اگر آپ سے ایک نئی دنیا بنانے یا ایک بہتر خیالی دنیا کا خاکہ پیش کرنے کا کہا جائے تو وہ کن آئیڈیلز سے قریب ہو گی؟ کیا آپ نسل پرستی، جنگوں اور طبقاتی کشمکش سے بھرپور دنیا کا تصور کرنا چاہیں گے، یا ایسی دنیا کا جس میں سماجی انصاف، برابری، جمہوریت، امن اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کا انتظام ہو؟
اس کتاب کی بدولت ہم اس قسم کے سوالات پر نئے سرے سے سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ کیا دنیا میں طبقات ختم ہو گئے؟ کیا جمہوریت انسانیت کی آخری منزل ہے؟ کیا ہم فطرت کو تسخیر کرنے کے عمل میں اِسے تباہ کرتے ہیں؟ کیا تعصب اور ناانصافی کا تدارک کرنے کی کوئی صورت موجود ہے؟ کیا ایک خیالی دنیا کا تصور نقصان دہ اور حقیقت سے فرار کے مترادف ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا نظریاتی سوچ ایک ماضی کی اور فرسودہ بات بن چکی ہے؟
ٹیری ایگلٹن (پیدائش 1943ء) برطانوی ادبی نظریہ دان، نقاد، دانشور اور لنکاسٹر یونیورسٹی میں انگلش ادب کا ممتاز پروفیسر ہے۔ اب تک اُس کی چالیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں سے Literary Theory: An Introduction (1983ء) خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کی ساڑھے سات لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ دیگر اہم کتب میں The Illusions of Postmodernism(1996ء) اور After Theory (2003ء) شامل ہیں۔ گزشتہ دس سال کے دوران اُس نے اوسطاً ایک کتاب سالانہ لکھی ہے۔ وہ کارنیل، ڈیوک، آئیووا، ملبورن، اور ییل یونیورسٹیوں میں بھی لیکچر دیتے ہیں۔