مرد آپس میں سرگوشی کر رہے ہیں۔ ایک کا ہاتھ دوسرے کے کندھے پر ہے۔ وہ دیوار کی دوسری طرف سے غسل کرتی ہوئی عورت کی جانب امڈے ہوئے ہیں۔ عورت کا نام سوسانا ہے، یعنی سوسن۔ اُس نے اپنے ہاتھ دفاع کرنے یا رد کرنے کے انداز میں اُٹھا رکھے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کے ارادے مسترد کیے جاتے ہیں۔

مردوں کا انداز خطرناک اور شہوت بھرا ہے۔ دونوں مردوں کی شبیہیں یک جا لگتی ہیں۔ اُنھوں نے پینٹنگ کو گھیر رکھا ہے اور ایک مثلث کی صورت رکھتے ہیں – وہ ایک ہرم یا کسی بھاری بھرکم چیز جیسے لگتے ہیں، جو نیچے بیٹھی عورت کے اوپر چھائے ہوئے یا اُسے کچل رہے ہیں۔

سوسانا اینڈ ایلڈرز (Susanna and the Elders) آرٹ کی تاریخ میں اِس منظر کو کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا ذکر دانی ایل کی کتاب میں آیا ہے۔ یہ کہانی بابلیہ میں یہودی اسیری کے دنوں کی ہے۔ ہوا یوں کہ سوسن اپنے نجی باغیچے میں غسل کر رہی ہے۔ یہودی کمیونٹی کے دو بوڑھے اُسے دیکھتے اور ورغلانے کا منصوبہ بناتے ہیں۔

سوسن جب اپنی نوکرانیوں کو کسی کام سے بھیجتی اور اکیلی رہ جاتی ہے تو دونوں عیاش مرد نمودار ہوتے ہیں۔ وہ انجان سوسن کو سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اُن کے ساتھ ہم آغوش نہ ہوئی تو سب کے سامنے قسم اُٹھائیں گے کہ اُسے ایک نوجوان کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ چونکہ سوسن شادی شدہ ہے، لہٰذا الزام اُس کے اور اہل خانہ کے لیے شدید ذلت کا باعث ہوتا، اور بھی بری بات یہ کہ الزام ثابت ہونے پر اُسے موت کی سزا ملتی۔

سوسن بات ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔ بلکہ اُنھیں دھتکارتی اور مدد کو پکارتی ہے۔ بوڑھے مرد دھمکی پر عمل کرتے ہیں اور سوسن کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اُسے موت کی سزا دی جانے والی ہے کہ داینی مداخلت کرتا اور دونوں مردوں سے پوچھ گچھ کرنے لگتا ہے۔ اُس نے دونوں سے الگ الگ پوچھا کہ بتائیں سوسن نے بدکاری کس درخت کے نیچے کی تھی۔ دونوں درخت کا نام مختلف بتاتے ہیں۔ یوں شہادت میں تضاد ہونے پر سوسن کی بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے۔

سوسن ایک فکشنل ہیروئن تھی – برائی پر معصوم نیکی کی فتح کی علامت۔ وہ اَن علامتی مفہوم کی وجہ سے آرٹ، بالخصوص مسیحی آرٹ میں مقبول ہوئی، اور سوسن کو چرچ کی علامت بنا دیا گیا۔

یہ پینٹنگ Artemisia Gentileschi نے صرف سترہ سال کی عمر میں بنائی۔ ارتمیسیا کا باپ بھی مشہور مصور تھا، اور اِس بات پر شک کیا گیا کہ باپ نے بیٹی کو یہ پینٹنگ بنانے میں مدد دی تھی یا نہیں۔ لیکن ارتمیسیا نے اپنے بعد کے کیریئر میں بھی اعلیٰ فن پارے تخلیق کیے۔ یہ بھی رائے دی جاتی ہے کہ مصور ایک خاتون تھی، لہٰذا مردوں کی شہوت پرستی کو زیادہ واشگاف انداز میں پیش کر پائی۔ وہ پینٹنگ بنانے کے بعد یعنی 1611ء میں خود بھی ایک ساتھی آرٹسٹ کے ہاتھوں ریپ ہوئی اور مقدمہ کافی پیچیدگیوں کا شکار تھا۔

(پاکستانی چونکہ ایک شرمیلی قوم ہیں، اس لیے تصویر کا نچلا نیم برہنہ حصہ حذف کر دیا ہے، گوگل کر لیں۔)

بحوالہ: How to Read Painting۔

شیئر کریں