سِسرو (Cicero) نے ہیروڈوٹس کو ”بابائے تاریخ‘‘ قرار دیا۔ وہ واقعی اپنے سے بعد کے مؤرخین کا جدامجد تھا۔ اگرچہ اُس کا طریقہ کار موجودہ محققین کی توقعات کے مطابق نہیں مگر ماضی کے ایک قابل بھروسہ بیان کے لیے اُس کی کھوج(جو دیوتاؤں کے بجائے انسانوں پر مرکوز ہے) گزرے زمانے کے تنقیدی مطالعہ کا نکتہ آغاز ہے۔ اُس کی ’’Histories‘‘ کو ایک زمرے میں رکھنا آسان نہیں کیونکہ یہ جغرافیہ، نسلیات اور حیاتیات کا ملغوبہ ہیں اور ہیروڈوٹس سے بعد کی صدیوں میں مؤرخین کا زیادہ