فرانز کافکا کا ناول ’’دی ٹرائل‘‘ (Der Prozess، تصنیف 1914-15ء) تپ دق کے باعث اس کی موت کے فوراً بعد شائع ہوا حالانکہ اس نے ہدایت کی تھی کہ اس کی تمام تحریروں کو ’’بغیر پڑھے جلا دیا جائے۔‘‘ لیکن اس کے ناول نگار دوست میکس براڈ نے درست فیصلہ کیا کہ ان زبردست تحریروں کو کسی بھی صورت میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
آنے والی نسل نے میکس براڈ کو الزام نہیں دیا، جو بہرصورت اچھی طرح جانتا تھا کہ کافکا اس معاملے میں دو متضاد جذبات کا حامل تھا۔ شاید اس نے مایوس کن طور پرمحسوس کیا ہو کہ اس کا ’’پیغام‘‘ بہت زیادہ منفی تھا۔ 1930ء میں جب سکاٹش شاعر ایڈوِن مِیُور اور اس کی ناول نگاربیوی وِلا نے ’’دی ٹرائل‘‘ کا پہلی مرتبہ ترجمہ کیا تو اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ آج تقریباً 85 سال بعد کے ناظرین بے شمار فلموں، ریڈیو پروگراموں اور ٹیلی وژن ڈراموں کے ذریعہ اس سے واقف ہیں۔
’’دی ٹرائل‘‘ نے بہت سے لوگوں کے سوچنے کا انداز بدلا۔ شروع میں ’’دانشوروں‘‘ نے ہی کافکا کو زیادہ سراہا لیکن آہستہ آہستہ یہ واضح ہوتا گیا کہ کافکا نے خود بھی ایک دانشور ہونے کے باوجود تمام لوگوں کے احساسات کے بارے میں بھی لکھا۔
فرانز کافکا پراگ (چیکوسلوواکیہ) کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا (1883ء)۔ اس کا باپ ایک خوش حال تاجر تھا۔ وہ سینہ زوری کرنے والا، درشت، تندرست، بیہودہ اور تند مزاج بھی تھا۔ فرانز کی تینوں بہنیں ہٹلر کے کیمپوں میں ماری گئی تھیں۔ وہ اپنے باپ سے خوف کھاتا تھا، لیکن اس میں باپ کے خلاف جذبات ظاہر کرنے کی ہمت نہ تھی۔ فرانز کافکا نے نہایت منظم انداز میں سکول کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد قانون کا مطالعہ کیا اورڈگری حاصل کی۔ پھر پراگ کی جرمن یونیورسٹی میں ادب پڑھا (1901-6ء)۔ اس نے 1904ء میں لکھنا شروع کیا اور تقریباً اسی دور میں مہلک بیماری کا شکار ہوا۔