قدیم دور کے ڈراما نگاروں نے جب پیچیدہ انسانی مسائل کو سٹیج پر پیش کرنا شروع کیا تو بہت سی الجھنوں کو ناقابلِ حل پایا۔ شیکسپیئر نے یہ تکنیک استعمال کی اور ہمارے ڈراموں اور فلموں میں اب بھی اِس کا استعمال جاری ہے۔ چنانچہ انڈین فلم ’’ہم آپ کے ہیں کون‘‘ میں ایک کتا سارے انسانی مسائل کو حل کرتا ہے۔ کئی فلموں میں کوئی اچانک انکشاف پانسہ پلٹ دیتا ہے، وغیرہ۔ تب کیمرے بھی تیزی سے گھمائے جاتے ہیں۔ کوئی پرانی محبوبہ تیس سال بعد نظر آنے پر تو تیز موسیقی بھی چھوڑتے ہیں، اور پوری زندگی کی کدورت دھل جاتی ہے۔
اِس تکنیک کو Deus ex machina کہا جاتا ہے۔ پرانی لاطینی اصطلاح کا مطلب ہے: ’’دیوتا بذریعہ مشین۔‘‘ دراصل یوری پیڈیز نے پیچیدہ ڈراموں کو سمیٹنے کے لیے یہ تکنیک استعمال کی جس میں ایک کرین (mechana) کی مدد سے دیوتا کا کردار ادا کرنے والا اداکار سٹیج پر نیچے اتارا جاتا اور وہ سارے مسائل سلجھاتا۔ لیکن شیکسپیئر جیسے لوگ اپنی حقیقی مسائل کے حل خود ہی ڈھونڈ لیتے تھے۔
بربیج نامی اداکار نے شیکسپیئر کے ڈرامے میں رچرڈ سوم کا کردار بہت اچھا ادا کیا۔ ول ڈیورانٹ بتاتا ہے کہ ایک خاتون بہت متاثر ہوئی اور کھیل ختم ہونے سے پہلے ہی بربیج کو پیغام دیا کہ رات کو اُس کے پاس آئے اور اپنا نام ’’رچرڈ سوم‘‘ بتائے۔ شیکسپیئر کو اُن دونوں کی گفتگو کا پتا چل گیا، بربیج سے پہلے وہاں جا پہنچا، خاتون سے متمتع ہوا۔ اِتنے میں پیغام آیا کہ دروازے پر رچرڈ سوم آیا ہے تو شیکسپیئر نے جواب بھجوایا کہ ’’رچرڈ سوم سے پہلے ولیم فاتح آیا تھا۔‘‘ (یاد رہے کہ رچرڈ سوم پندرھویں صدی میں انگلینڈ کا بادشاہ تھا، جبکہ ولیم فاتح گیارھویں صدی میں گزرا تھا اور شیکسپیئر بھی ولیم تھا)۔
ہم دعاؤں میں ہر وقت Deus ex machina مانگتے ہیں۔ کہ بس کوئی دیوتا کرین پہ بیٹھا کر نیچے لایا جائے اور وہ ہمارے مسائل حل کر دے جو ہمارے خود پیدا کردہ ہیں یا ہم پر لاد دیے گئے۔ رچرڈ سوم ایک ٹریجڈی ہے۔ اب خوف ناک ترین ٹریجڈیز، مثالیں، القابات اور واقعات محض کامیڈی بن کر رہ گئے ہیں۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’زندگی ایک کسی احمق کی بیان کردہ کہانی ہے۔‘‘ ہمارے ہاں یہ محض ایک احمق کی بیان کردہ ہی نہیں، بلکہ ایک احمق کی کہانی بھی ہے۔ ’’شور اور غضب سے بھرپور، کسی بھی معنی سے عاری۔‘‘ (Signifying nothing)
کبھی کبھی ول ڈیورانٹ کی بہت زیادہ تعریف کرنے کا دل چاہتا ہے کہ اُس نے تاریخ، تہذیب اور انسانی ڈرامے کے بہت سے کرداروں کو ہم سے متعارف کروایا، اور اُنھیں سمجھنے کی کلید بھی مہیا کیں۔ باقی ہم نے خود سمجھنا ہوتا ہے۔ ورنہ زندگی کی طوالت ’’شرمندگی کو بھی زیادہ طویل‘‘ کرتی جاتی ہے۔
Yasir Jawad/ٰیاسر جواد