تقسیم ہند کے تناظر میں لکھے جانے والے ناولوں اور افسانوں کے تناظر میں خوشونت سنگھ کا یہ ناول ’ٹرین ٹو پاکستان‘ اپنے سکیل، تاثر کی شدت، تیکھے احساس اور وسعت و گہرائی کی وجہ سے بے مثال ہے۔ مصنف اُس زمانے کا چشم دِید گواہ تھا اور خود بھی اِس ’اُجاڑے‘ کی زد میں آیا۔ اُس نے محبت اور سمجھوتے کے ساتھ رہتے آ رہے سکھوں اور مسلمانوں کو یکایک سفاک قاتلوں کا روپ اختیار کرتے دیکھا، تاریخ، دھرتی اور محبتوں میں دراڑیں پیدا ہونے کا براہِ راست مشاہدہ کیا جنھیں پُر کرنے کی کوئی بھی کوشش مزید نقصان دِہ ثابت ہو گی کیونکہ قوموں اور لوگوں کا مزاج انسان دوست بنانے اور سنوارنے میں کئی پشتوں کا عرصہ لگ جاتا ہے، جبکہ ایک دو واقعات کے ذریعے یا کوئی ہولناک دِن اُسے بگاڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
اِس ناول کا مرکزی کردار جگت سنگھ عرف جگّا ایک تنومند، تیز مزاج، لاپروا، غیر متعصب، بہادر اور افسر شاہی کی ان دیکھی زنجیروں میں بندھا ہوا لاچار ’بدمعاش‘ ہے۔ افسر شاہی کا نمائندہ مجسٹریٹ اور تھانیدار نوآبادیاتی نظام کے نمائندے بن کر مسلمانوں اور سکھوں کے معاملات نمٹاتے ہیں۔ 1947ء میں جو کچھ ہندوستان اور پاکستان کی ریاستی سطح پر ہو رہا تھا، وہی کچھ چھوٹے سے سرحدی گاؤں منوماجرا میں بھی جاری تھا۔ آخر میں جگّا مہاجرین کو لے کر پاکستان جاتی ہوئی ٹرین کو بلوے کے منصوبے سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں اُسی تلے آکر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ اُس کی محبوبہ نوراں دونوں کی محبت کی نشانی لے کر پاکستان نامی نئے ملک کی طرف چلی جاتی ہے۔ جگّا پنجاب ہے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ ناول تقسیم ہند کے خلاف نہیں، بلکہ تاریخ کے پہیے تلے کچلی گئی دھرتی اور عام لوگوں پر گزرنے والی ہولناکی کا بیان ہے۔ سرحدیں ایسے ہی بنا کرتی ہیں!
اِس ناول کے سابق تراجم میں بہت سا مواد حذف کر دیا گیا۔ دستیاب تراجم کا اصل متن سے موازنہ کیا تو پتا چلا کہ 170-180 صفحے کے اِس ناول میں کہیں سے پندرہ اور کہیں سے دس صفحے حذف کر دیے گئے۔ پیراگرافس کو توڑنے، پوائنٹ سائز بڑھانے، اضافی مضامین شامل کرنے اور لائنوں کے درمیان فاصلہ بڑھانے کے ذریعے مواد کی کمی پوری کی گئی۔ ان تمام کوتاہیوں کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔