ہم میں سے ہر شخص تھوڑی سی مدت کے لیے وجود میں آیا ہے، اور اس مدت میں ساری کائنات کے محض ایک چھوٹے سے حصے کو جانچتا ہے۔ لیکن بنی نوع انسان ایک متجسس نوع ہیں۔ ہم غوروفکر کرتے اور جواب ڈھونڈتے ہیں۔ کبھی مہربان اور کبھی ظالم اس وسیع و عریض دنیا میں زندگی گزارتے اور اوپر بے پایاں آسمانوں کو تکتے ہوئے لوگوں نے ہمیشہ بہت سے سوالات پوچھے ہیں: ہم اس دنیا کی تفہیم کیسے کر سکتے ہیں جس میں خود کو پاتے ہیں؟ کائنات کا طرز عمل کیا ہے؟ حقیقت کی نوعیت کیا ہے؟ یہ سب کہاں سے آیا؟ کیا کائنات کو ایک خالق کی ضرورت تھی؟ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنا زیادہ تر وقت ان سوالات کے متعلق غوروفکر کرنے میں نہیں گزارتے، لیکن ہم تقریباً سبھی کسی نہ کسی وقت ان کے متعلق پریشان ضرور ہوتے ہیں۔
سٹیفن ہاکنگ اِس کتاب میں سائنس کے اِن سوالات پر فلسفیانہ انداز میں بحث کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’روایتی طور پر یہ فلسفے کے سوالات ہیں، لیکن فلسفہ مر چکا ہے۔ فلسفہ جدید سائنس، بالخصوص فزکس میں ہونے والی جدید پیش رفت کے ساتھ نہیں چل سکا۔ ہماری جستجوئے علم میں دریافت کی مشعل سائنس دانوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ اس کتاب کا مقصد حالیہ دریافتوں اور تھیوریٹیکل پیش رفت کے باعث اٹھنے والے جوابات پیش کرنا ہے۔‘‘