نوبیل انعام کا اجرا سویڈن کے الفرڈ نوبیل (پیدائش 1833ء) نے کیا۔ اُس نے انیسویں صدی کے وسط میں ڈائنامائیٹ ایجاد کرنے کے ذریعے دولت کمائی تھی۔ 1888ء میں ایک فرانسیسی اخبار الفرڈ نوبیل کی نے وفات کی خبر ان الفاظ میں شائع کی تھی: ’’ہلاک کرنے کے تیز ترین طریقے ایجاد کر کے امیر ہونے والا ڈاکٹر الفرڈ نوبیل گزشتہ روز فوت ہو گیا۔‘‘ الفرڈ نوبیل نے اپنا یہ وفات نامہ خود پڑھا۔ دراصل اُس کے بھائی لڈوِگ کی موت کو اخبار نے غلطی سے الفرڈ کی موت سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کے نتیجے میں الفرڈ نوبیل کو یہ اندازہ ہوا کہ مرنے کے بعد دنیا اُسے کس حوالے سے یاد رکھے گی۔ لہٰذا اُس نے موت سے ایک سال قبل 1895ء میں اپنی وصیت تیار کروائی جس میں خواہش ظاہر کی کہ ’’میری تمام قابلِ فروخت جائیداد سے انعامات دینے کے لیے ایک فنڈ قائم کر دیا جائے۔ یہ انعامات دیتے وقت امیدواروں کی قومیت کا خیال نہ رکھا جائے۔‘‘
1901ء سے لے کر 2017ء تک 110 نوبیل انعام برائے ادب دیے جا چکے ہیں، لیکن چار برس میں دو ادیبوں کو مشترکہ طور پر انعام دیے جانے کے باعث کل 114 ادیبوں نے یہ انعام حاصل کیا ہے۔ ممالک کے اعتبار سے نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی تقسیم یوں ہے: فرانس 13، امریکہ 10، برطانیہ 8، جرمنی 8، روس 7، سویڈن 7، اٹلی 6، سپین 5، آئرلینڈ، پولینڈ، ڈنمارک چار چار، جبکہ جاپان، جنوبی افریقہ، چلی، چین، کینیڈا، ناروے، ہنگری اور یونان کو دو دو انعامات ملے ہیں۔ ایک ایک انعام حاصل کرنے والے 22 ممالک درج ذیل ہیں: آسٹریا، آئس لینڈ، بلجیم، بلغاریہ، بوسنیا، پرتگال، پروشیا، پیرو، ترک،ٹرینی ڈیڈ، الجیریا، چیکوسلوواکیہ، رومانیہ، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، کولمبیا، گوئٹے مالا، مصر، میکسیکو، نائجیریا، ہندوستان، ویسٹ انڈیز۔
اس کتاب کا مقصد نوبیل انعام یافتہ ادیبوں کی زندگی،کام اور خاندانی و سیاسی و فکری پس منظر کا نہایت مختصر تعارف پیش کرنا ہے۔ یہ قارئین کو ان نمائندہ افراد کی تحریروں کی جانب مائل کرنا کا نہایت بنیادی قدم ہے۔