یہ بتانے کے لیے کسی سند یا حوالے کی ضرورت نہیں کہ اسلام میں عورت کا وظیفہ تولید اور افزائش نسل، جبکہ مرد کا وظیفہ گھر کو چلانا اور خاندان کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ مردوں کو دو دو تین تین اور چار چار شادیاں کرنے اور نافرمان بیوی کو سمجھانے بستر سے الگ کرنے اور پھر مارنے پیٹنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسلام کے مطابق عورتوں کو اپنی زینت اور جسم کے خدوخال ڈھانپنے چاہئیں، بلاوجہ مردوں کے سامنے آنا اور بات کرنا حرام ہیم عورت یا لڑکی کو اسلام کے دائرے میں لانے کے لیے طالبان کے اقدامات بہت سخت گیر سہی، لیکن کافی حد تک اسلامی تعلیمات اور افغانی معاشرے کے مطابق تھے۔

آسٹریلوی صحافی جیرالڈین بروکس کی یہ کتاب اسلامی اور بالخصوص عرب ممالک میں مذہبی قواعد کی وجہ سے عورتوں کی زندگیوں میں پیدا ہونے والے حالات کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ نام نہاد مسلم امہ عورتوں کے بنیادی مسئلے پر کس قدر تفاوت رکھتی ہے اور کیسے نفاذ اسلام کی کوششوں نے ہمیشہ عورتوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔

مصنفہ نے تقریباً سات نہایت اہم سال (1987-94ء) مشرق قریب کے مختلف ممالک، مثلاً ایران، سعودی عرب، اردن، عراق، کویت اور مصر میں بطور صحافی ملازمت کرتے ہوئے گزارے۔ اس نے مذہبی اور ثقافتی بندھنوں اور روایات کی وجہ سے مسلمان عورتوں کو درپیش مسائل کا تجزیہ ایک سفرنامے کی صورت میں کیا ہے۔ وہ ہمیں ایک سیربین کی طرح مسلمان ممالک کی عورتوں کی زندگی کی مختلف جھلکیاں دکھاتی اور کچھ دہکتے ہوئے سوالات پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔