ملکی افق پر تیسری قوت کا نیرِ تاباں طلوع ہونے سے پہلے کچھ ایسے مسئلے بھی تھے جو بعد ازاں دھندلے پڑتے پڑتے غائب ہو گئے۔ کرپشن کرپشن اور چور چور کا ایسا شور مچایا گیا کہ کرپشن کرنےو الوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا اور سبھی چور بن گئے۔ پہلے غبن، گھپلوں، رشوت، فراڈ، ہیرا پھیری، وغیرہ جیسے الفاظ شہ سرخیوں میں دکھائی دیتے تھے: واپڈا میں دس لاکھ روپے کا گھپلا، جعلی رسیدوں پر لاکھوں روپے کا فراڈ، کوئی پائپ لائن بچھانے میں بدعنوانی، وغیرہ۔ بلکہ کبھی کبھی تو طیاروں کی خرید میں کِک بیکس کی خبریں بھی آ جایا کرتی تھیں۔
کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگانے والوں نے لاکھوں اور کروڑوں کو اربوں اور ہزاروں ارب کے فگرز میں گم کر دیا۔ اب ہمارے لیے دو چار کروڑ کے گھپلے کی خبر (اگر چھپ بھی جائے) کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ آج کے اخبار کے صفحۂ اول کی شہ سرخیاں دیکھ لیں: ’’وزیر اعظم کا ٹیکس کے متعلق بیان‘‘ (چالیس سال سے یہی الفاظ استعمال ہو رہے ہیں)، ’’خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے مل کر لڑنے کا عزم‘‘ (معلوم نہیں کہ ملنا کس کے ساتھ ہے، آپس میں یا دہشت گردی سے؟)، ’’عالمی برداری انٹیلی جنس شیئرنگ کرے‘‘ (اسحاق ڈار، کیوں؟)، ’’سہیل آفریدی کا عہدے پر واپسی کا امکان ختم،‘‘ ’’بنگلہ دیش کا مکہ معاہدے میں شمولیت پر غور کا عندیہ،‘‘ ’’الہان عمر کے گھر کی تلاشی،‘‘ ’’ایران کی سعودیہ حوثی مذاکرات میں……،‘‘ ’’موبائل ہیلتھ پروگرام….،‘‘ ’’ورچوئل اثاثوں کا جامع ریگولیٹری فریم ورک،‘‘ ’’پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی پر سوالات،‘‘ ’’برآمدات میں کمی….۔‘‘
اخبارات کے بارے میں ویسے بھی عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ صرف سن ہی تبدیل ہوتے ہیں، یا چند ایک نام۔ باقی سب چیزیں جوں کی توں رہتی ہیں۔ برآمدات میں کمی تقریباً 35 سال سے تو دیکھ ہی رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی خبر اور کشمیر کے متعلق پراپیگنڈا خبر اور کراچی میں ہلاکتوں کی خبر کبھی روزمرہ نصاب کا حصہ تھی۔ اب یہ خبریں گم ہو گئی ہیں۔ اب ہم زیادہ بڑے مسئلوں سے نبردآزما ہو رہے ہیں، جیسے خطے کا امن، اور ایسی ہی دیگر ہزلیات۔ لگتا ہے کہ اب معاشرتی، ثقافتی، صحافتی وغیرہ سطحوں پر کچھ چیزیں نظر آنے والے مستقبل تک طے ہو چکی ہیں۔
ہم نے اندر ہی اندر مان لیا ہے کہ تعلیم ہماری اپنی ذمہ داری ہے اور پرائیویٹ سکولوں میں ہی اچھی تعلیم ملے گی۔ اِس کے علاوہ حکومت کا تعلیم یا صحت کی فراہمی سے تعلق تو ہے، لیکن آہستہ آہستہ یہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کہ ٹرانسپورٹ کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ چند ایک رُوٹس پر ہی نمائشی بسیں چلا کر احسان چڑھایا جاتا ہے۔ سڑکوں پر ٹیکس لینا بھی روٹین کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے۔
ہم اب محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں کہ صحافت کا تعلق اب کسی ایک پارٹی کی حمایت اور خصیہ برداری کے سوا کچھ نہیں رہا۔ کالم بہت کم لوگ پڑھتے اور زیادہ تر بیوروکریٹس یا خصوصی تعلقات رکھنے والے افراد ہی لکھتے ہیں۔ فارغ ہو چکے جید investigative صحافی اندر کی خبریں دینے کے دعوے کرتے ہیں۔ کچھ ایک تو ذاتی اقوال زریں بھی لکھتے ہیں۔ ہم مان چکے ہیں کہ ہر قوت کے پیچھے دوسری قوت ہے، اور پالیسی کے اندر ایک اور پالیسی ہوتی ہے۔ کہ عوام کو اندر کی بات کبھی پتا نہیں چل سکتی۔ ہماری سمجھ بوجھ کی قوت کو یوٹیوبرز اور شاہ ’’زادوں‘‘ نے مزید کُند کر دیا ہے۔
اب بھی محسوس کیا اور سمجھا جاتا ہے کہ مولوی دیانت دار اور نیک ہوتا ہے۔ کہ دین داری کے لیے ظاہری رسوم (خصوصاً جمعہ پڑھنا) بہت ضروری ہے۔ دین کو آسان تشریح کر کے سمجھانے والے بغیر داڑھی والے علما کرام عقل سے فرار کی مناسب راہیں سجھاتے ہیں۔ رمضان میں سر پہ دوپٹے لینے سے ماحول اچھا بنتا ہے۔ نعتوں میں جھنکار اور بیک گراؤنڈ میوزک ممنوع نہیں۔ مُلاؤں کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت ہے۔ اگر استطاعت ہو اور ’’انصاف‘‘ کیا جائے تو ایک سے زائد بیویاں رکھنا بھی ٹھیک ہے۔ عورتوں اور مردوں کا اختلاط ٹھیک نہیں (کیونکہ اِس سے معاشقے پروان چڑھ سکتے ہیں، لیکن پسند کی دوسری شادی برقعے میں بھی ہو جاتی ہے)۔ وغیرہ وغیرہ
ملکی سطح پر مانا جا چکا ہے کہ آبادی نہیں رک سکتی اور پولیو کے قطرے پلانے کے علاوہ آیوڈین ملا نمک کھلانے کے ذریعے بھی قوتِ افزائش کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ دُکانوں پر آپ کو نمک کا نیلا اور سبز پیکٹ دونوں ملیں گے۔ پھر بھی ہم چودہ سال بعد 33 کروڑ ہو جائیں گے۔ لیکن اِس بارے میں اب کچھ بھی نہ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ رزق خدا کے ہاتھ میں ہے۔
چادر اور چار دیواری کا تقدس، قانون کے مطابق، آئین کی رُو سے، اخلاقی اعتبار سے، بدعنوانی سے پاک معاشرہ، کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا، گھومنے والے درویش اور روحانیت، شریعت کے مطابق، قومی سلامتی اور وحدت، اجازت نہیں دی جائے گی، سیسہ پلائی دیوار،……۔ ان سب باتوں کا پہلے بھی کوئی مطلب نہیں تھا، اور اب بھی کوئی مطلب نہیں۔ وزرا عام شہری کے طور پر بات کرتے ہیں اور عام شہری بطور وزرا۔
یہ بھی مانا جا چکا ہے کہ الیکشن سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور یہ بھی کہ حکومت کسی کی بھی ہو حالات یہی رہیں گے۔ کہیں اندر یہ بھی خیال موجود ہے کہ جمہوریت ہمارے لیے موزوں نہیں۔ کسی خمینی اور اتاترک کی آس لگائے لگائے لوگ بوڑھے ہو گئے، اور اب اُنھیں کسی اور، یعنی اپنی مرضی کے اتاترک کی خواہش ہے۔ ایسا نہیں ہونے والا۔ اپنی ترقی، ذہنی بلوغت اور ہوش مندی کو حکومتی پالیسیوں سے نتھی کرنے والوں کو یہ چیزیں کبھی نہیں مل سکتیں۔ اپنی زندگی میں ایسے ہی ڈھکوسلے جملوں پر غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ آپ خود کسی مالی مفاد کے بغیر بھی اُتنے ہی متعصب اور تبدیلی سے گریزاں ہیں جتنا ریاستیں۔ اور ریاستوں کے پیچھے تو اور بھی بہت کچھ کارفرما ہوتا ہے۔
فرد کی سوچنے کی آزادی کبھی باہر سے نہیں آ سکتی۔ یہ طے شدہ چیزوں سے گریز کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور فرد سے گروہ یا مجموعے کو اِس کی منتقلی کے متعلق امید میں پڑنا بے کار ہے۔ یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اِس زندگی میں کتنی مہمل اور فرسودہ باتوں کو دل میں بسائے رکھتے ہیں اور کتنی چیزوں کو اتار پھینکتے ہیں۔ روایت سے بڑھ کر رجعت پسندی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ جب تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ وغیرہ ریاست کی نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری ہے تو پھر روایت کی ذمہ داری کیوں لی جائے؟ ایک محروم، ننگے، نچڑے ہوئے مستقبل میں جانا ہے تو بوجھ ہی ہلکا کر لیں!