اگر آپ لمز سے بی اے ایل ایل بی کرنا چاہیں تو پہلے فال اور سپرنگ میں ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے ادا کریں گے۔ اس میں ایڈمیشن فیس 176000 روپے کے علاوہ سمیسٹر رجسٹریشن فیس (56000) بھی ہے۔ تقریباً پانچ ہزار روپے یومیہ ٹیوشن فیس بنتی ہے۔ لیکن 67000 روپے جنرل سکیورٹی بھی ہے۔ یعنی اُن کا خیال ہے کہ کوئی بچہ دس پندرہ لاکھ روپے دینے کے بعد کوئی نلکا خراب کر دے یا کرسی توڑ دے وغیرہ تو یہ خرچ اِس جنرل سکیورٹی میں سے پورا کیا جائے گا۔

چلیں، لمز تو ہے ہی امیر لوگوں کے لیے، اور ایک بڑے بزنس گروپ نے بنایا ہے۔ ’’فیس‘‘ ان کی واحد پالیسی ہے۔ اگر تقریباً ایک کروڑ روپے میں ایل ایل بی کروا رہے ہیں تو بھئی ماحول بھی مہذب یورپ جیسا دیتے ہیں، اور وہاں کے مولوی بھی بڑے شریف اور بغیر زہر والے ہیں۔ وہاں اُن کا ایمان بالکل نہیں کھولتا۔ یہ چیز تھوڑی فیس والی سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھنے والوں کے لیے ہی رکھی گئی ہے۔ ویسے بھی اخلاقیات کھیل ہی متوسط اور زیریں متوسط طبقے کا ہے۔ غریب یا بہت امیر طبقے نے اچار ڈالنا ہے اخلاقیات کا؟

لیکن متوسط طبقے کا کوئی شخص اگر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سے ایل ایل بی کرے گا تو فی سمیسٹر پونے دو لاکھ روپے دے گا۔ پوری ڈگری کا خرچ کوئی اٹھائیس لاکھ روپے ہے (مخفی چارجز کے علاوہ)۔ قائد اعظم لاء کالج کی چار سالہ ڈگری بھی غالباً اتنے کی ہی ہو گی۔

میں نے یہ تازہ معلومات اس لیے حاصل کیں کیونکہ ایک دوست کی بیٹی کو لاء میں دلچسپی تھی۔ اپنے لاء پروفیسر چچا سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے سختی سے منع کیا کہ یہ کام بچیوں کے لیے ٹھیک نہیں۔ اگر بیرونِ ملک سے لاء کی ڈگری لے آئے اور واپس آ کر کسی اچھی فرم سے منسلک ہو جائے تو الگ بات ہے۔ ورنہ پاکستان میں شعبہ یہ عام گھرانوں کی بچیوں کے لیے مناسب نہیں۔

میرا اپنا اندازہ ہے کہ نارمل درجے کے کسی پرائیویٹ کالج سے لاء کی بیچلر ڈگری چالیس تا پچاس لاکھ میں ہی ملے گی۔ یعنی چار سال کے 48 مہینوں میں تقریباً 85000 تا ایک لاکھ روپے ماہوار۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ ماں باپ کوئی پانچ لاکھ روپے مہینہ کماتے ہوں اور اُن کا واحد بچہ ہو۔ اِس سب کا ذمہ دار ہے کوئی؟

اِس میں سرمایہ دار کا کوئی قصور نہیں، کیونکہ وہ تو دکان چلا رہا ہے اور اپنے مال کے حساب سے پیسے مانگتا ہے، جس نے ڈگری لینی ہے لے، ورنہ آگے بڑھے۔ جیسے ایک کیلا فروش نے عارفہ سیدہ سے کہا تھا: بٹیا، پونے تین والے تو ارمان لے کر چلے گئے۔ اِس میں حکومت کا بھی قصور نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو تیس چالیس ہزار روپے فی سمیسٹر کے حساب سے بھی وکیل بنوا رہی ہے۔ بس کراپ ٹاپ اور رنگ برنگی جینز کا ششکا نہیں ہو گا، بلکہ جمعیت والے جھاڑیوں کی تلاشی بھی لیں گے اور برقعہ واحد حل ہو گا۔

اِس میں ایچ ای سی کا بھی کوئی قصور نہیں کیونکہ وہ تو ایک نائیکہ ہے جو نہ صرف گلیوں بازاروں میں کھلے ہوئے اڈوں سے بلکہ تماش بینوں اور راہگیروں سے بھی ٹیکس وصول کرتی اور پان کے چھینٹے مار کر تصدیقی مہریں ثبت کرتی ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہ سارا مالی بوجھ راہگیر یعنی طلبہ ہی ادا کرتے ہیں۔ بلکہ طلبہ کے والدین بھگتتے ہیں۔ میڈیا کا بھی قصور نہیں ہو سکتا کیونکہ رہے سہے اخبارات کو ان تعلیمی اداروں سے اشتہار ملتے ہیں۔ لہٰذا اُن کی آزادیِ صحافت صرف چوہوں اور چڑیوں کی لائی ہوئی خبروں کو پھیلانے تک محدود ہے۔

اتنی فیس کے بعد آپ ڈاکٹر، وکیل اور دیگر شعبوں سے پروفیشنل ازم اور اخلاقیات کی امید کس منہ سے کرتے ہیں؟ کسی بے چارے نے اپنے بچے کو پچاس لاکھ خرچ کر ڈاکٹر یا وکیل بنا دیا تو کیا وہ پسماندہ اور ہارے ہوئے لوگوں کی اخلاقیات پر عمل کرے گا یا دو چار سال میں کسی نہ کسی طرح اپنے اوپر کیا گیا خرچ پورا کرے گا؟ ینگ ڈاکٹرز اسی لیے تو اتنے بے چین تھے۔ لاچار ہو کر ایمرجنسی بند کر کے بیٹھے رہے۔ اب وہ خاصے مستحکم ہو چکے ہیں، اور جس طرح نئی فی میل ڈاکٹرز کا استحصال کرتے ہیں، وہ بیان سے باہر ہے۔

لیکن اِس سارے نظام کی بدنمائی کے لیے اگر کسی کو ایویں کسی جذباتی لمحے میں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے تو وہ ایچ ای سی ہے۔ یہ نائیکہ مر بھی گئی تو اِس کی جگہ زیادہ توانا اور زیادہ ہتھکنڈوں والی نائیکہ آ جائے گی۔ اگر عمران خان تعلیمی نظام کی اصلاح کا اعلان کر دے تو میں بھی اُس کو جیل سے نکالنے کی مہم میں شامل ہونے کو تیار ہوں۔ لیکن اُس نے تو آج تک اِس شعبے کی بات ہی نہیں کی۔

Yasir Jawad/یاسر جواد

شیئر کریں