ول ڈیورانٹ مشہور کتب ”Story of Civilization“ اور ”Story of Philosophy“ کا مصنف ہونے کے باوجود مؤرخ یا فلسفی ہونے کا دعوے دار نہیں تھا۔ تاریخ و فلسفے کی سنجیدہ اور تحقیقی کتب میں اس کی تحریروں کے حوالے بھی کم ہی ملیں گے۔ شاید اس کا مقام وہی ہے جو سائنس میں کارل ساگاں کا۔ ہم اس کی سائنسی کامیابیوں یا کارناموں یا تحقیقات کے متعلق کچھ نہیں جانتے، لیکن اس نے سائنس کو عوام تک سادہ اور خوب صورت انداز میں پہنچایا اور مقبول بنانے میں کردار ادا کیا۔ یہاں ول ڈیورانٹ کے نکتۂ نظر کا مختصر سا جائزہ پیش کرنا مقصود ہے۔
یہ کتاب دراصل ’’تہذیب کی کہانی‘‘ کی پہلی چھے جلدوں کا خلاصہ ہے جو مصنف نے زندگی کے آخری برسوں میں ’’ہیروز آف ہسٹری‘‘ کے نام سے خود کیا۔ چونکہ اب ’’تہذیب کی کہانی‘‘ مکمل ترجمہ اور شائع کی جا رہی ہے تو اِسے بھی متروک شمار کرنا چاہیے۔