جن اساتذہ سے توقع ہوتی ہو یا کرنی چاہیے کہ وہ طلبہ کی تربیت بھی کریں گے، اُنھیں انسان بننے میں راہنمائی دیں گے، سماجی برائیوں کا شعور دیں گے اور تنقیدی شعور یا شعوری تنقید کے قابل بنائیں گے، وہ خود گل سڑ گئے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں کا نظام بھی بیوروکریسی کیا تھانوں سے مشابہ ہے۔ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور ڈِین ایسے عہدے ہیں جن پر براجمان ہونے والا/والی پروفیسر کی نخوت اور غرور ہر ممکن پستی تو پہنچ چکا ہوتا ہے۔

اساتذہ کو لیکچرر سے پروفیسر بننے کے عمل میں بہت سی دھڑے بازیاں، چاپلوسیاں، سفارشیں اور سازشیں کرنی اور کروانی پڑتی ہیں۔ اُن کا زیادہ تر وقت لوگوں کو ذلیل کرنے میں گزرتا ہے۔ آپ کا پہلی کوشش میں اُن سے ملاقات میں کامیابی حاصل کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔ اگر کسی طرح پہنچ ہی جائیں تو وہ مختلف کاغذات مانگتے اور پھر بغیر پڑھے وہی سوالات پوچھتے ہیں جن کا جواب کاغذات میں ہو۔

آج ایک ممتاز اور پرانی یونیورسٹی میں کسی کا انٹرویو تھا۔ مجھے جاننے کا تجسس تھا کہ انٹرویو میں کیا پوچھتے ہیں۔ انٹرویو دینے والا نڈھال اور افسردہ تھا۔ اُس نے بتایا کہ انٹرویو کا ٹائم ایک بجے کا دیا گیا تھا۔ لیکن چار بجے تک ایک کلرک بار بار آ کر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی ’’مصروفیات‘‘ کے متعلق بتاتا اور انتظار کرنے کا کہتا رہا۔ وہ امیدوار برآمدے میں بیٹھا سوچتا رہا کہ چلا جاؤں یا تھوڑا مزید انتظار کر لوں۔ اُسے ہتک محسوس ہو رہی تھی۔ ساڑھے تین بجے اطلاع ملی کہ میڈم روٹی کھا رہی ہیں۔ لیکن چار بجے تک بلاوا نہ آیا۔ اب تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، کیونکہ چار بجے تو آفس کا ٹائم ہی ختم ہو جانا تھا۔

شاید میڈم کو ترس آ گیا یا سوچا ہو گا کہ چلو اس سے تو جان چھڑوائے۔ سو اے سی والے کمرے میں بلایا اور بس اتنا پوچھا کہ پہلے کوئی تجربہ ہے پڑھانے کا؟ کوئی پیپرز شائع ہوئے ہیں؟ (وہی پیپرز جو کسی سے چیٹ جی پی ٹی سے یا کسی اور سے لکھوائے جاتے ہیں) امیدوار نے کہنا چاہا کہ تجربے کا تقاضا کب کیا گیا تھا اشتہار میں؟ اور ڈاکومنٹس سے پتا نہیں چل رہا کہ فریش ایم ایس کیا ہے؟….. مجھے یہ سب بتاتے وقت اُس کا دل نوکری نہ ملنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اِس رویے کی وجہ سے ٹوٹا ہوا تھا۔ انتظار کے دوران وہاں گھومتے ہوئے ایک دو طلبہ سے اُس کی بات بھی ہوئی تھی، جنھوں نے کہا: ’’یہ آپ کہاں آ گئے ہیں؟ یہ جہنم ہے۔ پلیز یہاں نوکری نہ کرنا، چالیس پچاس ہزار روپے ملیں گے صرف، اور ہر وقت ذلت۔‘‘

نوکری کا اُمیدوار پوچھ رہا تھا کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ بلاوجہ اور بے مقصد اتنا انتظار؟ میں نے کہا کہ وہ تھانیدار کی طرح تمھیں تمھاری اوقات یاد دلا رہی تھی۔ کہ اگر نوکری نہیں ملنی تو ویسے ہی دفعہ ہو جاؤ، اور اگر مل گئی تو تمھارا مقام یہی ہو گا۔ بیوروکریٹک غرور کا مقصد ہوموپاکیئن کردار کی تشکیل کرنا ہوتا ہے تاکہ اُس کے اندر اگر کوئی انسانیت باقی ہے تو جلد ازجلد رخصت ہو جائے۔ پہلے وہ سر جھکانا اور ذلیل ہونا سیکھے، اُس کے بعد جب خود موقع ملے تو دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے۔ ہر اگلی پشت میں یہ ذلت کا دائرہ زیادہ تیزی سے گھومتا ہے۔ یہ بکواس باتیں اب چھوڑ دینی چاہئیں کہ ٹیچر روحانی باپ یا راہنما ہوتا ہے۔ ہمارے زیادہ تر ٹیچر صرف ذلیل کرنے اور نوکری نبھانے کے لیے بنے ہیں۔

میرے خیال میں پچاس سال سے زائد عمر کو پہنچ چکے عورتوں اور مردوں کو پروفیسر بناتے وقت اُن کے دماغ کا معائنہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ معائنہ بھی تو انہی جیسے پروفیسر کریں گے! یہاں جس کو بھی تھوڑا سا اختیار مل جائے وہ پورا مصطفیٰ کمال یا سرحد یونیورسٹی والی خاتون ہے۔

اب ہر شعبے میں جو حالات چل رہے ہیں، اُس میں کوئی بھی آئیڈیلسٹک بات یا مطالبہ کرنا بے وقوفی ہے۔ ہم صرف نوحہ خوانی ہی کر سکتے ہیں، اور یہ دعا بھی کہ اللہ ہمیں جلد از جلد اِس سسٹم کو سہنے اور پھر اِس کا حصہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، گریہ جاری ہو……۔

شیئر کریں