مصنف نے کتاب کے دیباچے میں لکھا:
’’موساد کے اندر گزارے ہوئے چار سال کے دوران دیکھے اور سنے ہوئے حقائق کا انکشاف کرنا ہرگز ایک آسان کام نہیں۔ میں ایک کٹر صیہونی پس منظر رکھتا ہوں۔ مجھے سکھایا گیا کہ ریاست اسرائیل کوئی غلط کام نہیں کر سکتی، کہ ہم ہر لحظہ بڑھتی ہوئی عفریت کے خلاف غیر مختتم جدوجہد میں داؤدؑ ہیں، کہ ہمیں بچانے کے لیے وہاں اوپر کوئی نہیں بیٹھا ہوا… ایک ایسا احساس جسے ہمارے درمیان بسنے والے ہولوکاسٹ سے بچے ہوئے لوگوں نے تقویت دی۔ ہم اسرائیلیوں کی نئی نسل ہیں۔ اسرائیل دو ہزار برس تک جلاوطن رہنے تک دوبارہ زندہ ہوا۔ ہمیں بحیثیت مجموعی ایک قوم کا مقدر سونپا کیا گیا۔ ہماری فوج کے کمانڈر چیمپئن کہلاتے تھے، نہ کہ جنرل۔ ہمارے راہنما ایک عظیم جہاز کے کپتان تھے۔ میں موساد کی اعلیٰ ترین ٹیم میں منتخب ہونے پر فخر سے پھولے نہ سمایا۔ لیکن موساد کے اندر مجھے مسخ شدہ آئیڈیلز اور خود پسندانہ تجربیت ہی دیکھنے کو ملی جسے نام نہاد طمع، لالچ اور انسانی زندگی کے لیے عدمِ احترام نے دوچند کر دیا۔ یہی اس کہانی کو بیان کرنے کا محرک ہے۔ مَیں یہ کتاب لکھ کر ایک آزاد اور منصفانہ اسرائیل سے محبت میں ہی اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہوں۔ میں ان لوگوں سے دوبدو ہو رہا ہوں جنہیں نے صیہونی خواب کو ایک دہشت ناک صورت دے دی۔ میں مزید خاموش نہیں رہ سکتا، اور نہ ہی مصنوعی نام اور مبہم تفصیلات کا پردہ ڈال کر اس کتاب کی معتبریت کو داؤ پر لگا سکتا ہوں (البتہ میں نے فیلڈ میں سرگرم کچھ موساد افسروں کی سلامتی کے پیش نظر ان کے نام مخفف کی صورت میں ہی لکھے ہیں۔
بقول جولیئس سیزر: پانسہ پھینک دیا گیا ہے۔‘‘