جلال الدین رومی کے والد بہاء الدین ایک مشہور صوفی، مصنف اور استاد تھے۔ کافی حد تک منگولوں کی آمد کے خطرے کے پیش نظر بہاءالدین کے خاندان نے 1218ء کے قریب اپنا آبائی قصبہ چھوڑا۔ ایک کہانی کے مطابق نیشاپور میں خاندان کی ملاقات فرید الدین عطار سے ہوئی جس نے نوجوان جلال الدین کو دعا دی۔ حج بیت اللہ اور مشرق وسطیٰ بھر میں سفر کے بعد بہاء الدین اور اُن کے اہل خانہ اناطولیہ (روم) پہنچے جہاں سلجوق سلطنت کی حکومت کے ماتحت امن اور خوش حالی کا راج تھا۔ کرمان میں قیام کے دوران جلال الدین کی ماں فوت ہو گئی اور اُن کا پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ 1228ء میں اُنھیں دارالحکومت قونیہ بلایا گیا۔ یہاں بہاءالدین نے ایک مدرسے میں تعلیم دی اور 1231ء میں اُن کی وفات کے بعد جلال الدین نے یہ عہدہ سنبھالا۔ ایک سال بعد بہاءالدین کا ایک شاگرد برہان الدین محقق قونیہ پہنچا اور جلال الدین کو ایران میں پنپنے والے باطنی نظریات سے تفصیلی تعارف کروایا۔
رومی کا مرکزی کام ’’مثنوی معنوی‘‘ اُسی کے زیر اثر تخلیق ہوئی۔ حسام الدین نے اُنھیں شعرا عطار اور صناعی کے نمونے کی پیروی کرنے کا کہا تھا جنھوں نے طویل نظموں میں باطنی تعلیمات پیش کیں۔ جلال الدین نے آنے والے برسوں میں حسام الدین کے کہنے پر مثنوی کے تقریباً 26,000 اشعار لکھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حسام الدین کے ہمراہ اپنے اشعار حماموں اور سڑکوں پر بھی گاتے پھرتے۔
حکایاتِ سعدی کی طرح رومی کی یہ حکایات بھی دیسی تعلیم میں فارسی کے عمل دخل کی بدولت ہماری اجتماعی دانش میں سرایت کر چکی ہیں۔ بلکہ کچھ ایک حکایات تو لطیفوں کی صورت میں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ اِس کتاب میں ہم نے ان کی 105 دلچسپ منتخب حکایات کا ترجمہ پیش کیا ہے جو انگلش میں مریم مافی نے مرتب کیا تھا۔ ترجمے کے دوران دیگر انگلش اور اردو تراجم بھی پیش نظر رہے، مثلاً قاضی سجاد حسین کا تین جلدوں پر مشتمل ترجمہ۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی گنجور ویب سائیٹ پر موجود متن سے بھی استفادہ کیا گیا۔
ہمارا مقصد قارئین اور طلبا کے لیے آسان فہم، رواں اور جدید ترجمہ مہیا کرنا ہے۔ محقق حضرات کے لیے فارسی متن گنجور کی ویب سائیٹ پر دستیاب ہے جس میں ہر ہر حکایت کے متعدد قلمی نسخوں کا تقابل بھی پیش کیا گیا ہے۔ قبل ازیں شائع ہونے والے تقریباً سبھی تراجم نہایت ناقص انداز میں شائع کیے گئے اور اغلاط سے بھرپور ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ترجمے اور انتخاب میں کسی قسم کا کوئی تعصب یا ذاتی پسند کو بیچ میں نہ لایا جائے۔