قدیم یونانی ریاست آکیا میں اگر باپ چاہتا تو بچوں کو مرنے کے لیے پہاڑیوں کی چوٹی پر چھوڑ سکتا تھا یا اُنھیں پیاسے دیوتاؤں کی قربان گاہوں پر ذبح کر سکتا تھا۔ ایتھنز میں بھی قانون اور رائے عامہ بچہ کُشی کو فاضل آبادی اور زمین کی باعثِ فلاکت تقسیم در تقسیم کے خلاف احتیاطی تدبیر مانتے تھے؛ کوئی بھی باپ نومولود بچے کو اپنا نہ ہونے کے شبہے یا کمزور یا بدہیئت ہونے کی وجہ سے مرنے کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔

غلاموں کے بچوں کو شاذ ہی زندہ رہنے دیا جاتا۔ لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ زد پر آتی ہیں، کیونکہ ہر لڑکی کو جہیز دینا پڑتا ہے، اور شادی ہونے پر وہ پرورش کرنے والوں کے گھر اور خدمت سے اُن لوگوں کے گھر اور خدمت میں چلی جاتی ہے جنھوں نے پرورش نہیں کی ہوتی۔ نومولود کو مارنے کے لیے ایک بڑے سے مٹی کے برتن میں ڈال دیتے جو کسی معبد کے احاطے میں یا کسی اور جگہ پر پڑا ہوتا جہاں سے اگر کوئی گود لینا چاہے تو جلد ہی لے سکے۔

یہ سب قدیم دور کی باتیں ہیں، اور یہ قدیم دور انیسویں صدی کے آخر تک جاری تھا۔ برصغیر میں آج بھی کہیں کہیں موقعہ ملتے ہی پرانے اور راسخ دستور کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ ہمارے حادثات بھی دستور یا رواج کا حصہ ہیں۔ قدیم دور میں بچوں کو بھینٹ بھی کیا جاتا رہا۔ لیکن اُس کے بھی کچھ اصول تھے، کوئی مقصد پیش نظر ہوتا تھا، کسی دیوتا کو بھینٹ چڑھا کر خوش کرنا ہوتا تھا، کوئی مجبوری ہوتی تھی۔ یہ نہیں کہ پیدا ہوتے ہیں آگ میں ڈال دیا جائے۔

تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے، ذمہ دار افراد کو نہیں چھوڑا جائے گا، مجرمانہ غفلت برتنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، وزیراعلیٰ/وزیراعظم نے نوٹس لے لیا، سخت کارروائی کی جائے گی، ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ معلوم کی جائے گی……

لیکن ’’جان تو اللہ کے ہاتھ میں ہے،‘‘ بچوں کی ’’اتنی ہی تھی،‘‘ ’’جو اللہ کو منظور،‘‘ ’’ایک فول پروف نظام بنایا جائے گا،‘‘ ’’ہونے کے آگے کس کی چلتی ہے،‘‘ ’’دم کا کیا بھروسا، آئے نہ آئے،‘‘ ’’لواحقین کو دس دس پندرہ پندہ لاکھ روپے دیے جائیں گے،‘‘ ’’ہم دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔‘‘

کوئی بھی دکھ میں برابر کا شریک نہیں ہو سکتا، جب تک موت میں برابر کا شریک نہ ہو۔ یہ سب دقیانوسی جملے ہماری زبان اور ذہنیت کا جزو ہیں۔ ’’اجازت نہیں دیں گے‘‘ سے لے کر ’’آئینی حقوق‘‘ تک سب بکواس ہے۔ یہ باتیں مطالعہ پاکستان کا مواد ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

نوبیل انعام یافتہ ایلی وِیزل (Elie Wiesel) کی یادداشتوں ’’رات‘‘ (1958ء) میں ذکر ہے کہ ایس ایس گارڈز نے تین قیدیوں کو پھانسی کی سزا دی جن میں ایک ڈچ لڑکا بھی شامل تھا؛ اُس پر تخریب کاری کا الزام تھا۔ بچے کا وزن کم تھا، لہٰذا پھانسی دیے جانے پر اُس کی جان نہ نکلی۔ وہ کوئی آدھے گھنٹے تک پھانسی کے پھندے سے لٹکا ہوا تڑپتا رہا۔ مجمعے میں کھڑے ایک آدمی نے مایوسی میں کہا: ’’رحم کرنے والا خدا کہاں ہے؟ کہاں ہے وہ؟‘‘ جب انجام کار لڑکے کی جان نکلی تو وِیزل کے ضمیر نے کہا: ’’کہاں ہے وہ؟ وہ یہ رہا۔ پھانسی کے پھندے سے جھول رہا ہے۔‘‘

وہ بچے کو خدا سے تشبیہ دے رہا تھا۔ پتا نہیں وہ پندرہ جلے ہوئے بچوں کو دیکھتا تو کیا کہتا!

شیئر کریں