گزشتہ دو تین سال کے دوران فیس بک پر کئی مجادلے دیکھے ہیں۔ دو افراد کے درمیان کوئی اختلاف یا چپقلش ہوتی ہے، کچھ قریبی دوست یا مفاد پرست اُن کی حمایت میں کمنٹ کرتے ہیں اور اِس طرح یہ تنازعے کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور خصوصاً فیس بک ایک طرح کا اِیکو چیمبر ہے، یعنی اپنی ہی پسند کے خیالات اور آرا کو سننا۔ ہم سبھی لوگ جلدی میں ہوتے ہیں، زیادہ وقت نہیں ہوتا، لہٰذا فوری فیصلہ دینا ہوتا ہے۔ کئی زیادہ ہی سیانے لوگ دونوں طرف سے مساوی فیصلہ دینے کو بہترین طریقہ سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی طرف سے فیصلہ نہ دینا زیادہ اچھا ہے۔

اِن تنازعات میں وقت ضائع ہوتا ہے۔ آپ کسی کے خلاف پوسٹ کر کے پھر اُس پر پہرہ دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور یوں دوسرے حریف کا مقصد پورا ہو جاتا ہے: آپ کی توجہ حاصل کرنا، آپ کو پریشان یا زچ کرنا، خود کو اصول پرست ثابت کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اِس صدائے بازگشت والے ڈبے میں کوئی بھی شور برداشت کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جاتا ہے۔ فیس بک کا الگورتھم اِس عناد اور اختلاف کو مزید مہمیز دیتا ہے۔ ہم ایک الیکٹرانک ریفری کے جال میں پھنس جاتے ہیں جو دونوں فریقین کا مساوی ہمدرد ہے۔ اُسے بس میچ جاری رہنے سے غرض ہے

الیکٹرانک مجادلے میں عین ممکن ہے کہ آپ اپنے مخالف سے کبھی بالمشافہ ملے بھی نہ ہوں۔ جس کے باعث ایک سادہ سی بات کو بطور طعنہ لیے جانے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ فون یا مانیٹر کی سکرین کے پیچھے بیٹھ کر صرف الفاظ ٹائپ کرنے میں لہجہ، جسمانی حرکات و سکنات اور آواز کا زیر و بم نہیں ہوتا اور عدمِ ابلاغ بڑھتا ہے۔ میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ بہت سنگین ایشو پر بھی جب کسی سے کمنٹس یا چیٹ کے ذریعے بات ہوئی تو ہمیشہ تلخی نے جنم لیا، اور آمنے سامنے بات کی تو کوئی مسئلہ نہ ہوا۔ وہاں آپ چہرے کے ایک تاثر سے بہت کچھ سمجھا سکتے ہیں۔

کسی تنازعے میں زیادہ ساتھیوں کے لائیکس یا تائید حاصل کرنا آپ کو اپنے سماجی رتبے میں بہتری کا جعلی احساس دیتا ہے، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ ’’حق‘‘ پر ہیں۔ لیکن نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم میں سے کچھ لوگ اکثر صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے پوسٹ لگاتے ہیں۔ اس سے بچنے کا آسان ترین طریقہ خود سے پوچھنا ہے کہ: ’’کیا یہ معاملہ واقعی اتنا اہم ہے؟‘‘ اِس کے بعد ایک یا دو دن تک انتظار کرنا چاہیے۔ بہت سا ری ایکشن اِس عرصے میں زائل ہو سکتا ہے اور ہم/آپ گرداب میں پھنسنے سے بچ سکتے ہیں۔

میں نے بہت پڑھے لکھے لوگوں کو بھی بڑی بڑی گالیاں لکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا۔ ایسے لوگوں کو اَن فالو کرنا بہترین بتایا جاتا ہے، لیکن بلاک کی آپشن بھی مفید ہے، بشرطیکہ بعد میں تاکا جھانکی نہ کی جائے۔ جو دوست آپ کے خلاف کہی گئی باتوں کے سکرین شاٹس بھیجیں، اُنھیں مخالف کا کارندہ سمجھنا چاہیے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا ہم سب کے اعصاب پر سوار ہے۔ جنگ کے دنوں میں بچوں کو شدید تشویش رہتی تھی۔ وہ میزائلوں کی ویڈیوز سے پریشان ہوتے اور نصاب میں پڑھے ہوئے اصولوں کی روشنی میں جانچے کی کوشش کرتے تھے۔ ماں باپ کی تشویش اُن کی بے جا تشویش کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ میں ایک ایسے صاحب کو بھی جانتا ہوں جو اپنے لیڈر کے سیاسی مخالفین کی تصویر تین چار سالہ بچوں کو دکھا کر اُس سے نفرت کرنا سکھا رہا تھا۔

ہم سب کو سیاسی مسائل، ذاتی رائے کی نفی، ناپسندیدہ حرکات اور مکروہ لگنے والی باتوں پر غصہ آتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر آپ کوئی انقلاب یا تبدیلی نہیں لا سکتے۔ اگر اِس سے خود کو بچا لیں تو یہ بھی بہت بڑی تبدیلی شمار ہو گی۔ اِس کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اُن لوگوں سے کبھی کبھی مل بھی لینا چاہیے جن کو آپ فیس بک اور سوشل میڈیا پر نفرت کرتے یا اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔ بہت کچھ عیاں ہو جائے گا۔ میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ ملنے کے بعد رنجش دور ہو گئی۔ یہ چیزیں ایک طویل عمل کے بعد ہی سیکھی جا سکتی ہیں۔

شیئر کریں