پاکستان میں جاگیرداری سماج کی بنیادیں کمزور پڑنے کی وجہ سے جہاں عورت روایتی پردے سے باہر نکلی وہاں سرمایہ دارانہ تقاضوں کے مطابق عملی میدان میں بھی آئی۔ چند دہائیاں قبل عورتوں کا نوکری کرنا برا سمجھا جاتا تھا تو آج اس کی کمائی کو بے برکت خیال کیا جاتا ہے۔ شہری خواتین کا تعلیم اور ملازمت پر حق کچھ حد تک گوارہ کیا جا چکا ہے، لیکن سماجی رویوں میں تبدیلی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ آج کی عورت زیادہ مسائل میں گھر گئی ہے۔ گھریلو ذمہ داریوں کے علاوہ اب اسے معاشی ذمہ داریاں بھی قبول کرنا پڑ رہی ہیں۔

ہمارے عہد کی عورت کو کیا مسائل درپیش ہیں؟ اس کی موجودہ صورت کے پیچھے کیا کیا عوامل ہیں؟ وہ کن راہوں پر چل کر انسانی حیثیت حاصل کر سکتی ہے؟ اس جیسے ہی بہت سے سوالات پر زیرنظر کتاب میں بحث کی گئی ہے۔ مصنفہ نے یہ کتاب 1948ء میں فرانس کی صورتحال کو مد نظر رکھ کر لکھی تھی۔ پچاس سال پہلے کا فرانس عورت کے لیے سماجی اعتبار سے ہمارے موجودہ ملک سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ اس وقت وہاں جاگیرداری نظام اور اس کے ساتھ ساتھ خاندان ٹوٹ رہا تھا۔ عورت عملی میدان میں حصہ لینے لگی تھی، اسقاط حمل غیر قانونی جبکہ امتناع حمل قانونی تھا۔ حیض اور جنسی سرگرمیاں نیبوز کا شکار تھیں، آزاد محبت کا تو پرچار کیا جاتا تھا لیکن جنسی فعل ممنوع تھا، بڑے شہروں میں قحبہ خانے قائم تھے وغیرہ۔ البتہ کچھ لحاظ سے ہمارا آج کا معاشرہ پچاس سال پہلے کے فرانسیسی معاشرے سے زیادہ پسماندہ ہے۔ مثلاً یہاں پردے کی روایت (کم از کم متوسط طبقے میں) موجود ہے، اور خاندان کی صورت بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ دوسرا بڑا فرق یہ ہے کہ فرانس میں سیمون موجود تھی۔ اس کتاب کا ترجمہ اسی فرق کو دور کرنے کی خاطر کیا گیا۔

مصنفہ کے خیال میں مرد نے عورت کو پابند اور محتاج بنا کر اپنے لیے بھی مشکلات پیش کرلی ہیں۔ لہٰذا مرد عورت کو آزاد کر کے خود بھی آزاد ہوگا۔ ایک قدیم داستان میں نن ہور سگ نامی دیوی نے انکی کو بددعا دی تھی ’’جب تک تو مرے گا نہیں، میں تجھے زندگی کی آنکھوں سے نہیں دیکھوں گی۔‘‘ سیمون کے مطابق آج کی عورت بھی ’’مرد‘‘ کے مرنے کی منتظرہے۔ شاید وہ اسے خود نہیں مار سکتی۔