یہ کتاب فرائیڈ کی تھیوریز کے نقطہ ہائے آغاز لیے ہوئے ہے۔ اِس میں بیسویں صدی کے بہت سے نظریات کے بیج موجود ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور حرکات و سکنات میں لاشعور کی کارفرمائی کی طرف اشارے کرتا ہے۔ متواتر گھٹنا ہلانا، جیب میں سِکّے چھنکانا، بٹن متواتر کھولنا اور بند کرنا، لباس سنوارتے رہنا، اکثر کچھ بھول جانا یا کچھ متواتر بلاوجہ یاد آنا، کوئی عدد اکثر زبان پر آنا، زبان پھسلنا، لکھتے وقت کسی لفظ کو بدل دینا، مُونچھوں کو بَل دینا، ہاتھ میں پکڑی چھڑی سے کھیلنا، یہ احساس ہونا کہ آپ یہ حرکت پہلے بھی کر چکے ہیں، پنسل سے آڑی ترچھی لائنیں لگانا وغیرہ سب مختلف نوعیت کے اعصابی و نفسیاتی عوامل رکھتے ہیں۔

فرائیڈ کوئی قطعی آرا یا فیصلے دینے کی بجائے متعدد مثالیں پیش کرتا اور اُن کی ممکنہ وضاحت دیتا ہے۔ آپ اُسے نہایت راست گو اور ایمان دار پائیں گے۔ وہ کہتا ہے: ’’میرا مقصد صرف اور صرف روزمرہ زندگی سے مثالیں جمع کرنا اور اُنھیں سائنسی تحقیق کے ماتحت لانا ہے۔‘‘ وہ قاری کو اپنے اوپر غور کرنا سکھاتا ہے، کیونکہ ’’بیان نہ کیے گئے جذبات کبھی نہیں مرتے۔ وہ زندہ درگو ہو جاتے ہیں اور بعد ازاں زیادہ بدنما طریقوں سے سامنے آتے رہیں گے۔‘‘

فرائیڈ 1856ء میں موراویا میں پیدا ہوا، چار تا اٹھائیس سال کی عمر ویانا میں گزاری۔ 1938ء میں آسٹریا پر ہٹلر کی یلغار کے بعد لندن میں پناہ لی اور اگلے سال وہیں پر فوت ہوا۔ اُس کا کیریئر اعصابی نظام کی اناٹومی اور فزیالوجی پر عمدہ کام سے شروع ہوا۔ تیس سال کی عمر میں اُس کی توجہ ایک دم نفسیات کی طرف ہو گئی اور تقریباً دس سال بعد تحلیلی نفسیات نامی تھیوری کی بنیاد رکھی جس میں گفتگو کے ذریعے ذہن کی کارفرمائیوں تک پہنچا جاتا تھا۔ اُس کی اپنی زندگی میں کوئی بڑا واقعہ نہ ہوا لیکن اُس کے خیالات نے بہت سے فکری شعبوں کے علاوہ بیسویں صدی کی عقلی فضا کو بھی متاثر کیا۔