جدیدیت پسند برطانوی مصنف جس کے سیاسی شعور نے معاصر دور کی غیر جذباتی تصویر کشی کی۔ جارج آرویل کی ضد یوٹوپیا، (جہاں ہر چیز خوفناک ہے) ’’انیس سو چوراسی‘‘ کی منصوبہ بندی 1943ء میں ’’یورپ کا آخری آدمی‘‘ کے زیرِ عنوان ہوئی۔ چنانچہ یہ اس کی موت کا باعث بننے والی تپ دق کی بیماری کا ترش ردعمل نہیں تھی۔ آرویل 1950ء میں 50 برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا۔ [اینٹی یوٹوپیا: ایک ادبی اسلوب اور سیاسی تصور جو مثالی دنیا کی آئیڈیالوجی پر براہِ راست تنقید کرتا ہے۔ یہ مفروضاتی کامل معاشرے کے بنیادی خاکے کو لیتا اور دکھاتا ہے کہ کس طرح کاملیت نافذ کرنے کی کوشش میں جبر، تکلیف اور انسانی آزادی کا زیاں جنم لیتا ہے۔]
وہ 1903ء میں بنگال میں پیدا ہوا جہاں اُس کا باپ انڈین گورنمنٹ میں ملازم تھا۔ پیدائش کے وقت اس کا نام ایرک آرتھر بلیئر رکھا گیا۔ اس نے ایٹن کے خصوصی پبلک سکول میں داخلہ لیا، مگر یونیورسٹی میں جانے کے لیے سکالر شپ حاصل نہ کر پایا اور برما میں ’’امپیریل انڈین پولیس‘‘ میں بھرتی ہوا، اور پھر سکول ماسٹر اور صحافی کے طور پر زندگی گزاری۔ ابتدائی زمانے میں اس نے خود کو ’’انارکسٹ‘‘ بیان کیا مگر 1930ء کی دہائی کے دوران سوشلزم کا زبردست حامی بن گیا۔
پہلی عالمی جنگ کے دوران آرویل کا گھرانہ آکسفرڈشائر میں رہنے لگا۔ وہاں پڑوس کی ایک لڑکی بلیئر بوڈیکوم کے ساتھ اُس کی دوستی ہو گئی۔ وہ مل کر مطالعہ کرتے اور شاعری لکھتے۔ مشہور مصنف بننا دونوں کا خواب تھا۔ لیکن 1921ء میں ان کی دوستی بحران کا شکار ہوئی کیونکہ آرویل نے تعلق کو آگے بڑھانا چاہا، مگر بوڈیکوم راضی نہ تھی۔ پھر آرویل برما چلا گیا تو اُسے خط لکھا، لیکن اُس نے جلد ہی جواب دینا بند کر دیا۔ چھے سال بعد واپس آنے پر آرویل نے اُسے تلاش کیا اور شادی کی خواہش ظاہر کی، جو ٹھکرا دی گئی۔ بیس سال بعد اُنھوں نے خطوط میں اور ٹیلی فون کالز پر اپنے لڑکپن کی یادوں کو تازہ کیا۔
آرویل عورتوں کی کشش خصوصی طور پر محسوس کرتا تھا۔ برما اور لندن میں کئی خواتین اُس کی دوست تھیں۔ وہ خود کو غیر پرکشش سمجھنے کے باوجود ایک قسم کا عورت باز بنا۔ برینڈا نامی ایک لڑکی نے بھی دوستی تو کی مگر زیادہ گہرا تعلق بنانے کو ترجیح نہ دی۔ 1935ء میں وہ اپنی مستقبل کی بیوی ایلین سے ملا، جب اُس کی مالک مکان (لندن یونیورسٹی کالج میں نفسیات کی طالبہ) نے اپنے ہم جماعتوں کو ایک پارٹی پر بلایا۔ آرویل نے 1936ء کے وسط میں ایلین سے شادی کر لی اور سپین کی سول جنگ میں حصہ لینے وہاں گیا۔ وہ ایک سال بعد واپس آ گیا۔ 1938ء میں جب آرویل پریسٹن ہال دارالصحت میں داخل تھا تو اُس کی بیوی کی دوست لیڈیا جیکسن ملنے آئی۔ جس کے واک کرتے ہوئے ’’ایک ناگوار صورت حال‘‘ پیدا ہوئی۔ آرویل برینڈا اور ٹرائیبیون میں اپنی سیکرٹری کے ساتھ چکر بھی چلاتا رہا اور خطوط میں اپنی بے وفائیوں کا اعتراف بھی کیا۔ 1944ء میں آرویل اور ایلین نے تین ہفتے کے ایک بچے کو گود لے لیا۔ 1945ء میں ایلین کی وفات پر آرویل تنہا ہو گیا اور بیوی تلاش کرنے لگا۔ اُس نے چار عورتوں کو شادی کی پیش کش کی، اور آخر کار سونیا براؤنیل سے 1949ء میں شادی کر لی۔ لیکن اُس کی اپنی زندگی کے صرف تین ماہ باقی تھے۔ کچھ کے خیال میں سونیا ہی ’’اُنیس سو چوراسی‘‘ کی جولیا تھی۔
سوویت روس کے خلاف طنزیہ ناول ’’Animal Farm‘‘ کی وجہ سے بائیں اور دائیں بازو دونوں نے آرویل پر حق جتایا۔ مگر اس کا عمومی رویہ بائیں بازو کی جانب رجحان ظاہر کرتا ہے — امن پسند، سرمایہ داری کا مخالف، زیریں-متوسط -اور بالائی طبقات کی تقسیم پر شرمسار، اور مزدوروں کی سادہ اقدار میں شراکت کا تمنائی۔ سب چیزوں سے بڑھ کر وہ ایک لکھاری تھا، اور اپنا زیادہ تر وقت یہ منصوبہ بندی کرنے کی کوشش میں صرف کیا کہ بحیثیت مصنف اپنی آزادی کو قربان کیے بغیر انسانیت پسندانہ اور اصلاحی سیاسی خیالات کوکس طرح عملی جامہ پہنائے۔
آرویل ہسپانوی سول جنگ میں فرانکوں کے خلاف لڑنے کے لیے سب کچھ چھوڑ کر سپین چلا گیا۔ اس لڑائی کے دوران (جب وہ زخمی بھی ہوا) اسے پہلی مرتبہ ان سٹالنی طریقوں کا علم ہوا جن پر اُس نے ’’اینیمل فارم‘‘ میں طنز کی۔ لڑائی ختم ہونے کے بعد اس نے ’’لیبر‘‘ کو ووٹ دیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ مزدور طبقہ ’’لیبر‘‘ کو ووٹ دے گا۔ ’’اینیمل فارم‘‘ نے اسے کچھ شہرت دلائی، مگر ’’انیس سو چوراسی‘‘ نے تو عالمی سطح پر مشہور کر دیا۔ خود آرویل نے تسلیم کیا تھا کہ یہ ایک اور (مغرب میں بہت کم مشہور) ضد یوٹوپیا ’’We‘‘ کی بنیاد پر تھا (جو Zamyatin نے لکھی تھی)۔ تاہم، ’’انیس سو چوراسی‘‘ کے حوالے سے ’’We‘‘ کا نہیں بلکہ برطانوی ناول نگار آلڈس ہکسلے کی ’’Brave New World‘‘ (1933ء) کا خیال آتا ہے۔ ہکسلے کی کتاب کا مقصد پیش گوئیاں کرنا تھا۔ اس نے بھی ایوگینی زمیاتن (1884ء تا 1937ء) کی تصنیف ’’We‘‘ سے کافی کچھ لیا تھا۔
’’انیس سو چوراسی‘‘ بہت اثر انگیز ثابت ہوا: کچھ لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ اس نے اپنی پیش بینیوں کو حقیقت کا روپ دھارنے سے روکا۔ اس میں شامل ’’بگ برادر‘‘ اور دیگر اصطلاحات زبان کا حصہ بن گئیں۔ یہ سٹالنسٹ ’’پاکیزگی‘‘ اور فریب پر طنز کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دور کی استبدادی ’’سیاسی درستی‘‘ کی پیش بینی بھی کرتا ہے۔ سکاٹش نقاد ڈیوڈ ڈیچز نے اسے ’’شان دار انداز میں بے کار!‘‘ قرار دیا۔ کچھ کے خیال میں آرویل کے ناول کا حوالہ ادبی سے زیادہ سیاسی بنتا ہے۔