو اسی طرح کی نقل مکانی کر کے ’’بہتر مستقبل‘‘ کی خاطر یو کے جانے کی تیاری میں ہے۔ اُن کی اپنے ملک سے جان چھوٹنے کی تسلی کے پیچھے بہت سے خدشات بھی ناچ رہے ہیں: وہاں جائیں گے، نئے لوگ ہوں گے، نئے حالات، شدید بھاگم دوڑ، روزگار، کرائے کا مکان، ان دیکھی ذمہ داریاں، پیچھے رہ گئی بیمار ماں کی بیک وقت روکتی اور الوداع کہتی ہوئی متذبذب دعائیں، وغیرہ وغیرہ۔ سب ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور سمجھاتے ہیں کہ بس یورپ پہنچو، باقی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اب ہماری ہجرتیں کاغذات اور پابندیوں کی وجہ سے مسخ شدہ ہیں۔

میڈوکس براؤن نے یہ tondo (یعنی دائرے میں) پینٹنگ 1855ء کے قریب بنائی تھی جب وہ خود بھی غربت سے نبرد آزما تھا۔ اُس کا ایک دوست آسٹریلیا چلا گیا اور وہ خود بھی ہندوستان جانے کا سوچ رہا تھا تاکہ تکلیف دہ حالات سے نکل سکے۔ اُس نے ہجرت تو نہ، مگر خود کو اور اپنی بیوی کو سفر کی حالت میں تصور اور پینٹ کر دیا۔ اُس نے متوسط طبقے کے ایک پڑھے لکھے، شائستہ، باوقار اور نسبتاً خوش حال مگر بے یقینی کے شکار جوڑے کو شناخت کیا جو مستقبل کی کشتی میں سوار ہے۔ آس پاس اور لوگ بھی ہیں: سیب کھاتا ہوا بچہ، ایک ماں کی گود میں بیٹا گرمائش لیتے ہوئے، ایک باپ پائپ پیتے ہوئے۔ عقب میں ایک چھوٹی امید کی کشتی ہے جو اُنھیں کسی حادثے کی صورت میں بچا لے گی۔ کشتی پر Eldorado لکھا ہے، یعنی سونے کا شہر۔

پینٹنگ میں اور بھی بہت کچھ ہے: مرد کے سر کے عین پیچھے ایک بچی کی آنکھ، ایک عورت کے سرخ بال، بہت پیچھے ایک جوڑا، دو بوڑھے ہاتھ، ایک نوجوان کا بوٹ، ٹخنہ اور ٹوپی، سرخ سکارف سے نکلتا ہوا دستانہ پوش ہاتھ، مرد کے بائیں ہاتھ میں چھتری کا دستہ، سبز صندوق کا کونہ، مرد کے دائیں ہاتھ کے نیچے شاید بچے کا سرخ اُونی موزہ، مردے کے ہیٹ اور کوٹ بٹن سے بندھی ڈوری، مرد کا مرجھائی امیدوں والا چہرہ۔ یہ سب بے ہنگم چیزیں ہمارے لیے میاں بیوی کا اندرونی ہیجان ظاہر کرتی ہیں۔

شیئر کریں