عروس البلاد لاہور کے کسی بھی راستے پر کھڑے ہو جائیں اور ہاتھ آنے والے پہلے شخص سے پوچھیں کہ ’’WASA‘‘ یا ’’WAPDA‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ امید ہے کہ وہ نہیں بتا سکے گا۔ لیکن اگر آپ پوچھیں گے کہ روح مرنے کے بعد کہاں جاتی ہے، یا منکر اور نکیر اور یاجوج ماجوج کون ہیں، یا حق اور کفر میں فرق کیا ہے، یا اُن کے پسند کے سیاسی راہنما کے سوا سارے غدار اور کرپٹ کیوں ہیں؟ تو وہ فوراً آپ کو بتا دے گا۔
وہ آپ کو دو قومی نظریے کی دو لائنیں بھی بتا دے گا، کیونکہ یہ ہے ہی دو لائنوں کا۔ کسی میٹرک پاس شخص کو معلوم ہو گا کہ ہم نے بڑی جدوجہد کر کے آزادی لی ہے، کہ بلوچستان میں معدنیات اور سونا پائے جاتے ہیں، انڈیا ہمارا وجود مٹانا چاہتا ہے، کہ سندھ کو بمبئی سے الگ صوبہ بنانے مطالبہ قائداعظم کے چودہ نکات میں شامل تھا۔ ایسی بہت سی لغویات وہ آپ کو پورے یقین کے ساتھ بتا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتائے گا کہ آل ابراہیم کی دو الٰہیات میں سے سچا دین کون سا ہے اور غلط دین کون سا! اور کیسے غلط دین کے عیار، مکار، خبیث پیروکار ہر وقت ’’ہمارے‘‘ خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں اور ہم اُن کے کے ایف سی تک کو ناکام نہیں بنا سکتے۔
آپ پوچھیں گے تو وہ زوال کا ’’اصل سبب‘‘ بھی بتا دے گا۔ گریڈ بائیس کے افسر سے لے کر چپڑاسی تک سب کے جواب ملتے جُلتے ہوں گے۔ دنیا کیسے بنی ہے؟ کیسے ختم ہو گی؟ کیسے کائنات کا چیف اکاؤنٹنٹ گوشوارے چیک کر کے ہلکا، زیادہ یا بہت زیادہ عذاب دے گا، کیسے کچھ کو افلاکی کالونیوں کی فائلیں ملیں گی، کچھ کو قبضہ اور کچھ کو تیار مکان۔
اتنا یقین اقوامِ عالم کے صرف اُن ادوار میں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے تھے، عقائد کے بیل ٹکراتے تھے۔ امن اور خوش حالی اور ذہن کی آزادی میں شک جنم لیتا ہے۔ حقیقت یا حقیقتوں سے تعلق ٹوٹنے کے نتیجے میں آپ یقین سے بھر جاتے ہیں۔ قطعیت آپ کے ہاتھ کو مضبوط اور دل کو سنگین بناتی ہے۔ وہ آپ کو آزادی کے قابل نہیں چھوڑتی۔
موجودہ حالت میں اگر ہمیں واقعی وہ آزادی مل گئی جس کے ہم خواہش مند ہیں تو اِس معاشرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ یہاں کوئی ریاست کار موجود نہیں، صرف پوڈکاسٹ کا مصالحہ ہی ہیں۔ وہ کوئی ایک لاکھ مسلمات کے بعد ایک ہزار خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ یعنی اُن کے لیے زیادہ تر چیزیں اٹل ہیں ’’جن پر کوئی سودا نہیں ہو سکتا۔‘‘ وہ اپنے سکٹزوفرینیا (شیزوفرینیا) سے باہر نکلنے کی کسی بھی بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔
آزادی بہت ایبسرڈ، مبہم اور تجریدی چیز ہے۔ یہ ٹریفک کے اصولوں کا کتابچہ نہیں، بلکہ ذمہ داری کا احساس ہے جو ایک سیاسی اور تہذیبی عمل میں سے گزرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان والے اِس بات کو بھی جھوٹا ثابت کر چکے ہیں۔ فرض کیجیے کہ یہاں اگلے ماہ فری اینڈ فیئر الیکشنز ہو جائیں اور سب کو کھل کھیلنے کا موقع ملے! مقبول ترین پارٹی اقتدار میں آئے گی، اور ایسی خوفناکی پھیلے گی کہ سب دنگ رہ جائیں گے۔ وہ حقیقی آزادی ہو گی۔ تب ہمیں آزادی سے بھی ویسی ہی نفرت محسوس ہو گی، جیسی آج بہت سوں کو جمہوریت سے ہونے لگی ہے۔
بقول شخصے: ’’حقیقت آئیڈیل کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ اُس کی توثیق کرتی ہے۔‘‘ اپنی حقیقت کے عناصر کی فہرست بنا کر خود ہی چیک کر لیں۔ ہمارا آئیڈیل محض اُس کی توثیق ہی کرے گا۔ حقیقت تو بدلی نہیں جا سکتی، تو آئیڈیل ہی بدل لیں۔ حضرت علامہ اقبال اہلِ مغرب کے متعلق فرما گئے: تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی — جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔ تھوڑی سی خود کشی اپنے آئیڈیلز کی کروا کر نہیں دیکھی جا سکتی؟ (اجتماعی نہیں تو انفرادی سطح پر سہی)
Yasir Jawad/یاسر جواد