موسیٰ سے لے کر لینن تک کے سوشلسٹ یا یوٹوپیائی تصورات اور تھیوریز کے تعارف و تنقید پر مشتمل اس کتاب کو شائع ہوئے تقریباً پون صدی گزر چکی ہے۔ اردو میں لکھنے والے سوشلسٹ فکر کے مخالفین کو تاریخ کا مطالعہ کرنے یا اس موضوع پر کتب کا ترجمہ کرنے /لکھنے کی کبھی پروا نہیں رہی، مگر بائیں بازو کے دانشوروں نے بھی شاید قصداً اِس کتاب کو اردو قارئین تک پہنچانے سے گریز کیا۔ البتہ سبط حسن کی کتاب کو ’’موسیٰ سے مارکس تک‘‘ کو اسی کا فیضان قرار دیا جا سکتا ہے۔
محترم دوست اشفاق سلیم مرزا نے اِس کتاب کا ترجمہ کرنے کی تجویز دی جو شاید خود تنقیدی کے حد سے بڑھے ہوئے جوش اور سابق سوشلسٹ نظریات پر پچھتاوے کا نتیجہ ہو جس کا رجحان آج کل بائیں بازو کے سینئر حضرات میں غالب ہے (چاہے وہ حضرات خود کبھی عملی سوشلسٹ کارکن نہ بھی رہے ہوں)۔
یہ کتاب اپنے پڑھنے والوں سے توقع کرتی ہے کہ وہ اردو زبان میں فلسفہ پڑھنے کا جذبہ تو رکھتے ہی ہوں گے۔ مجھے یہ کتاب مکمل کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا اور موضوعات بہت دقیق اور اندازِ تحریر نہایت الجھا ہوا ہونے کی وجہ سے کوشش کے باوجود روزانہ ایک دو صفحات سے سے زیادہ کام نہ کر سکا، اور وہ بھی وقفوں وقفوں سے۔ بہرحال میں نے اصل متن کے ساتھ پورا انصاف برتنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور کہیں سے کوئی حصہ حذف کرنے سے گریز کیا۔