پہلے ہم صرف تہذیب و ثقافت کے دسترخوان پر حرام خوری کرتے تھے، اب سائنس کے دسترخوان پر بھی کرنے لگے ہیں۔ جیسے یہاں سوشلزم، لبرل ازم اور سیکولر ازم کے معنی بدلے گئے تھے، اب سائنس کے معنی بھی بدل بلکہ مسخ کر دیے گئے ہیں۔ اب تو فیمنزم کی مٹی پلید ہونے کی باری بھی آ گئی ہے۔
دوسری طرف اے آئی سے ہونے والا نیا نیا پیار پاکستانیوں کو بڑے بڑے دعوے کرنے پر مائل کر رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے تو یہ بھی پرچار شروع کر رکھا ہے کہ تعلیم غیر ضروری ہو گئی ہے۔ بس کمپیوٹر اور اے آئی کا استعمال سیکھو، اور صرف فون کی مدد سے کمائی کرو۔ ٹیکنالوجی کے معاملے میں ہمارا آئی کیو جنات سے بجلی پیدا کرنے کی تجاویز دینے والا ہے اور استعمال بل گیٹس والا۔ ہمیں خطرات کا کوئی اندازہ نہیں۔
دنیا میں اس وقت گیارہ ہزار سے زائد ڈیٹا سنٹرز ہیں۔ جن میں 4200 تو صرف امریکہ میں ہی ہیں۔ یوکے، جرمنی، چین اور فرانس میں تین تا پانچ سو ڈیٹا سنٹر ہیں۔ یہ ڈیٹا سنٹر بہت بڑے بڑے سرور ہیں جو تمام وقت چلتے رہتے ہیں اور سٹریمنگ، اے آئی، سوشل میڈیا، بینکنگ، انٹرنیٹ اور بہت سی دیگر آن لائن سروسز کو چلاتے ہیں۔ اِس عمل میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور ڈیٹا سنٹرز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جھیلوں دریاؤں اور زیرِ زمین کا پانی استعمال ہوتا ہے۔ اے آئی سے پوچھا گیا ایک سوال 16 اونس پانی خرچ کرتا ہے۔ صرف چیٹ جی پی ٹی ہی یومیہ ایک کروڑ سوالات سے نمٹتا ہے۔ ایک گھنٹہ سوشل میڈیا پر سکرولنگ میں بھی 15 اونس تازہ پانی لگتا ہے۔ ایک گھنٹے کی زوم میٹنگ 60 اونس اور ایک گھنٹے کی اچھے معیار کی ویڈیو کو تین گیلن تک پانی درکار ہوتا ہے۔ درمیانے سائز کا ڈیٹا سنٹر روزانہ تین لاکھ گیلن پانی استعمال کرتا ہے، اور بڑے ڈیٹا سنٹرز میں یہ مقدار 50 لاکھ گیلن تک ہے، یعنی 1.8 بلین گیلن سالانہ۔ یہ مقدار دس تا پچاس ہزار نفوس کے ایک قصبے کی ضروریات جتنا ہے۔
ہوا کے ذریعے بھی ٹھنڈا کیا جاتا ہے، اور ٹھنڈے علاقوں میں بھی ڈیٹا سنٹر بنائے گئے ہیں۔ نیل ڈیگراس کا کہنا ہے کہ کائنات میں سردی یا ٹھنڈ نام کی چیز کا کوئی وجود نہیں۔ یہ صرف حرارت کی عدم موجودگی کا نام ہے۔ جب آپ پانی فریزر میں رکھتے ہیں تو وہ اُس میں موجود حرارت suck کرتا ہے۔ یہ حرارت پچھلے حصے کو ہاتھ لگا کر محسوس کی جا سکتی ہے۔ پانی اور دیگر چیزوں سے کھینچی ہوئی حرارت ہی ’’ٹھنڈ‘‘ کا باعث ہوتی ہے۔ تو سرد علاقوں میں قائم ڈیٹا سنٹرز سے ماحولیات پر بھی بہت زیادہ فرق پڑے گا۔ بہرحال، جدید اقوام خلا میں یا سمندر کی تہہ میں ڈیٹا سنٹر بنانے وغیرہ پر غور کریں گے۔
لیکن وہاں اے آئی اے کے فرینکنسٹائن کو لگام ڈالنے کی بات ہو رہی ہے جس کا ہمیں بالکل نہیں یا بہت کم علم ہے۔ اے آئی کمپنیوں کی ایک کانفرنس یا پروگرام میں نوجوان طالبہ کرسی پہ چڑھ کر چِلّانے لگی: ’’تم کہتے ہو کہ یہ سب لوگوں کے لیے کیا جا رہا ہے، لیکن لوگوں کا خوف بڑھ رہا ہے۔ جب وہ سنتے ہیں کہ اِس بات کا دس فیصد امکان موجود ہے کہ اے آئی ہمیں مار ڈالے، تو وہ خوف زدہ ہوتے ہیں….۔ ہم سب تباہی کی طرف جا رہے ہیں، اور آپ لوگ یہاں بیٹھ کر اے آئی کی باتیں کر رہے ہیں! کہاں ہے شفافیت؟ ووٹ کہاں ہے؟ کیا اِس بارے میں کوئی ریفرنڈم کروایا گیا؟ ایسا نہیں ہو گا، کیونکہ آپ لوگوں کو جواب معلوم ہے۔‘‘
ایک اور اے آئی کے ماہر کی ویڈیو رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ اینڈرسن کوپر کا کہنا ہے کہ ’’بہت جلد اے آئی قابو سے باہر ہو جائے گی۔ اور ایسا دو تین سال میں ہو سکتا ہے، کیونکہ اِس کی ترقی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ دو ماہ پہلے اے آئی نے خود سے ہی تھرڈ پارٹی انفراسٹرکچر میں نقب لگا دی تھی اور سب کچھ ہیک کر لیا تھا۔‘‘ اُس کے خیال میں اے آئی جلد ہی دنیا بھر کے نظاموں میں گڑبڑ کر سکتا ہے۔
ہمارے ہاں بھی بہت سے طلبہ اب کم ازکم میتھیمیٹکس کے پیپر کی تیاری تو اے آئی کی مدد سے کر رہے ہیں۔ ایسا ہی فزکس اور دیگر معاملات میں بھی ہو رہا ہو گا۔ تب ٹیچر کی ضرورت بہت کم رہ جائے گی۔ اور زیادہ اہم بات یہ کہ تب طلبہ کی ضرورت بھی شاید نہ رہے۔ جو تیر طلبہ نے ڈگری لے کر چلانا ہے، وہ اے آئی بھی تو چلا سکتی ہے!
ہمارے ہاں اِن مسائل پر بات کرنے والے سب سے اہم لوگ ریحان اللہ والا ٹائپ کے ہیں۔ ہم ویسے بھی ٹیکنالوجی میں سب سے تیز ہیں۔ جو سہولیات اور آزادیاں ایران، سعودی عریبیہ، قطر، یو اے ای وغیرہ میں بھی دستیاب نہیں، یہاں ہم ’’انجوائے‘‘ کر رہے ہیں۔ ہم حیران اللہ والے بن جائیں گے۔ تصور کریں کہ ان پانچ دس سالوں میں کتنے لوگ چیٹ جی پی ٹی سے تھیسس لکھوا کر پروفیسر بن چکے ہوں گے! خیر، اے آئی سے پہلے ہمارے پی ایچ ڈی کون سا مختلف تھے۔
Yasir Jawad/یاسر جواد